ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- بِالْحَقِّ: اس سے مراد قرآن کریم ہے۔
- مَرِیجٍ: مضطرب، الجھا ہوا، بے ترتیب اور خلط ملط۔
تفسیر:
ان مشرکین کا حال یہ ہے کہ جب ان کے پاس حق (قرآن) آیا تو انہوں نے اسے جھٹلا دیا۔ وہ اس پر غور و فکر نہیں کرتے، نہ اسے سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ چنانچہ وہ ایک ایسے معاملے میں الجھے ہوئے ہیں جو بالکل مضطرب اور بے ترتیب ہے۔ کبھی کہتے ہیں یہ شعر ہے، کبھی کہتے ہیں یہ کہانت ہے، کبھی جادو کہتے ہیں، کبھی افسانے کہتے ہیں۔ ان کا کوئی موقف ثابت نہیں، نہ کسی بات پر ان کا دل جمتا ہے، نہ کسی رائے پر قائم رہتے ہیں۔ ان کا ایمان اور یقین کا نظام تباہ ہو چکا ہے، اس لیے وہ ہر لمحہ ایک نئی بات کہتے ہیں اور ہر بار ایک نئی الجھن میں مبتلا ہوتے ہیں۔
یہ کیفیت اس شخص کی ہوتی ہے جس نے حق کو قبول نہ کیا ہو۔ حق ایک واضح اور روشن راستہ ہے، جسے اختیار کرنے والا سکون اور استقامت پاتا ہے۔ لیکن جس نے حق کو ٹھکرایا، وہ ہمیشہ تذبذب اور اضطراب کا شکار رہتا ہے۔ اس کی زندگی میں کوئی استحکام نہیں ہوتا، کیونکہ اس نے اپنے لیے وہ بنیاد ہی نہیں رکھی جس پر وہ کھڑا ہو سکے۔
دعوتی پہلو:
اس آیت میں ہمارے لیے بہت بڑا سبق ہے کہ حق کو قبول کرنے میں ہی سکون اور استقامت ہے۔ جب انسان قرآن کو قبول کر لیتا ہے تو اس کی زندگی میں ایک واضح راہ نکل آتی ہے، اس کا دل مطمئن ہو جاتا ہے اور وہ ہر معاملے میں ثابت قدم رہتا ہے۔ قرآن وہ حق ہے جو ہمیں سکون، رحمت اور کامیابی کی طرف لے جاتا ہے۔ آئیے ہم اس حق کو کھلے دل سے قبول کریں اور اس پر عمل کرتے ہوئے اپنی زندگیوں کو سنواریں، تاکہ ہم اضطراب اور الجھنوں سے نجات پا سکیں۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن کو ہدایت اور رحمت بنا کر بھیجا ہے، جو اسے مضبوطی سے تھام لے گا وہ کبھی گمراہ نہیں ہوگا۔
📜 آیت 3-7 — ق
ترجمہ — ق 5
سورہ ق آیت 5 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : بلکہ (عجیب بات یہ ہے کہ) جب ان کے پاس…سورہ آیت 5/45 — ق ق (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: ق سنیں, ق ترجمہ, ق mp3, ق pdf. آیت 3–7. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








