ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- سَنَسْتَدْرِجُهُمْ: ہم انہیں آہستہ آہستہ (عذاب کی طرف) لے جائیں گے، جیسے کوئی سیڑھی کے درجے طے کرتا ہے۔
- مِنْ حَيْثُ لَا يَعْلَمُونَ: اس طرح سے (یا اس جگہ سے) جس کا انہیں علم و شعور نہ ہو۔
تفسیر:
جن لوگوں نے ہماری آیات کو جھٹلایا اور ان پر ایمان لانے کے بجائے ان کا انکار کیا، ان کے بارے میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہم انہیں استدراج کا شکار بنائیں گے۔ یعنی ہم انہیں آہستہ آہستہ، قدم بہ قدم، اس راستے پر لے جائیں گے جس کا انجام تباہی اور بربادی ہے، لیکن وہ خود اس سے بے خبر ہوں گے۔ ہم انہیں دنیا میں رزق کی فراوانی، آسودگی اور خوشحالی دیں گے، نہ اس لیے کہ وہ ہمارے نزدیک عزت والے ہیں، بلکہ یہ ان کے لیے ایک چارہ اور دھوکہ ہے۔ وہ اپنی اس دنیاوی ترقی اور خوشحالی کو دیکھ کر یہ سمجھیں گے کہ وہ حق پر ہیں اور ان کا انجام اچھا ہے، حالانکہ حقیقت میں یہ ان کی گرفت کا آغاز ہے۔ جب وہ اس غفلت اور دھوکے میں پوری طرح ڈوب جائیں گے، اور ان کے دل اور آنکھیں حق سے اندھی ہو جائیں گی، تو اچانک ہم انہیں ان کے کرتوتوں کی سزا دیں گے، اس طرح کہ انہیں ذرا بھی خبر نہ ہوگی کہ ان پر عذاب آ رہا ہے۔ یہ اللہ کی طرف سے ان لوگوں کے لیے ایک خفیہ تدبیر اور انتقام ہے جنہوں نے اس کی نشانیوں اور حجتوں کو جھٹلایا۔ وہ جتنی زیادہ نعمتیں پائیں گے، اتنا ہی ان کا سرکشی اور طغیان بڑھے گا، اور یہی ان کی ہلاکت کا سبب بنے گا۔
دعوتی پہلو:
اس آیت میں ہمارے لیے بہت بڑا سبق اور عبرت ہے۔ اے مسلمان! جب تو دیکھے کہ کوئی شخص اللہ کی آیات کا انکار کرتا ہے، گناہوں میں ڈوبا ہوا ہے، لیکن اس کے باوجود اسے دنیا میں خوب رزق مل رہا ہے، عیش و آرام میسر ہے، تو اسے دیکھ کر حیران نہ ہو اور نہ ہی اس کی دنیاوی ترقی کو اللہ کی رضامندی سمجھ۔ یہ اللہ کا استدراج ہے، ایک مہلت ہے جو اسے دی گئی ہے تاکہ وہ مزید گناہوں میں ڈوبے اور اس کا حساب مزید سخت ہو۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر بہت مہربان ہے، وہ فوری عذاب نہیں بھیجتا، بلکہ ڈھیل دیتا ہے تاکہ وہ توبہ کر لیں۔ لیکن جو لوگ اس مہلت سے فائدہ نہیں اٹھاتے، وہ اپنے انجام سے خود کو بے خبر رکھتے ہیں۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے حال پر نظر رکھیں، اللہ کی نعمتوں کو اس کی رضامندی کا نشان نہ سمجھیں، بلکہ ان نعمتوں کے ذریعے اللہ کا شکر ادا کریں اور اس کی اطاعت کریں۔ اور اگر کبھی ہم سے کوئی غلطی ہو جائے تو فوراً توبہ کریں، کیونکہ اللہ توبہ کرنے والوں کو بہت پسند کرتا ہے اور وہ رحم کرنے والوں میں سب سے بہتر ہے۔ یاد رکھیں، اللہ کی گرفت بہت سخت ہے، لیکن اس کی رحمت اس کے غضب سے کہیں زیادہ وسیع ہے۔ آئیے ہم اپنے رب کی طرف رجوع کریں، اس کی آیات پر غور کریں اور ان پر عمل کریں، تاکہ ہم اس کے استدراج کا شکار نہ ہوں، بلکہ اس کی رحمت اور مغفرت کے مستحق بنیں۔
📜 آیت 180-184 — اعراف
ترجمہ — اعراف 182
سورہ اعراف آیت 182 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : اور جن لوگوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا ان کو…سورہ آیت 182/206 — اعراف الأعراف (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: اعراف سنیں, اعراف ترجمہ, اعراف mp3, اعراف pdf. آیت 180–184. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








