ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- هَبَاءً: غبار، باریک ریزہ۔
- مُنبَثًّا: منتشر، بکھرا ہوا، ہر طرف پھیلا ہوا۔
تفسیر:
جب قیامت کا دن آئے گا تو اللہ تعالیٰ زمین کو اس طرح ہلا ڈالے گا کہ اس میں زلزلہ آ جائے گا، اور پہاڑ اپنی جگہ سے اکھڑ جائیں گے۔ پھر ان پہاڑوں کو اس قدر باریک پیسا جائے گا کہ وہ دھول اور غبار بن جائیں گے، اور پھر یہ غبار ہوا میں اس طرح بکھر جائے گا جیسے سورج کی شعاعوں میں نظر آنے والے باریک ذرات ہر طرف منتشر ہو جاتے ہیں۔ یہ منظر اس بات کا ثبوت ہے کہ اللہ تعالیٰ کی قدرت کے آگے کوئی چیز نہیں ٹھہر سکتی، چاہے وہ پہاڑ جیسی مضبوط چیز ہی کیوں نہ ہو۔
یہ آیت ہمیں یاد دلاتی ہے کہ دنیا کی یہ ظاہری مضبوطیاں اور عظمتیں سب عارضی ہیں۔ جب اللہ کا حکم آئے گا تو سب کچھ مٹی اور غبار بن کر رہ جائے گا۔ اس لیے ہمیں چاہیے کہ ہم اپنی زندگی میں اللہ کی اطاعت کریں، اس کے احکامات پر عمل کریں، اور اس دن کے لیے تیاری کریں جب کوئی مال، اولاد، یا دنیاوی طاقت کام نہ آئے گی۔ یہ منظر ہمیں آخرت کی فکر کرنے اور اپنے اعمال سنوارنے کی دعوت دیتا ہے، تاکہ ہم اس عظیم دن کے حساب سے کامیاب ہو سکیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں توفیق دے کہ ہم اس دن کے لیے بہترین تیاری کریں۔ آمین۔
📜 آیت 4-8 — واقعہ
ترجمہ — واقعہ 6
سورہ واقعہ آیت 6 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : پھر غبار ہو کر اُڑنے لگیںسورہ آیت 6/96 — واقعہ الواقعة (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: واقعہ سنیں, واقعہ ترجمہ, واقعہ mp3, واقعہ pdf. آیت 4–8. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








