ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- أَحْصَنَتْ فَرْجَهَا: اپنی شرمگاہ کو محفوظ رکھا، یعنی پاک دامن رہیں۔
- فَنَفَخْنَا فِيهِ مِن رُّوحِنَا: ہم نے اس میں اپنی روح (یعنی جبرائیل علیہ السلام کی پھونک) پھونکی۔
- كَلِمَاتِ رَبِّهَا: اپنے رب کے احکام اور شریعت کے احکام۔
- كُتُبِهِ: اللہ کی نازل کردہ کتابیں۔
- الْقَانِتِينَ: اطاعت گزار، فرمانبردار بندے۔
تفسیر:
اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں اہل ایمان کے لیے ایک اور عظیم مثال بیان فرمائی ہے، اور وہ ہیں حضرت مریم بنت عمران علیہا السلام۔ وہ خاتونِ جنت، جن کا ذکر قرآن مجید میں اعلیٰ ترین مقام پر کیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ مریم نے اپنی شرمگاہ کو ہر قسم کی برائی اور گناہ سے محفوظ رکھا، انہوں نے اپنی پاک دامنی اور عصمت کا اس طرح خیال رکھا کہ ان کی زندگی کا کوئی پہلو اس عظیم صفت سے خالی نہیں تھا۔
پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے حکم سے جبرائیل علیہ السلام کو بھیجا، اور انہوں نے مریم کے گریبان میں پھونک ماری، یہ پھونک اللہ کے حکم سے ان کے رحم تک پہنچی، اور اس طرح اللہ کی قدرت کاملہ سے حضرت مریم بغیر باپ کے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی ماں بن گئیں۔ یہ اللہ کی عظیم قدرت کا نمونہ ہے کہ وہ جب چاہتا ہے کسی چیز کو پیدا کر دیتا ہے، اس کے لیے کسی سبب کی ضرورت نہیں ہوتی۔
حضرت مریم علیہا السلام کی دوسری عظیم صفت یہ بیان کی گئی ہے کہ انہوں نے اپنے رب کے تمام احکام اور شریعت کے تمام قوانین کی تصدیق کی، ان پر ایمان لائیں اور ان پر عمل کیا۔ انہوں نے اللہ کی نازل کردہ تمام کتابوں پر ایمان رکھا، چاہے وہ تورات ہو، زبور ہو، انجیل ہو یا دیگر کتب آسمانی۔ وہ ان تمام کتابوں کی تصدیق کرنے والی تھیں۔
اور آخر میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ مریم علیہا السلام ان بندوں میں سے تھیں جو اللہ کے سامنے جھکنے والے، اطاعت گزار اور فرمانبردار تھے۔ وہ اپنے رب کے احکام کی تعمیل کرنے والی، اس کی عبادت میں مشغول رہنے والی اور اس کی رضا کے طلبگار تھیں۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں بہت سے اسباق ملتے ہیں۔ سب سے پہلے یہ کہ پاک دامنی اور عصمت ایک ایسی صفت ہے جو اللہ کو بہت پسند ہے، اور اللہ اپنے پاک دامن بندوں کو عزت عطا فرماتا ہے۔ دوسرا یہ کہ اللہ کی قدرت کے آگے تمام اسباب بے معنی ہیں، وہ جب چاہے معجزاتی انداز میں کام فرما دیتا ہے۔ تیسرا یہ کہ ایمان کا تقاضا صرف زبانی اقرار نہیں بلکہ اللہ کی کتابوں اور احکام کی تصدیق اور ان پر عمل ہے۔ چوتھا یہ کہ اللہ کی اطاعت اور فرمانبرداری ہی وہ راستہ ہے جو انسان کو بلندیوں تک پہنچاتا ہے۔
آئیے ہم بھی حضرت مریم علیہا السلام کی سیرت سے سبق حاصل کریں، اپنی زندگیوں کو پاکیزگی، ایمان اور اطاعت کا نمونہ بنائیں، تاکہ اللہ کی رحمت اور مغفرت کے مستحق بن سکیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں ان پاکیزہ صفات کو اپنانے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
📜 آیت 10-12 — تحریم
ترجمہ — تحریم 12
سورہ تحریم آیت 12 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : اور (دوسری) عمران کی بیٹی مریمؑ کی جنہوں نے اپنی…سورہ آیت 12/12 — تحریم التحريم (مدنی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: تحریم سنیں, تحریم ترجمہ, تحریم mp3, تحریم pdf. آیت 10–12. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








