Wa hasibooo allaa takoona fitnaun fa`amoo wa sammoo summa taabal laahu `alaihim summa `amoo wa sammoo kaseerum minhum; wallaahu baseerum bimaa ya`maloon
📖 ترجمہ (اردو ترجمہ)
📖 اردو ترجمہ
اور خیال کرتے تھے کہ (اس سے ان پر) کوئی آفت نہیں آنے کی تو وہ اندھے اور بہرے ہو گئے پھر خدا نے ان پر مہربانی فرمائی (لیکن) پھر ان میں سے بہت سے اندھے اور بہرے ہو گئے اور خدا ان کے سب کاموں کو دیکھ رہا ہے
🌐 Additional reference in فارسی
🌐 فارسی
و پنداشتند كه عقوبتى نخواهد بود. پس كور و كر شدند. آنگاه خدا توبهشان بپذيرفت. باز بسيارى از آنها كور و كر شدند. هر چه مىكنند خدا مىبيند.
اور خیال کرتے تھے کہ (اس سے ان پر) کوئی آفت نہیں آنے کی تو وہ اندھے اور بہرے ہو گئے پھر خدا نے ان پر مہربانی فرمائی (لیکن) پھر ان میں سے بہت سے اندھے اور بہرے ہو گئے اور خدا ان کے سب کاموں کو دیکھ رہا ہے
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
فِتْنَۃٌ: عذاب، آزمائش، سزا۔
فَعَمُوا: وہ اندھے ہو گئے (حق دیکھنے سے محروم ہو گئے)۔
وَصَمُّوا: وہ بہرے ہو گئے (حق سننے سے محروم ہو گئے)۔
تَابَ اللہُ عَلَیْہِمْ: اللہ نے ان کی توبہ قبول فرمائی۔
تفسیر:
یہ آیت بنی اسرائیل کے ان گمراہ لوگوں کے بارے میں ہے جنہوں نے اللہ کے عہد و میثاق کو توڑا، اللہ کے رسولوں کی تکذیب کی اور انہیں قتل کیا۔ انہوں نے یہ خیال کیا کہ ان کے ان گناہوں پر انہیں کوئی عذاب یا سزا نہیں دی جائے گی، کوئی آزمائش ان پر نہیں آئے گی۔ یہ ان کی نادانی اور غرور تھا۔ نتیجتاً وہ حق سے اندھے ہو گئے، ہدایت کی راہ نہ دیکھ سکے، اور حق سننے سے بہرے ہو گئے، یعنی ان کے دل و دماغ پر مہر لگ گئی۔
پھر جب اللہ نے ان پر اپنا عذاب نازل کیا تو وہ ڈر گئے اور توبہ کی، تو اللہ نے اپنے فضل و کرم سے ان کی توبہ قبول فرمائی۔ لیکن اس کے بعد بھی ان میں سے بہت سے لوگ پھر سے اندھے اور بہرے ہو گئے، یعنی انہوں نے حق کو قبول نہ کیا، ہدایت سے منہ موڑ لیا۔ یہ ان کی سرکشی اور ضد تھی۔ اللہ تعالیٰ ان کے تمام اعمال سے خوب واقف ہے، خواہ وہ نیک ہوں یا بد، اور وہ انہیں ان کے اعمال کا پورا پورا بدلہ دے گا۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں بہت بڑا سبق ملتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر بہت مہربان ہے، وہ توبہ قبول فرماتا ہے، چاہے گناہ کتنے ہی بڑے کیوں نہ ہوں۔ لیکن ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ اللہ کی پکڑ بھی بہت سخت ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے گناہوں پر فوراً توبہ کریں اور اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہوں۔ ساتھ ہی یہ بھی خیال رکھیں کہ اللہ سے دھوکہ نہ کھائیں، کیونکہ وہ ہر چیز کو دیکھ رہا ہے اور ہمارے اعمال کا حساب لینے والا ہے۔ آئیے ہم اپنی زندگیوں کو اللہ کی اطاعت میں گزاریں اور اپنے دلوں کو ایمان کی روشنی سے منور کریں، تاکہ ہم اندھے اور بہرے نہ ہوں بلکہ حق کو دیکھنے والے اور سننے والے بنیں۔
جو لوگ خدا پر اور روز آخرت پر ایمان لائیں گے اور عمل نیک کریں گے خواہ وہ مسلمان ہوں یا یہودی یا ستارہ پرست یا عیسائی ان کو (قیامت کے دن) نہ کچھ خوف ہو گا اور نہ غمناک ہوں گے
ہم نے بنی اسرائیل سے عہد بھی لیا اور ان کی طرف پیغمبر بھی بھیجے (لیکن) جب کوئی پیغمبر ان کے پاس ایسی باتیں لےکر آتا جن کو ان کے دل نہیں چاہتے تھے تو وہ (انبیاء کی) ایک جماعت کو تو جھٹلا دیتے اور ایک جماعت کو قتل کر دیتے تھے
اور خیال کرتے تھے کہ (اس سے ان پر) کوئی آفت نہیں آنے کی تو وہ اندھے اور بہرے ہو گئے پھر خدا نے ان پر مہربانی فرمائی (لیکن) پھر ان میں سے بہت سے اندھے اور بہرے ہو گئے اور خدا ان کے سب کاموں کو دیکھ رہا ہے
وہ لوگ بےشبہ کافر ہیں جو کہتے ہیں کہ مریم کے بیٹے (عیسیٰ) مسیح خدا ہیں حالانکہ مسیح یہود سے یہ کہا کرتے تھے کہ اے بنی اسرائیل خدا ہی کی عبادت کرو جو میرا بھی پروردگار ہے اور تمہارا بھی (اور جان رکھو کہ) جو شخص خدا کے ساتھ شرک کرے گا خدا اس پر بہشت حرام کر دے گا اور اس کا ٹھکانہ دوزخ ہے اور ظالموں کا کوئی مددگار نہیں
وہ لوگ (بھی) کافر ہیں جو اس بات کے قائل ہیں کہ خدا تین میں کا تیسرا ہے حالانکہ اس معبود یکتا کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں اگر یہ لوگ ایسے اقوال (وعقائد) سے باز نہیں آئیں گے تو ان میں جو کافر ہوئے ہیں وہ تکلیف دینے والا عذاب پائیں گے
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔