Fawaswasa lahumash Shaitaanu liyubdiya lahumaa maa wooriya `anhumaa min saw aatihimaa wa qaala maa nahaakumaa Rabbukumaa `an haazihish shajarati illaaa an takoonaa malakaini aw takoonaa minal khaalideen
📖 ترجمہ (اردو ترجمہ)
📖 اردو ترجمہ
تو شیطان دونوں کو بہکانے لگا تاکہ ان کی ستر کی چیزیں جو ان سے پوشیدہ تھیں کھول دے اور کہنے لگا کہ تم کو تمہارے پروردگار نے اس درخت سے صرف اس لیے منع کیا ہے کہ کہ تم فرشتے نہ بن جاؤ یا ہمیشہ جیتے نہ رہو
🌐 Additional reference in فارسی
🌐 فارسی
پس شيطان آن دو را وسوسه كرد، تا شرمگاهشان را كه از آنها پوشيده بود در نظرشان آشكار كند. و گفت: پروردگارتان شما را از اين درخت منع كرد تا مباد از فرشتگان يا جاويدانان شويد.
تو شیطان دونوں کو بہکانے لگا تاکہ ان کی ستر کی چیزیں جو ان سے پوشیدہ تھیں کھول دے اور کہنے لگا کہ تم کو تمہارے پروردگار نے اس درخت سے صرف اس لیے منع کیا ہے کہ کہ تم فرشتے نہ بن جاؤ یا ہمیشہ جیتے نہ رہو
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
فَوَسْوَسَ: چپکے سے دل میں ڈالا، خفیہ طور پر بہکایا۔
لِيُبْدِيَ لَهُمَا: تاکہ ان کے سامنے ظاہر کر دے۔
مَا وُورِيَ عَنْهُمَا: جو چیز ان سے چھپائی گئی تھی۔
سَوْآتِهِمَا: ان کے وہ حصے جو چھپانے کے لیے تھے (شرم گاہیں)۔
الْخَالِدِينَ: ہمیشہ رہنے والے، جو کبھی مریں گے نہیں۔
تفسیر:
جب اللہ تعالیٰ نے آدم اور حوا علیہما السلام کو جنت میں رہنے کا حکم دیا اور انہیں صرف ایک درخت کے قریب جانے سے منع فرمایا، تو شیطان نے موقع پا کر ان دونوں کے دلوں میں وسوسہ ڈالا۔ اس کا مقصد یہ تھا کہ وہ ان کے سامنے ان کی وہ چیز ظاہر کر دے جو اللہ نے ان سے چھپا رکھی تھی، یعنی ان کی شرم گاہیں۔ اس طرح وہ انہیں اللہ کی نافرمانی پر آمادہ کرنا چاہتا تھا، تاکہ وہ اس درخت کا پھل کھائیں اور ان کی پردہ پوشی ختم ہو جائے۔
شیطان نے اپنے مکر و فریب میں ان سے کہا: "تمہارے رب نے تمہیں اس درخت سے صرف اس لیے منع کیا ہے کہ تم فرشتے نہ بن جاؤ، یا تم ہمیشہ جنت میں رہنے والے نہ بن جاؤ۔" یعنی اس نے انہیں یہ باور کرایا کہ اللہ نے تمہیں اس درخت سے اس لیے روکا ہے تاکہ تم اس کی بڑی نعمتوں سے محروم رہو۔ یہ شیطان کا پرانا حربہ ہے کہ وہ اللہ کے احکام کو مشتبہ کر کے انسان کو بغاوت پر ابھارتا ہے۔
اس آیت میں ہمارے لیے بڑا سبق ہے کہ شیطان ہمیشہ سے انسان کا کھلا دشمن ہے اور وہ ہر ممکن طریقے سے ہمیں اللہ کی اطاعت سے روکنے کی کوشش کرتا ہے۔ وہ جھوٹی امیدیں دلاتا ہے، برے کاموں کو خوبصورت دکھاتا ہے، اور اللہ کے احکام کے بارے میں شکوک پیدا کرتا ہے۔ اس لیے ہمیں چاہیے کہ ہم اللہ کے حکموں پر پورا بھروسہ کریں، شیطان کے وسوسوں سے اللہ کی پناہ مانگیں، اور اپنے دین پر مضبوطی سے قائم رہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ہمیں عقل اور قرآن جیسی روشن ہدایت دی ہے، اس لیے ہمیں شیطان کے دھوکے میں نہیں آنا چاہیے۔ یاد رکھیں، اللہ کی ہر ممانعت ہمارے بھلے کے لیے ہی ہوتی ہے، اور اس کی اطاعت ہی میں ہماری کامیابی اور سربلندی ہے۔
اور ہم نے آدم (سے کہا کہ) تم اور تمہاری بیوی بہشت میں رہو سہو اور جہاں سے چاہو (اور جو چاہو) نوش جان کرو مگر اس درخت کے پاس نہ جاؤ ورنہ گنہگار ہو جاؤ گے
تو شیطان دونوں کو بہکانے لگا تاکہ ان کی ستر کی چیزیں جو ان سے پوشیدہ تھیں کھول دے اور کہنے لگا کہ تم کو تمہارے پروردگار نے اس درخت سے صرف اس لیے منع کیا ہے کہ کہ تم فرشتے نہ بن جاؤ یا ہمیشہ جیتے نہ رہو
غرض (مردود نے) دھوکہ دے کر ان کو (معصیت کی طرف) کھینچ ہی لیا جب انہوں نے اس درخت (کے پھل) کو کھا لیا تو ان کی ستر کی چیزیں کھل گئیں اور وہ بہشت کے (درختوں کے) پتے توڑ توڑ کر اپنے اوپر چپکانے لگے اور (ستر چھپانے لگے) تب ان کے پروردگار نے ان کو پکارا کہ کیا میں نے تم کو اس درخت (کے پاس جانے) سے منع نہیں کیا تھا اور جتا نہیں دیا تھا کہ شیطان تمہارا کھلم کھلا دشمن ہے
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔