ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- أَمْ: بل، یا کیا (یہاں استفہام انکاری کے لیے ہے)
- الْبَنَاتُ: بیٹیاں
- الْبَنُونَ: بیٹے
تفسیر:
اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے مشرکینِ عرب کے اس باطل عقیدے کا پردہ فاش کیا ہے جو وہ اللہ کے بارے میں رکھتے تھے۔ وہ کہتے تھے کہ فرشتے اللہ کی بیٹیاں ہیں، حالانکہ خود ان کے ہاں بیٹی کی پیدائش کو باعثِ ذلت سمجھا جاتا تھا اور وہ اس سے شرمندگی محسوس کرتے تھے۔
اللہ تعالیٰ ان سے فرماتا ہے: کیا تمہارے نزدیک یہ ممکن ہے کہ اللہ کے حصے میں وہ بیٹیاں آئیں جنہیں تم خود حقیر جانتے ہو، اور تمہارے لیے وہ بیٹے ہوں جنہیں تم پسند کرتے ہو؟ یہ کیسا ظالمانہ اور بے بنیاد تقسیم ہے! تم اللہ کے لیے وہ چیز ثابت کرتے ہو جو خود اپنے لیے پسند نہیں کرتے۔
یہ آیت مشرکین کے اس موقف کی تردید کرتی ہے جو انہوں نے اپنی جہالت اور کج فکری کی بنا پر تراشا تھا۔ وہ فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں کہتے تھے، حالانکہ وہ خود بیٹیوں کو باعثِ عار سمجھتے تھے۔ یہ ان کی عقل کی کمزوری اور اللہ کے بارے میں ان کے ادب کے فقدان کو ظاہر کرتا ہے۔
اللہ تعالیٰ پاک ہے اس سے جو وہ اس کے بارے میں کہتے ہیں۔ وہ ہر عیب سے منزّہ ہے، اس کی ذات کے لیے کوئی اولاد نہیں، نہ بیٹا نہ بیٹی۔ وہ واحد، بے نیاز اور ہر چیز کا خالق ہے۔
اس آیت سے ہمیں سبق ملتا ہے کہ ہمیں اللہ تعالیٰ کی ذات اور صفات کے بارے میں صرف وہی کہنا چاہیے جو اس نے خود اپنے بارے میں بیان کیا ہے، اور جو اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے بتایا ہے۔ کسی بھی قسم کی جہالت پر مبنی گمان یا قیاس آرائی سے پرہیز کرنا چاہیے، کیونکہ اللہ کی شان اس سے بہت بلند ہے کہ اس کے بارے میں کوئی ناپسندیدہ بات کہی جائے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں توحید خالص پر قائم رہنے کی توفیق دے اور ہمیں شرک اور جہالت سے محفوظ فرمائے۔ آمین۔
📜 آیت 37-41 — طور
ترجمہ — طور 39
سورہ طور آیت 39 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : کیا خدا کی تو بیٹیاں اور تمہارے بیٹےسورہ آیت 39/49 — طور الطور (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: طور سنیں, طور ترجمہ, طور mp3, طور pdf. آیت 37–41. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








