مائدہ · 82/120
ترجمہ تلفظ — مائدہ
۞ لَتَجِدَنَّ أَشَدَّ ٱلنَّاسِ عَدَٰوَةً لِّلَّذِينَ ءَامَنُواْ ٱلۡيَهُودَ وَٱلَّذِينَ أَشۡرَكُواْۖ وَلَتَجِدَنَّ أَقۡرَبَهُم مَّوَدَّةً لِّلَّذِينَ ءَامَنُواْ ٱلَّذِينَ قَالُوٓاْ إِنَّا نَصَٰرَىٰۚ ذَٰلِكَ بِأَنَّ مِنۡهُمۡ قِسِّيسِينَ وَرُهۡبَانًا وَأَنَّهُمۡ لَا يَسۡتَكۡبِرُونَ  ۝٨٢
Latajidanna ashad dan naasi `adaawatal lillazeena aamanul Yahooda wallazeena ashrakoo wa latajidanna aqrabahum mawaddatal lil lazeena aamanul lazeena qaalooo innaa Nasaaraa; zaalika bi anna mminhum qiseeseena wa ruhbaananw wa annahum laa yastakbiroon
📖 اردو ترجمہ
(اے پیغمبرﷺ!) تم دیکھو گے کہ مومنوں کے ساتھ سب سے زیادہ دشمنی کرنے والے یہودی اور مشرک ہیں اور دوستی کے لحاظ سے مومنوں سے قریب تر ان لوگوں کو پاؤ گے جو کہتے ہیں کہ ہم نصاریٰ ہیں یہ اس لیے کہ ان میں عالم بھی ہیں اور مشائخ بھی اور وہ تکبر نہیں کرتے
📜

ترجمہ — Tafsir

معانی الفاظ:

  • قِسِّیسین: علماءِ دین (نصرانی علماء)
  • رُهبان: عبادت گزار، زاہد، گوشہ نشین
  • لا یستکبرون: تکبر نہیں کرتے، حق قبول کرنے سے سرکشی نہیں کرتے

تفسیرِ آیہ:

اے نبیِ کریم ﷺ! آپ یقیناً پائیں گے کہ سب سے زیادہ شدید دشمنی ایمان لانے والوں سے یہود کرتے ہیں اور ان کے ساتھ مشرکین (بت پرست) بھی ہیں۔ یہود کی عداوت اس لیے انتہا کو پہنچی ہوئی ہے کہ وہ عناد، حسد اور کبر کی وجہ سے حق کو قبول نہیں کرتے، اور جب حق ان کے سامنے آتا ہے تو وہ اسے ماننے سے انکار کر دیتے ہیں۔ مشرکین بھی اپنے بتوں اور جھوٹے معبودوں کی وجہ سے اہلِ ایمان کے دشمن ہیں۔

لیکن دوسری طرف آپ یہ بھی پائیں گے کہ ایمان لانے والوں کے ساتھ سب سے زیادہ قریب اور محبت رکھنے والے وہ لوگ ہیں جو کہتے ہیں: "ہم نصرانی ہیں۔" ان کی محبت کی وجہ یہ ہے کہ ان میں سے کچھ عالمِ دین (قسسین) ہیں اور کچھ عبادت گزار (رہبان) ہیں، اور وہ تکبر نہیں کرتے۔ تکبر ہی وہ چیز ہے جو انسان کو حق قبول کرنے سے روکتی ہے، لیکن یہ لوگ اپنے تواضع اور انکساری کی وجہ سے حق کو سننے اور ماننے کے لیے تیار رہتے ہیں۔

یہاں اس بات کا ذکر ہے کہ جب نصرانیوں میں سے سچے علماء اور عبادت گزار حق کی روشنی دیکھتے ہیں تو وہ اسے قبول کر لیتے ہیں، جیسے حبشہ کے بادشاہ نجاشی اور ان کے ساتھیوں نے اسلام قبول کیا۔ یہ وہ لوگ تھے جنہوں نے نبی کریم ﷺ کی صداقت کو پہچانا اور ایمان لے آئے۔

دعوتی پہلو:

اس آیت میں ہمارے لیے بہت بڑا سبق ہے کہ حق قبول کرنے کے لیے سب سے بڑی رکاوٹ تکبر ہے۔ جو شخص اپنے علم، مال، مرتبے یا قوم پر گھمنڈ کرتا ہے، وہ حق کو قبول نہیں کر سکتا۔ لیکن جو دل میں عاجزی اور انکساری رکھتا ہے، وہ ہدایت پاتا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے دلوں سے تکبر نکالیں اور حق کو قبول کرنے کے لیے ہمیشہ تیار رہیں۔ نیز ہمیں یہ بھی سیکھنا چاہیے کہ دوسروں کے ساتھ محبت اور نرمی سے پیش آئیں، کیونکہ محبت اور نرمی دلوں کو جیتنے کا بہترین ذریعہ ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں حق قبول کرنے کی توفیق دے اور تکبر سے بچائے۔ آمین۔

🎧 سنیں

📜 آیت 80-84 — مائدہ

80تَرَىٰ كَثِيرًا مِّنۡهُمۡ يَتَوَلَّوۡنَ ٱلَّذِينَ كَفَرُواْۚ لَبِئۡسَ مَا قَدَّمَتۡ لَهُمۡ أَنفُسُهُمۡ أَن سَخِطَ ٱللَّهُ عَلَيۡهِمۡ وَفِي ٱلۡعَذَابِ هُمۡ خَٰلِدُونَ 
تم ان میں سے بہتوں کو دیکھو گے کہ کافروں سے دوستی رکھتے ہیں انہوں نے جو کچھ اپنے واسطے آگے بھیجا ہے برا ہے (وہ یہ) کہ خدا ان سے ناخوش ہوا اور وہ ہمیشہ عذاب میں (مبتلا) رہیں گے
81وَلَوۡ كَانُواْ يُؤۡمِنُونَ بِٱللَّهِ وَٱلنَّبِيِّ وَمَآ أُنزِلَ إِلَيۡهِ مَا ٱتَّخَذُوهُمۡ أَوۡلِيَآءَ وَلَٰكِنَّ كَثِيرًا مِّنۡهُمۡ فَٰسِقُونَ 
اور اگر وہ خدا پر اور پیغمبر پر اور جو کتاب ان پر نازل ہوئی تھی اس پر یقین رکھتے تو ان لوگوں کو دوست نہ بناتے لیکن ان میں اکثر بدکردار ہیں
82۞ لَتَجِدَنَّ أَشَدَّ ٱلنَّاسِ عَدَٰوَةً لِّلَّذِينَ ءَامَنُواْ ٱلۡيَهُودَ وَٱلَّذِينَ أَشۡرَكُواْۖ وَلَتَجِدَنَّ أَقۡرَبَهُم مَّوَدَّةً لِّلَّذِينَ ءَامَنُواْ ٱلَّذِينَ قَالُوٓاْ إِنَّا نَصَٰرَىٰۚ ذَٰلِكَ بِأَنَّ مِنۡهُمۡ قِسِّيسِينَ وَرُهۡبَانًا وَأَنَّهُمۡ لَا يَسۡتَكۡبِرُونَ 
(اے پیغمبرﷺ!) تم دیکھو گے کہ مومنوں کے ساتھ سب سے زیادہ دشمنی کرنے والے یہودی اور مشرک ہیں اور دوستی کے لحاظ سے مومنوں سے قریب تر ان لوگوں کو پاؤ گے جو کہتے ہیں کہ ہم نصاریٰ ہیں یہ اس لیے کہ ان میں عالم بھی ہیں اور مشائخ بھی اور وہ تکبر نہیں کرتے
83وَإِذَا سَمِعُواْ مَآ أُنزِلَ إِلَى ٱلرَّسُولِ تَرَىٰٓ أَعۡيُنَهُمۡ تَفِيضُ مِنَ ٱلدَّمۡعِ مِمَّا عَرَفُواْ مِنَ ٱلۡحَقِّۖ يَقُولُونَ رَبَّنَآ ءَامَنَّا فَٱكۡتُبۡنَا مَعَ ٱلشَّٰهِدِينَ 
اور جب اس (کتاب) کو سنتے ہیں جو (سب سے پہلے) پیغمبر (محمدﷺ) پر نازل ہوئی تو تم دیکھتے ہو کہ ان کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو جاتے ہیں اس لیے کہ انہوں نے حق بات پہچان لی اور وہ (خدا کی جناب میں) عرض کرتے ہیں کہ اے پروردگار ہم ایمان لے آئے تو ہم کو ماننے والوں میں لکھ لے
84وَمَا لَنَا لَا نُؤۡمِنُ بِٱللَّهِ وَمَا جَآءَنَا مِنَ ٱلۡحَقِّ وَنَطۡمَعُ أَن يُدۡخِلَنَا رَبُّنَا مَعَ ٱلۡقَوۡمِ ٱلصَّٰلِحِينَ 
اور ہمیں کیا ہوا ہے کہ خدا پر اور حق بات پر جو ہمارے پاس آئی ہے ایمان نہ لائیں اور ہم امید رکھتے ہیں کہ پروردگار ہم کو نیک بندوں کے ساتھ (بہشت میں) داخل کرے گا
مائدہقرآن فہرست
120آیت
مدنیRevelation
82آیت

ترجمہ — مائدہ 82

سورہ آیت 82/120 — مائدہ المائدة (مدنی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: مائدہ سنیں, مائدہ ترجمہ, مائدہ mp3, مائدہ pdf. آیت 80–84. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں