طور · 37/49
ترجمہ تلفظ — طور
أَمْ عِندَهُمْ خَزَائِنُ رَبِّكَ أَمْ هُمُ الْمُصَيْطِرُونَ ۝٣٧
Am`indahum khazaaa`inu rabbika am humul musaitiroon
📖 اردو ترجمہ
کیا ان کے پاس تمہارے پروردگار کے خزانے ہیں۔ یا یہ (کہیں کے) داروغہ ہیں؟
📜

ترجمہ — Tafsir

أَمْ عِندَهُمْ خَزَائِنُ رَبِّكَ أَمْ هُمُ الْمُصَيْطِرُونَ

معانی الفاظ:

  • خَزَائِنُ: خزانے، ذخیرے، رحمت اور رزق کے گودام۔
  • الْمُصَيْطِرُونَ: غالب، حاکم، جبروت والے، جو دوسروں پر اپنا تسلط اور کنٹرول رکھتے ہوں۔

تفسیر:

یہ استفہامِ انکاری ہے، یعنی کیا یہ لوگ واقعی یہ سمجھتے ہیں کہ ان کے پاس آپ کے رب کے خزانے ہیں؟ کیا ان کے پاس رحمت، رزق، نبوت اور علم کے ذخیرے ہیں کہ جسے چاہیں دیں اور جس سے چاہیں روک لیں؟ ہرگز نہیں! یہ سب کچھ صرف اللہ کے قبضۂ قدرت میں ہے، وہی جسے چاہتا ہے عطا کرتا ہے اور جس سے چاہتا ہے روک لیتا ہے۔

پھر فرمایا: کیا یہ لوگ غالب اور متصرف ہیں؟ کیا انہیں کائنات پر کوئی سیطرة حاصل ہے؟ کیا یہ لوگوں پر جبر و تسلط کرنے والے ہیں؟ ہرگز نہیں! یہ تو خود عاجز اور کمزور ہیں، نہ اپنی جان پر اختیار رکھتے ہیں نہ کسی دوسرے پر۔ یہ محض جہالت اور غرور میں مبتلا ہیں جو اپنے آپ کو کچھ سمجھتے ہیں حالانکہ وہ کچھ بھی نہیں۔

اللہ تعالیٰ ان سوالات کے ذریعے ان مشرکین کی حماقت اور جہالت کو بے نقاب فرما رہا ہے جو رسالت اور نبوت پر اعتراض کرتے تھے اور کہتے تھے کہ یہ وحی فلاں شخص پر کیوں نازل ہوئی؟ گویا اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: کیا ان کے پاس میرے خزانے ہیں کہ وہ نبوت تقسیم کریں؟ کیا وہ میرے اختیارات میں شریک ہیں؟ ہرگز نہیں! یہ سب میرے اختیار میں ہے، میں جسے چاہوں اپنی رحمت سے نوازوں۔

دعوتی پہلو:

اس آیت سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہی تمام خزانوں کا مالک ہے، رزق، علم، نبوت، عزت اور ہر چیز اسی کے ہاتھ میں ہے۔ جب ہمیں یہ یقین ہو جائے کہ سب کچھ اللہ کے پاس ہے تو ہم صرف اسی سے مانگیں، اسی سے امید رکھیں اور اسی کے سامنے جھکیں۔ ہمیں اپنی کمزوری اور عاجزی کا احساس ہونا چاہیے اور یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ ہم محض بندے ہیں، خالق اور مالک صرف اللہ ہے۔ جو شخص اپنے رب کے خزانوں پر یقین رکھتا ہے وہ کبھی مایوس نہیں ہوتا، کیونکہ وہ جانتا ہے کہ اس کا رب رحمت اور فضل کا مالک ہے اور وہ جسے چاہے عطا فرماتا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ اپنے رب کے سامنے عاجزی اور انکساری اختیار کریں، اسی سے مدد مانگیں اور اسی کی رحمت کے طلبگار رہیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اپنی رحمت کے خزانوں سے نوازے اور ہمیں اپنے دین پر ثابت قدم رکھے۔ آمین۔

🎧 سنیں

📜 آیت 35-39 — طور

35أَمْ خُلِقُوا مِنْ غَيْرِ شَيْءٍ أَمْ هُمُ الْخَالِقُونَ
کیا یہ کسی کے پیدا کئے بغیر ہی پیدا ہوگئے ہیں۔ یا یہ خود (اپنے تئیں) پیدا کرنے والے ہیں
36أَمْ خَلَقُوا السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ ۚ بَل لَّا يُوقِنُونَ
یا انہوں نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا ہے؟ (نہیں) بلکہ یہ یقین ہی نہیں رکھتے
37أَمْ عِندَهُمْ خَزَائِنُ رَبِّكَ أَمْ هُمُ الْمُصَيْطِرُونَ
کیا ان کے پاس تمہارے پروردگار کے خزانے ہیں۔ یا یہ (کہیں کے) داروغہ ہیں؟
38أَمْ لَهُمْ سُلَّمٌ يَسْتَمِعُونَ فِيهِ ۖ فَلْيَأْتِ مُسْتَمِعُهُم بِسُلْطَانٍ مُّبِينٍ
یا ان کے پاس کوئی سیڑھی ہے جس پر (چڑھ کر آسمان سے باتیں) سن آتے ہیں۔ تو جو سن آتا ہے وہ صریح سند دکھائے
39أَمْ لَهُ الْبَنَاتُ وَلَكُمُ الْبَنُونَ
کیا خدا کی تو بیٹیاں اور تمہارے بیٹے
طورقرآن فہرست
49آیت
مکیRevelation
37آیت

ترجمہ — طور 37

سورہ طور آیت 37 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : کیا ان کے پاس تمہارے پروردگار کے خزانے ہیں۔ یا…

سورہ آیت 37/49 — طور الطور (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: طور سنیں, طور ترجمہ, طور mp3, طور pdf. آیت 35–39. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں