ترجمہ — Tafsir
اللہ تعالیٰ ہی سب کا رزق دینے والا ہے، وہی اپنی مخلوقات کی روزی کا ذمہ دار ہے، اور وہی قوت والا ہے، مضبوط اور ناقابلِ شکست ہے۔
معانی الفاظ:
- الرَّزَّاقُ: ہر مخلوق کو رزق دینے والا، جو اپنی مخلوقات کی روزی کا انتظام فرماتا ہے۔
- ذُو الْقُوَّةِ: قوت والا، جس کی قوت کو کوئی چیز مغلوب نہیں کر سکتی۔
- الْمَتِينُ: سخت مضبوط، جس کی قوت انتہائی پختہ اور کامل ہو، جسے کوئی کمزور نہیں کر سکتا۔
تفسیر:
اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں اپنی ذات کے دو عظیم صفات بیان فرمائے ہیں: رزاقیت اور قوت۔ اللہ ہی واحد رزاق ہے، یعنی وہی ہے جو تمام مخلوقات کو رزق دیتا ہے، خواہ وہ انسان ہوں، جنات ہوں، جانور ہوں یا کوئی اور مخلوق۔ ہر ذی روح کی روزی اللہ کے ذمے ہے، اور وہ اپنی حکمت کے مطابق ہر ایک کو اس کی ضرورت کے مطابق رزق عطا فرماتا ہے۔ کوئی بھی مخلوق اس کے رزق سے بے نیاز نہیں، اور نہ ہی کوئی اس کے رزق کو روک سکتا ہے۔
ساتھ ہی اللہ تعالیٰ نے اپنی قوت کا ذکر فرمایا کہ وہ ذو القوة المتین ہے، یعنی وہ کامل قوت والا ہے، اس کی قوت ناقابلِ شکست ہے، کوئی اسے مغلوب نہیں کر سکتا، نہ کوئی اس کی مشیت کو روک سکتا ہے۔ تمام جن و انس، تمام مخلوقات، سب اس کی قوت کے سامنے عاجز اور خاضع ہیں۔ اس کی قوت سے کوئی چیز باہر نہیں، اور اس کی گرفت سے کوئی بچ نہیں سکتا۔
اس آیت کا سیاق و سباق بھی بہت اہم ہے، کیونکہ اس سے پہلے اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ میں نے جن اور انس کو صرف اپنی عبادت کے لیے پیدا کیا ہے، اور میں ان سے کوئی رزق نہیں چاہتا، نہ یہ چاہتا ہوں کہ وہ مجھے کھلائیں۔ پھر فرمایا کہ اللہ ہی رزاق ہے، قوت والا ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ اپنی مخلوقات سے بے نیاز ہے، وہ ان کے رزق کا ذمہ دار ہے، انہیں اس کی عبادت کا حکم دیا گیا ہے تاکہ وہ فلاح پائیں، نہ کہ اللہ کو ان سے کوئی فائدہ پہنچے۔
دعوتی پہلو:
اس آیت میں ایمان کی مضبوطی کا بہترین درس ہے۔ جب ہمیں یقین ہو کہ اللہ ہی رزاق ہے، تو پھر ہمیں رزق کے حصول میں صرف اللہ پر بھروسہ کرنا چاہیے، نہ کہ مخلوقات کی طرف سے ڈرنا یا ان سے امیدیں باندھنا۔ جو شخص اللہ پر توکل کرتا ہے، اللہ اس کے لیے کافی ہے۔ نیز یہ آیت ہمیں بتاتی ہے کہ اللہ کی قوت کامل ہے، اس لیے ہمیں کسی مخلوق سے نہیں ڈرنا چاہیے، بلکہ صرف اللہ سے ڈرنا چاہیے اور اسی کی اطاعت کرنی چاہیے۔ جب ہم اللہ کی عبادت کریں گے اور اس کے احکام پر عمل کریں گے، تو وہ ہمیں رزق دے گا، جیسا کہ فرمایا: "جو شخص اللہ سے ڈرے، اللہ اس کے لیے راستہ نکال دے گا اور اسے ایسی جگہ سے رزق دے گا جہاں سے اسے گمان بھی نہ ہو" (الطلاق: 2-3)۔
یہ آیت ہمیں یہ بھی سکھاتی ہے کہ ہماری زندگی کا مقصد صرف اللہ کی عبادت ہے، اور اللہ ہمیں رزق دے کر اس عبادت میں مدد فرماتا ہے۔ لہٰذا ہمیں رزق کی فکر میں عبادت سے غافل نہیں ہونا چاہیے، بلکہ عبادت کو اپنا اصل مقصد بنانا چاہیے، اور اللہ پر بھروسہ رکھنا چاہیے کہ وہ ہمیں رزق دے گا۔ یہی ایمان کی مضبوطی اور فلاح کا راستہ ہے۔
📜 آیت 56-60 — ذاریات
ترجمہ — ذاریات 58
سورہ ذاریات آیت 58 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : خدا ہی تو رزق دینے والا زور آور اور مضبوط…سورہ آیت 58/60 — ذاریات الذاريات (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: ذاریات سنیں, ذاریات ترجمہ, ذاریات mp3, ذاریات pdf. آیت 56–60. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








