Laqad kafaral lazeena qaalooo innal laaha Huwal maseehub nu Maryama wa qaalal Maseehu yaa Baneee Israaa`eela budul laaha Rabbee wa Rabbakum innnahoo many-yushrik ballaahi faqad harramal laahu `alaihil jannata wa maa waahun Naaru wa maa lizzaalimeena min ansaar
📖 ترجمہ (اردو ترجمہ)
📖 اردو ترجمہ
وہ لوگ بےشبہ کافر ہیں جو کہتے ہیں کہ مریم کے بیٹے (عیسیٰ) مسیح خدا ہیں حالانکہ مسیح یہود سے یہ کہا کرتے تھے کہ اے بنی اسرائیل خدا ہی کی عبادت کرو جو میرا بھی پروردگار ہے اور تمہارا بھی (اور جان رکھو کہ) جو شخص خدا کے ساتھ شرک کرے گا خدا اس پر بہشت حرام کر دے گا اور اس کا ٹھکانہ دوزخ ہے اور ظالموں کا کوئی مددگار نہیں
🌐 Additional reference in فارسی
🌐 فارسی
به تحقيق آنان كه گفتند كه خدا همان مسيح پسر مريم است، كافر شدند. مسيح گفت: اى بنى اسرائيل، اللّه پروردگار من و پروردگار خود را بپرستيد. زيرا هر كس كه براى خداوند شريكى قرار دهد خدا بهشت را بر او حرام كند، و جايگاه او آتش است و ستمكاران را ياورى نيست.
وہ لوگ بےشبہ کافر ہیں جو کہتے ہیں کہ مریم کے بیٹے (عیسیٰ) مسیح خدا ہیں حالانکہ مسیح یہود سے یہ کہا کرتے تھے کہ اے بنی اسرائیل خدا ہی کی عبادت کرو جو میرا بھی پروردگار ہے اور تمہارا بھی (اور جان رکھو کہ) جو شخص خدا کے ساتھ شرک کرے گا خدا اس پر بہشت حرام کر دے گا اور اس کا ٹھکانہ دوزخ ہے اور ظالموں کا کوئی مددگار نہیں
الْمَسِيحُ: حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا لقب، جس کا مطلب ہے "مبارک" یا "چھونے والا"۔
حَرَّمَ اللَّهُ عَلَيْهِ الْجَنَّةَ: اللہ نے اس پر جنت کو حرام کر دیا، یعنی اسے جنت میں داخل ہونے سے روک دیا۔
مَأْوَاهُ: اس کا ٹھکانہ، اس کا مسکن۔
أَنصَارٍ: مددگار، نجات دینے والے۔
تفسیر:
اللہ تعالیٰ اس آیت میں سختی سے فرماتا ہے کہ جن لوگوں نے یہ کہا کہ اللہ خود مسیح ابن مریم ہیں، وہ یقیناً کافر ہو گئے۔ یہ عیسائیوں کا عقیدہ ہے، جو اللہ کی ذات کے بارے میں انتہائی غلط اور گمراہ کن ہے۔ اللہ تعالیٰ اس بات کو واضح کر رہے ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام خود اس عقیدے سے بری تھے۔ انہوں نے اپنی قوم بنی اسرائیل سے کہا: "اے بنی اسرائیل! اللہ کی عبادت کرو، جو میرا رب بھی ہے اور تمہارا رب بھی۔" یعنی عیسیٰ علیہ السلام نے خود کو اللہ کا بندہ اور رسول بتایا، نہ کہ اللہ کا ہمزاد یا بیٹا۔ وہ اپنی امت کو توحید کی دعوت دیتے تھے، نہ کہ شرک کی۔
پھر اللہ تعالیٰ ایک اہم اصول بیان فرماتا ہے: جو شخص اللہ کے ساتھ کسی اور کو شریک ٹھہرائے، اللہ نے اس پر جنت حرام کر دی ہے۔ یعنی اس کے لیے جنت کا دروازہ بند ہے، اور اس کا آخری ٹھکانہ جہنم کی آگ ہے۔ ایسے ظالموں کا کوئی مددگار نہیں ہوگا جو انہیں اس عذاب سے بچا سکے۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ توحید ہی نجات کی کنجی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے انبیاء کو ہمیشہ توحید کی دعوت دینے کے لیے بھیجا، اور ہر نبی نے اپنی امت سے یہی کہا کہ صرف اللہ کی عبادت کرو۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام بھی اس سلسلے کی ایک کڑی تھے، انہوں نے کبھی اپنے آپ کو خدا نہیں کہا۔ آج بھی ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے عقیدے کو قرآن اور سنت کی روشنی میں درست کریں، اور کسی بھی مخلوق کو اللہ کا ہم مرتبہ نہ بنائیں۔ اللہ کی رحمت بہت وسیع ہے، لیکن شرک ایسا گناہ ہے جو اللہ معاف نہیں فرماتا جب تک بندہ اس سے توبہ نہ کرے۔ آئیے ہم سب اپنے ایمان کی حفاظت کریں اور اللہ سے جنت کی دعا کریں، جو اس کے متقی بندوں کے لیے تیار کی گئی ہے۔
ہم نے بنی اسرائیل سے عہد بھی لیا اور ان کی طرف پیغمبر بھی بھیجے (لیکن) جب کوئی پیغمبر ان کے پاس ایسی باتیں لےکر آتا جن کو ان کے دل نہیں چاہتے تھے تو وہ (انبیاء کی) ایک جماعت کو تو جھٹلا دیتے اور ایک جماعت کو قتل کر دیتے تھے
اور خیال کرتے تھے کہ (اس سے ان پر) کوئی آفت نہیں آنے کی تو وہ اندھے اور بہرے ہو گئے پھر خدا نے ان پر مہربانی فرمائی (لیکن) پھر ان میں سے بہت سے اندھے اور بہرے ہو گئے اور خدا ان کے سب کاموں کو دیکھ رہا ہے
وہ لوگ بےشبہ کافر ہیں جو کہتے ہیں کہ مریم کے بیٹے (عیسیٰ) مسیح خدا ہیں حالانکہ مسیح یہود سے یہ کہا کرتے تھے کہ اے بنی اسرائیل خدا ہی کی عبادت کرو جو میرا بھی پروردگار ہے اور تمہارا بھی (اور جان رکھو کہ) جو شخص خدا کے ساتھ شرک کرے گا خدا اس پر بہشت حرام کر دے گا اور اس کا ٹھکانہ دوزخ ہے اور ظالموں کا کوئی مددگار نہیں
وہ لوگ (بھی) کافر ہیں جو اس بات کے قائل ہیں کہ خدا تین میں کا تیسرا ہے حالانکہ اس معبود یکتا کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں اگر یہ لوگ ایسے اقوال (وعقائد) سے باز نہیں آئیں گے تو ان میں جو کافر ہوئے ہیں وہ تکلیف دینے والا عذاب پائیں گے
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔