مائدہ · 83/120
ترجمہ تلفظ — مائدہ
وَإِذَا سَمِعُوا مَا أُنزِلَ إِلَى الرَّسُولِ تَرَىٰ أَعْيُنَهُمْ تَفِيضُ مِنَ الدَّمْعِ مِمَّا عَرَفُوا مِنَ الْحَقِّ ۖ يَقُولُونَ رَبَّنَا آمَنَّا فَاكْتُبْنَا مَعَ الشَّاهِدِينَ ۝٨٣
Wa izaa sami`oo maaa unzila ilar Rasooli taraaa a`yunahum tafeedu minad dam`i mimmmaa `arafoo minalhaqq; yaqooloona Rabbanaaa aamannaa faktubnaa ma`ash shaahideen
📖 اردو ترجمہ
اور جب اس (کتاب) کو سنتے ہیں جو (سب سے پہلے) پیغمبر (محمدﷺ) پر نازل ہوئی تو تم دیکھتے ہو کہ ان کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو جاتے ہیں اس لیے کہ انہوں نے حق بات پہچان لی اور وہ (خدا کی جناب میں) عرض کرتے ہیں کہ اے پروردگار ہم ایمان لے آئے تو ہم کو ماننے والوں میں لکھ لے
📜

ترجمہ — Tafsir

معانی الفاظ:

  • تَفِيضُ مِنَ الدَّمْعِ: آنسوؤں سے بہہ نکلنا، یعنی آنکھوں سے آنسو جاری ہو جانا۔
  • الشَّاهِدِينَ: گواہوں کے ساتھ، اس سے مراد امتِ محمدیہ ہے جو قیامت کے دن تمام امتوں پر گواہ ہوگی۔

تفسیرِ آیہ:

یہ آیت ان نیک دل لوگوں کا ذکر کر رہی ہے جن کے دلوں میں حق کی پہچان اور قبولیت کی توفیق تھی۔ جب یہ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہونے والا قرآن سنتے تھے، تو ان کی آنکھیں آنسوؤں سے بہہ نکلتی تھیں، کیونکہ وہ حق کو پہچان چکے تھے۔ یہ وہ لوگ تھے جنہوں نے پہلے سے تورات اور انجیل میں نبی آخر الزمان کی نشانیاں پڑھ رکھی تھیں، اس لیے جب انہوں نے قرآن سنا تو ان کے دلوں نے فوراً اس کی صداقت کو قبول کر لیا اور ان کی آنکھوں سے خوفِ خدا اور محبتِ رسول کے آنسو جاری ہو گئے۔

یہ واقعہ نجاشی کے وفد کا ہے جو حبشہ سے آیا تھا۔ انہوں نے جب قرآن سنا تو ان کی آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے اور انہوں نے زبان سے اقرار کیا: "اے ہمارے رب! ہم ایمان لے آئے، تو ہمیں ان گواہوں کے ساتھ لکھ لے۔" یعنی انہوں نے دعا کی کہ اے اللہ! ہمیں امتِ محمدیہ کے ساتھ شامل فرما، جو قیامت کے دن تمام امتوں پر گواہی دے گی کہ ان کے رسولوں نے ان تک اللہ کا پیغام پہنچا دیا تھا۔

یہ آیت ہمیں سکھاتی ہے کہ ایمان کی حلاوت اور قرآن کی تلاوت کا اثر دل کی نرمی اور آنکھوں کے آنسو ہیں۔ جب دل میں حق کی پہچان ہو اور سچائی کی محبت ہو تو قرآن سن کر آنکھیں خود بخود اشک بار ہو جاتی ہیں۔ یہی وہ نشانی ہے جو مومن کے دل کی پہچان ہے۔

دعوتی پہلو:

اس آیت سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ قرآن سننے کا صحیح اثر دل کی نرمی اور آنکھوں کے آنسو ہیں۔ آج ہم قرآن پڑھتے ہیں، سنتے ہیں، مگر کیا ہمارے دلوں پر اس کا وہ اثر ہوتا ہے جو صحابہ اور ان نیک لوگوں پر ہوا تھا؟ کیا ہماری آنکھیں اس کی عظمت سے اشک بار ہوتی ہیں؟ ہمیں چاہیے کہ قرآن کو تدبر اور خشوع کے ساتھ پڑھیں، تاکہ ہمارے دلوں میں بھی وہی نرمی پیدا ہو اور ہم بھی ان گواہوں میں شامل ہو سکیں جن کا ذکر اللہ نے اس آیت میں کیا ہے۔ اللہ ہمیں توفیق دے کہ ہم قرآن کو سمجھ کر پڑھیں اور اس پر عمل کریں۔ آمین۔

🎧 سنیں

📜 آیت 81-85 — مائدہ

81وَلَوْ كَانُوا يُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَالنَّبِيِّ وَمَا أُنزِلَ إِلَيْهِ مَا اتَّخَذُوهُمْ أَوْلِيَاءَ وَلَٰكِنَّ كَثِيرًا مِّنْهُمْ فَاسِقُونَ
اور اگر وہ خدا پر اور پیغمبر پر اور جو کتاب ان پر نازل ہوئی تھی اس پر یقین رکھتے تو ان لوگوں کو دوست نہ بناتے لیکن ان میں اکثر بدکردار ہیں
82۞ لَتَجِدَنَّ أَشَدَّ النَّاسِ عَدَاوَةً لِّلَّذِينَ آمَنُوا الْيَهُودَ وَالَّذِينَ أَشْرَكُوا ۖ وَلَتَجِدَنَّ أَقْرَبَهُم مَّوَدَّةً لِّلَّذِينَ آمَنُوا الَّذِينَ قَالُوا إِنَّا نَصَارَىٰ ۚ ذَٰلِكَ بِأَنَّ مِنْهُمْ قِسِّيسِينَ وَرُهْبَانًا وَأَنَّهُمْ لَا يَسْتَكْبِرُونَ
(اے پیغمبرﷺ!) تم دیکھو گے کہ مومنوں کے ساتھ سب سے زیادہ دشمنی کرنے والے یہودی اور مشرک ہیں اور دوستی کے لحاظ سے مومنوں سے قریب تر ان لوگوں کو پاؤ گے جو کہتے ہیں کہ ہم نصاریٰ ہیں یہ اس لیے کہ ان میں عالم بھی ہیں اور مشائخ بھی اور وہ تکبر نہیں کرتے
83وَإِذَا سَمِعُوا مَا أُنزِلَ إِلَى الرَّسُولِ تَرَىٰ أَعْيُنَهُمْ تَفِيضُ مِنَ الدَّمْعِ مِمَّا عَرَفُوا مِنَ الْحَقِّ ۖ يَقُولُونَ رَبَّنَا آمَنَّا فَاكْتُبْنَا مَعَ الشَّاهِدِينَ
اور جب اس (کتاب) کو سنتے ہیں جو (سب سے پہلے) پیغمبر (محمدﷺ) پر نازل ہوئی تو تم دیکھتے ہو کہ ان کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو جاتے ہیں اس لیے کہ انہوں نے حق بات پہچان لی اور وہ (خدا کی جناب میں) عرض کرتے ہیں کہ اے پروردگار ہم ایمان لے آئے تو ہم کو ماننے والوں میں لکھ لے
84وَمَا لَنَا لَا نُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَمَا جَاءَنَا مِنَ الْحَقِّ وَنَطْمَعُ أَن يُدْخِلَنَا رَبُّنَا مَعَ الْقَوْمِ الصَّالِحِينَ
اور ہمیں کیا ہوا ہے کہ خدا پر اور حق بات پر جو ہمارے پاس آئی ہے ایمان نہ لائیں اور ہم امید رکھتے ہیں کہ پروردگار ہم کو نیک بندوں کے ساتھ (بہشت میں) داخل کرے گا
85فَأَثَابَهُمُ اللَّهُ بِمَا قَالُوا جَنَّاتٍ تَجْرِي مِن تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ خَالِدِينَ فِيهَا ۚ وَذَٰلِكَ جَزَاءُ الْمُحْسِنِينَ
تو خدا نے ان کو اس کہنے کے عوض (بہشت کے) باغ عطا فرمائے جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں وہ ہمیشہ ان میں رہیں گے اور نیکو کاروں کا یہی صلہ ہے
مائدہقرآن فہرست
120آیت
مدنیRevelation
83آیت

ترجمہ — مائدہ 83

سورہ مائدہ آیت 83 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : اور جب اس (کتاب) کو سنتے ہیں جو (سب سے…

سورہ آیت 83/120 — مائدہ المائدة (مدنی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: مائدہ سنیں, مائدہ ترجمہ, مائدہ mp3, مائدہ pdf. آیت 81–85. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں