ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- فَأَخْرَجْنَا: ہم نے نکال لیا
- مَنْ كَانَ فِيهَا: جو لوگ اس بستی میں موجود تھے
- مِنَ الْمُؤْمِنِينَ: ایمان والوں میں سے
تفسیر:
اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے حضرت لوط علیہ السلام کی بستی والوں کے انجام کو بیان فرمایا ہے۔ جب عذاب کا فیصلہ آگیا اور فرشتے حضرت لوط علیہ السلام کے پاس پہنچے، تو اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل و کرم سے ان لوگوں کو اس بستی سے نکال لیا جو ایمان رکھتے تھے۔ یعنی حضرت لوط علیہ السلام اور ان کے اہلِ ایمان ساتھیوں کو محفوظ کر لیا گیا، تاکہ وہ اس عذاب سے بچ جائیں جو مجرموں پر نازل ہونے والا تھا۔
یہ اللہ تعالیٰ کی سنت ہے کہ وہ اپنے بندوں کو عذاب سے پہلے نکال لیتا ہے یا انہیں محفوظ رکھتا ہے۔ ایمان والوں کے لیے اللہ کی حفاظت یقینی ہے، چاہے وہ کسی بھی بستی میں ہوں۔ اس آیت سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ ایمان ہی وہ مضبوط رسی ہے جو انسان کو اللہ کے عذاب سے بچاتی ہے۔ جس طرح حضرت لوط علیہ السلام کی بستی میں صرف چند مومنین تھے، لیکن اللہ نے انہیں عذاب سے بچا لیا، اسی طرح آج بھی جو لوگ سچے دل سے ایمان رکھتے ہیں اور نیک عمل کرتے ہیں، اللہ انہیں اپنی حفاظت میں رکھتا ہے۔
یہ آیت ہمیں بتاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے مومن بندوں کو کبھی تنہا نہیں چھوڑتا۔ چاہے حالات کتنے ہی مشکل ہوں، اللہ کی مدد ضرور آتی ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے ایمان کو مضبوط کریں، نیک لوگوں کی صحبت اختیار کریں اور اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہوں۔ کیونکہ اللہ کا فضل ہر چیز پر غالب ہے، اور وہ اپنے بندوں کو ہمیشہ راہِ نجات دکھاتا ہے۔
📜 آیت 33-37 — ذاریات
ترجمہ — ذاریات 35
سورہ ذاریات آیت 35 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : تو وہاں جتنے مومن تھے ان کو ہم نے نکال…سورہ آیت 35/60 — ذاریات الذاريات (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: ذاریات سنیں, ذاریات ترجمہ, ذاریات mp3, ذاریات pdf. آیت 33–37. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








