اور اگر خدا چاہتا تو یہ لوگ شرک نہ کرتے۔ اور (اے پیغمبر!) ہم نے تم کو ان پر نگہبان مقرر نہیں کیا۔ اور نہ تم ان کے داروغہ ہو
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
حَفِیظًا: نگہبان، نگران، جو اعمال کا حساب رکھے۔
وَکِیل: کارساز، مختار، وہ جو کسی کے معاملات کا ذمہ دار ہو۔
تفسیر آیت:
اس آیتِ کریمہ میں اللہ تعالیٰ اپنے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی اور رہنمائی عطا فرما رہے ہیں۔ ارشاد ہوتا ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ چاہتا کہ یہ مشرکین شرک نہ کریں، تو وہ ہرگز شرک نہ کرتے۔ لیکن اللہ کا ابدی علم اس بات پر مبنی ہے کہ یہ لوگ اپنی گمراہی اور اپنی خواہشاتِ نفسانیہ کو اختیار کریں گے، اس لیے اللہ نے انہیں اختیار دیا اور ان کے شرک کو ان کی اپنی مرضی سے منسوب کیا۔ یہاں یہ حقیقت واضح کی جا رہی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو عقل اور ارادہ دیا ہے، اور وہ اپنے اعمال کا خود ذمہ دار ہے۔
پھر اللہ تعالیٰ اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے فرماتا ہے: "اے رسول! ہم نے آپ کو ان لوگوں کا نگہبان نہیں بنایا جو ان کے اعمال کو محفوظ رکھے اور ان کا حساب لے، اور نہ ہی آپ ان پر وکیل ہیں کہ انہیں زبردستی ایمان پر مجبور کریں۔" آپ کا کام صرف اور صرف تبلیغ ہے، پیغام پہنچا دینا ہے۔ ہدایت دینا اللہ کے ہاتھ میں ہے، اور حساب لینا بھی اللہ ہی کا کام ہے۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں ایک بہت اہم سبق ملتا ہے کہ دینِ اسلام میں جبر اور اکراہ نہیں ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی لوگوں کو زبردستی مسلمان بنانے کا حکم نہیں دیا گیا، بلکہ آپ کا فرض صرف دعوت اور تبلیغ تھا۔ یہ اسلام کی عظمت اور رحمت ہے کہ وہ لوگوں کو سوچنے، سمجھنے اور اپنی مرضی سے ایمان لانے کی دعوت دیتا ہے۔ آج ہمیں بھی اپنے معاشرے میں نرمی، حکمت اور محبت کے ساتھ دعوت دینا چاہیے، نہ کہ جبر اور سختی سے۔ یاد رکھیں! ہدایت دینا اللہ کے ہاتھ میں ہے، ہمارا کام صرف پیغام پہنچانا ہے۔ جب ہم یہ سمجھ لیں گے تو ہماری دعوت میں نرمی اور حکمت پیدا ہوگی، اور لوگ اسلام کی خوبصورتی کو اپنی مرضی سے قبول کریں گے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں عمل کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
اور ہم اسی طرح اپنی آیتیں پھیر پھیر کر بیان کرتے ہیں تاکہ کافر یہ نہ کہیں کہ تم (یہ باتیں اہل کتاب سے) سیکھے ہوئے ہو اور تاکہ سمجھنے والے لوگوں کے لئے تشریح کردیں
اور جن لوگوں کو یہ مشرک خدا کے سوا پکارتے ہیں ان کو برا نہ کہنا کہ یہ بھی کہیں خدا کو بےادبی سے بے سمجھے برا (نہ) کہہ بیٹھیں۔ اس طرح ہم نے ہر ایک فرقے کے اعمال (ان کی نظروں میں) اچھے کر دکھائے ہیں۔ پھر ان کو اپنے پروردگار ک طرف لوٹ کر جانا ہے تب وہ ان کو بتائے گا کہ وہ کیا کیا کرتے تھے
اور یہ لوگ خدا کی سخت سخت قسمیں کھاتے ہیں کہ اگر ان کے پاس کوئی نشانی آئے تو وہ اس پر ضروری ایمان لے آئیں۔ کہہ دو کہ نشانیاں تو سب خدا ہی کے پاس ہیں۔ اور (مومنو!) تمہیں کیا معلوم ہے (یہ تو ایسے بدبخت ہیں کہ ان کے پاس) نشانیاں آ بھی جائیں تب بھی ایمان نہ لائیں
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔