ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- حَقٌّ مَّعْلُومٌ: مقرر اور معین حصہ، جو اللہ تعالیٰ نے فرض کیا ہے۔
تفسیر:
اس آیت میں اللہ تعالیٰ ان لوگوں کی تعریف بیان فرما رہے ہیں جو قیامت کے دن کامیاب ہوں گے اور جنت میں داخل ہوں گے۔ ان میں سے ایک صفت یہ ہے کہ ان کے اموال میں ایک معین اور مقرر حق ہوتا ہے۔ یہ حق زکات ہے، جو اللہ تعالیٰ نے ان پر فرض کیا ہے۔ یہ لوگ اپنے مال کو اپنا ذاتی حق نہیں سمجھتے بلکہ جانتے ہیں کہ اس میں غریبوں، مسکینوں اور محتاجوں کا بھی حصہ ہے، چنانچہ وہ اسے باقاعدگی سے ادا کرتے ہیں۔
یہ وہ لوگ ہیں جو مال کو اللہ کی امانت سمجھتے ہیں اور اس میں سے اللہ کا حق نکالتے ہیں۔ وہ نہ تو بخل کرتے ہیں اور نہ ہی اس حق کو نظر انداز کرتے ہیں۔ ان کا یہ عمل ان کے ایمان کی صداقت اور اللہ سے محبت کا ثبوت ہے۔
دعوتی پہلو:
پیارے مسلمانو! یہ آیت ہمیں سکھاتی ہے کہ مال حقیقت میں اللہ کا عطیہ ہے اور ہم اس کے امین ہیں۔ جب ہم اپنے مال میں سے اللہ کا مقرر کردہ حق (زکات) ادا کرتے ہیں تو یہ ہمارے لیے باعثِ برکت، پاکیزگی اور قربِ الٰہی کا ذریعہ بنتا ہے۔ زکات نہ صرف ہمارے مال کو پاک کرتی ہے بلکہ ہمارے دلوں سے بخل اور دنیا کی محبت کو بھی دور کرتی ہے، اور معاشرے میں غریب اور امیر کے درمیان محبت اور ہمدردی کا رشتہ مضبوط کرتی ہے۔
اللہ تعالیٰ نے زکات کو اس لیے فرض کیا تاکہ ہم اپنے بھائیوں کی مدد کریں اور معاشرے سے غربت اور محتاجگی کا خاتمہ ہو۔ یاد رکھیں! جو شخص زکات ادا کرتا ہے، اللہ اس کے مال میں برکت دیتا ہے اور اسے دنیا و آخرت میں کامیابی عطا فرماتا ہے۔ آئیے ہم سب اس حکمِ الٰہی پر عمل کریں اور اپنے اموال میں اللہ کے حق کو پہچانیں، تاکہ ہم بھی ان مبارک لوگوں میں شامل ہو سکیں جن کی تعریف اللہ نے قرآن میں کی ہے۔
📜 آیت 22-26 — معارج
ترجمہ — معارج 24
سورہ معارج آیت 24 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : اور جن کے مال میں حصہ مقرر ہےسورہ آیت 24/44 — معارج المعارج (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: معارج سنیں, معارج ترجمہ, معارج mp3, معارج pdf. آیت 22–26. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








