جو لوگ پرہیزگار ہیں جب ان کو شیطان کی طرف سے کوئی وسوسہ پیدا ہوتا ہے تو چونک پڑتے ہیں اور (دل کی آنکھیں کھول کر) دیکھنے لگتے ہیں
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
طَائِفٌ: وسوسہ، خیال جو دل میں گھومے، یا شیطان کی طرف سے کوئی چھوٹا سا اثر۔
مُبْصِرُونَ: بینا، دیکھنے والے، یعنی حقیقت کو سمجھنے والے۔
تفسیر:
اللہ تعالیٰ اس آیت میں اپنے پرہیزگار بندوں کی خوبی بیان فرما رہے ہیں۔ جو لوگ تقویٰ اختیار کرتے ہیں، یعنی اللہ کے حکموں پر عمل کرتے ہیں اور اس کی نافرمانی سے بچتے ہیں، ان کی یہ شان ہے کہ جب انہیں شیطان کی طرف سے کوئی وسوسہ چھو بھی جائے، کوئی برا خیال دل میں پیدا ہو بھی جائے، یا کوئی لغزش سرزد ہو جائے، تو وہ فوراً اللہ کو یاد کرتے ہیں۔ وہ اللہ کی عظمت، اس کے عذاب اور اس کے وعدوں کو یاد کرتے ہیں۔ یہ یاد دہانی ان کے دلوں کو روشن کر دیتی ہے، اور وہ اپنی غلطی کو واضح طور پر دیکھ لیتے ہیں۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ فوراً توبہ کرتے ہیں، اللہ سے معافی مانگتے ہیں، اور شیطان کے وسوسے کو رد کر دیتے ہیں۔ وہ اندھیرے میں نہیں بھٹکتے، بلکہ بصیرت کی روشنی میں سیدھے راستے پر گامزن رہتے ہیں۔
دعوتی پہلو:
یہ آیت مومنوں کے لیے بہت بڑی خوشخبری ہے! یہ بتاتی ہے کہ شیطان کا وسوسہ کسی بھی انسان کو آ سکتا ہے، لیکن اصل کامیابی یہ ہے کہ انسان اس وسوسے میں نہ پھنسے، بلکہ اللہ کا ذکر کر کے اسے دور کر دے۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں سے یہی چاہتا ہے کہ وہ غلطی کریں تو فوراً اس کی طرف رجوع کریں۔ اللہ رحیم ہے، وہ توبہ کرنے والوں سے محبت کرتا ہے۔ اگر آپ سے کوئی غلطی ہو جائے تو مایوس نہ ہوں، فوراً اللہ کو یاد کریں، استغفار کریں، اور اپنے رب کی طرف لوٹ آئیں۔ یہی تقویٰ کی علامت ہے، اور یہی وہ راستہ ہے جو جنت تک پہنچاتا ہے۔ اللہ ہمیں تقویٰ عطا فرمائے اور شیطان کے شر سے محفوظ رکھے۔ آمین۔
اور جب تم ان کے پاس (کچھ دنوں تک) کوئی آیت نہیں لاتے تو کہتے ہیں کہ تم نے (اپنی طرف سے) کیوں نہیں بنالی۔ کہہ دو کہ میں تو اسی کی پیروی کرتا ہوں جو میرے پروردگار کی طرف سے میرے پاس آتا ہے۔ یہ قرآن تمہارے پروردگار کی جانب سے دانش وبصیرت اور مومنوں کے لیے ہدایت اور رحمت ہے
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔