ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- سُلَّم: سیڑھی، وہ ذریعہ جس سے اوپر چڑھا جائے۔
- یَسْتَمِعُونَ فِیهِ: جس کے ذریعے وہ (آسمان کی باتوں کو) سنتے ہوں۔
- بِسُلْطَانٍ مُبِین: واضح اور روشن دلیل۔
تفسیر:
یہ آیت ان مشرکینِ مکہ کے بارے میں نازل ہوئی جو رسول اللہ ﷺ کی نبوت اور قرآن کے حق ہونے کا انکار کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ ان سے فرماتا ہے: کیا ان کے پاس کوئی سیڑھی ہے جس پر چڑھ کر وہ آسمان تک پہنچتے ہیں اور وہاں سے وحی یا فرشتوں کی باتیں سن کر یہ ثابت کرتے ہیں کہ وہ حق پر ہیں؟ اگر واقعی ان کا یہ دعویٰ سچ ہے، تو پھر ان میں سے جو شخص یہ دعویٰ کرتا ہے کہ اس نے آسمان سے کوئی بات سنی ہے، اسے چاہیے کہ وہ ایک واضح اور روشن دلیل لے کر آئے جو اس کے دعوے کی تصدیق کرے۔
یہ ایک چیلنج ہے جو ان کے باطل دعووں کو بے نقاب کرتا ہے۔ کیونکہ اگر ان کے پاس کوئی آسمانی ذریعہ ہوتا جس سے وہ وحی سنتے، تو وہ کوئی نہ کوئی دلیل ضرور پیش کرتے، لیکن وہ کبھی کوئی دلیل نہیں لا سکے۔ یہ آیت ان کے جھوٹ اور بے بنیاد موقف کو واضح کرتی ہے۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ حق کا راستہ ہمیشہ واضح دلائل پر مبنی ہوتا ہے۔ اسلام ایک ایسا دین ہے جو عقل و فہم کو مخاطب کرتا ہے اور کبھی بھی بے دلیل دعووں پر مبنی نہیں۔ جب ہم قرآن اور سنت کو دیکھتے ہیں تو ہمیں ہر قدم پر روشن دلائل ملتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام سچا دین ہے — کیونکہ اس کی بنیاد یقین اور برہان پر ہے، نہ کہ اندھی تقلید پر۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے ایمان کو سمجھ کر مضبوط کریں، اور جب کوئی شخص اسلام کے بارے میں سوال کرے تو ہم حکمت اور دلیل کے ساتھ جواب دیں، جیسا کہ اللہ نے اس آیت میں مشرکین کو دلیل طلب کیا۔
📜 آیت 36-40 — طور
ترجمہ — طور 38
سورہ طور آیت 38 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : یا ان کے پاس کوئی سیڑھی ہے جس پر (چڑھ…سورہ آیت 38/49 — طور الطور (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: طور سنیں, طور ترجمہ, طور mp3, طور pdf. آیت 36–40. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








