Wattakhaza qawmu Moosaa mim ba`dihee min huliyyihim `ijlan jasadal lahoo khuwaar; alam yaraw annahoo laa yukallimuhum wa laa yahdeehim sabeelaa; ittakha zoohu wa kaanoo zaalimeen
📖 ترجمہ (اردو ترجمہ)
📖 اردو ترجمہ
اور قوم موسیٰ نے موسیٰ کے بعد اپنے زیور کا ایک بچھڑا بنا لیا (وہ) ایک جسم (تھا) جس میں سے بیل کی آواز نکلتی تھی۔ ان لوگوں نے یہ نہ دیکھا کہ وہ نہ ان سے بات کرسکتا ہے اور نہ ان کو راستہ دکھا سکتا ہے۔ اس کو انہوں نے (معبود) بنالیا اور (اپنے حق میں) ظلم کیا
🌐 Additional reference in فارسی
🌐 فارسی
قوم موسى بعد از او از زيورهايشان تنديس گوسالهاى ساختند كه بانگ مىكرد. آيا نمىبينند كه آن گوساله با آنها سخن نمىگويد و ايشان را به هيچ راهى هدايت نمىكند؟ آن را به خدايى گرفتند و بر خود ستم كردند.
اور قوم موسیٰ نے موسیٰ کے بعد اپنے زیور کا ایک بچھڑا بنا لیا (وہ) ایک جسم (تھا) جس میں سے بیل کی آواز نکلتی تھی۔ ان لوگوں نے یہ نہ دیکھا کہ وہ نہ ان سے بات کرسکتا ہے اور نہ ان کو راستہ دکھا سکتا ہے۔ اس کو انہوں نے (معبود) بنالیا اور (اپنے حق میں) ظلم کیا
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
حُلِيِّهِمْ: ان کے زیورات (سونے کے زیورات)۔
عِجْلًا: بچھڑا (گائے کا بچہ)۔
جَسَدًا: جسم، جس میں روح نہ ہو۔
خُوَارٌ: بیل کی آواز (ڈکارنے کی آواز)۔
لَا يُكَلِّمُهُمْ: ان سے بات نہیں کرتا۔
وَلَا يَهْدِيهِمْ سَبِيلًا: اور نہ ہی انہیں کوئی راستہ دکھاتا ہے۔
تفسیر:
حضرت موسیٰ علیہ السلام جب اپنی قوم سے الگ ہو کر کوہِ طور پر اپنے رب کی مناجات کے لیے گئے، تو ان کی قوم نے ان کے جانے کے بعد انتہائی افسوسناک اقدام کیا۔ انہوں نے اپنے پاس موجود زیورات (جو وہ قبطیوں سے عاریتاً لے کر آئے تھے) کو اکٹھا کیا اور ان سے ایک بچھڑے کا مجسمہ بنوایا۔ یہ مجسمہ اس قدر بناوٹ والا تھا کہ اس میں سے بیل کی آواز نکلتی تھی، حالانکہ یہ بے جان تھا، اس میں نہ روح تھی نہ زندگی۔
یہ سامری نامی شخص کا کیا ہوا کرتب تھا، لیکن افسوس کہ قومِ موسیٰ نے اسے قبول کر لیا اور اسے اپنا معبود بنا لیا۔ اللہ تعالیٰ ان پر سخت تنقید فرماتا ہے کہ کیا انہوں نے اتنا بھی نہ سوچا کہ یہ بچھڑا نہ تو ان سے بات کر سکتا ہے، نہ انہیں کوئی بھلائی یا ہدایت کی راہ دکھا سکتا ہے، نہ وہ ان کے کسی کام آ سکتا ہے اور نہ ہی کسی مصیبت کو دور کر سکتا ہے۔ پھر بھی انہوں نے اسے معبود بنا لیا اور اس طرح انہوں نے اپنے اوپر ظلم کیا، کیونکہ انہوں نے عبادت کو اس کے حقیقی مقام سے ہٹا کر ایک بے جان مجسمے کی طرف پھیر دیا۔
یہ واقعہ ہمارے لیے ایک عظیم سبق ہے کہ انسان جب اللہ کے حکموں سے غافل ہوتا ہے اور اپنے دلوں کو اللہ کی یاد سے خالی کر لیتا ہے، تو وہ کس طرح گمراہی کے اندھیروں میں بھٹک جاتا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے ایمان کو مضبوط کریں، اللہ کی عبادت میں کسی کو شریک نہ کریں، اور ہر اس چیز سے بچیں جو ہمیں اللہ سے دور کرے۔ اللہ ہی ہے جو بات کرتا ہے، ہدایت دیتا ہے، اور ہر مشکل میں کام آتا ہے، اس لیے ہم صرف اسی کی طرف رجوع کریں۔ یہی کامیابی اور نجات کا راستہ ہے۔
جو لوگ زمین میں ناحق غرور کرتے ہیں ان کو اپنی آیتوں سے پھیر دوں گا۔ اگر یہ سب نشانیاں بھی دیکھ لیں تب بھی ان پر ایمان نہ لائیں اور اگر راستی کا رستہ دیکھیں تو اسے (اپنا) رستہ نہ بنائیں۔ اور اگر گمراہی کی راہ دیکھیں تو اسے رستہ بنالیں۔ یہ اس لیے کہ انہوں نے ہماری آیات کو جھٹلایا اور ان سے غفلت کرتے رہے
اور قوم موسیٰ نے موسیٰ کے بعد اپنے زیور کا ایک بچھڑا بنا لیا (وہ) ایک جسم (تھا) جس میں سے بیل کی آواز نکلتی تھی۔ ان لوگوں نے یہ نہ دیکھا کہ وہ نہ ان سے بات کرسکتا ہے اور نہ ان کو راستہ دکھا سکتا ہے۔ اس کو انہوں نے (معبود) بنالیا اور (اپنے حق میں) ظلم کیا
اور جب وہ نادم ہوئے اور دیکھا کہ گمراہ ہوگئے ہیں تو کہنے لگے کہ اگر ہمارا پروردگار ہم پر رحم نہیں کرے گا اور ہم کو معاف نہیں فرمائے گا تو ہم برباد ہوجائیں گے
اور جب موسیٰ اپنی قوم میں نہایت غصے اور افسوس کی حالت میں واپس آئے۔ تو کہنے لگے کہ تم نے میرے بعد بہت ہی بداطواری کی۔ کیا تم نے اپنے پروردگار کا حکم (یعنی میرا اپنے پاس آنا) جلد چاہا (یہ کہا) اور (شدت غضب سے تورات کی) تختیاں ڈال دیں اور اپنے بھائی کے سر (کے بالوں) کو پکڑ کر اپنی طرف کھینچنے لگے۔ انہوں نے کہا کہ بھائی جان لوگ تو مجھے کمزور سمجھتے تھے اور قریب تھا کہ قتل کردیں۔ تو ایسا کام نہ کیجیے کہ دشمن مجھ پر ہنسیں اور مجھے ظالم لوگوں میں مت ملایئے
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔