نوح · 5/28
ترجمہ تلفظ — نوح
قَالَ رَبِّ إِنِّي دَعَوْتُ قَوْمِي لَيْلًا وَنَهَارًا ۝٥
Qaala rabbi innee da`awtu qawmee lailanw wa naharaa
📖 اردو ترجمہ
جب لوگوں نے نہ مانا تو (نوحؑ نے) خدا سے عرض کی کہ پروردگار میں اپنی قوم کو رات دن بلاتا رہا
📜

ترجمہ — Tafsir

معانی الفاظ:

  • دَعَوْتُ: میں نے بلایا، پکارا، دعوت دی۔
  • لَيْلًا وَنَهَارًا: رات اور دن، یعنی مسلسل، ہر وقت، بغیر کسی وقفے کے۔

تفسیر آیت:

حضرت نوح علیہ السلام نے جب اپنی قوم کی طرف سے مکمل مایوسی اور ناامیدی دیکھ لی، اور وہ سمجھ گئے کہ یہ لوگ کبھی ایمان نہیں لائیں گے، تو انہوں نے اپنے رب کے حضور اپنی کیفیت بیان کی اور عرض کیا: "اے میرے رب! میں نے اپنی قوم کو رات اور دن دونوں اوقات میں تیری عبادت اور تیری توحید کی طرف بلایا۔" یعنی انہوں نے اپنی دعوت کو کبھی موقوف نہیں کیا، نہ رات کو آرام کیا اور نہ دن کو چین سے بیٹھے رہے۔ وہ ہر لمحہ، ہر گھڑی، ہر موقع پر اپنی قوم کو حق کی طرف بلاتے رہے۔

یہ آیت ہمیں سکھاتی ہے کہ دعوت الی اللہ کا کام صبر، استقامت اور تسلسل کا متقاضی ہے۔ ایک داعی کو چاہیے کہ وہ رات اور دن، خوشی اور غمی، آسانی اور سختی، ہر حال میں اپنے رب کے دین کی طرف بلاتا رہے۔ حضرت نوح علیہ السلام نے تقریباً 950 سال تک اپنی قوم کو دعوت دی، اور ان کی دعوت کا انداز یہ تھا کہ وہ رات کو بھی لوگوں کو جگاتے اور دن کو بھی انہیں نصیحت کرتے۔

یہاں ایک اہم سبق یہ بھی ہے کہ دعوت میں مایوسی نہیں ہونی چاہیے۔ اگر لوگ نہ مانیں تو بھی ہمیں اپنا فرض ادا کرتے رہنا چاہیے، کیونکہ ہدایت دینا اللہ کے ہاتھ میں ہے، ہمارا کام صرف پہنچانا ہے۔ حضرت نوح علیہ السلام کی یہ دعا اور یہ گزارش دراصل ان کی عاجزی اور اپنے رب کے سامنے اپنی بے بسی کا اظہار ہے، اور ساتھ ہی یہ بتانا ہے کہ انہوں نے اپنی ذمہ داری پوری کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔

یہ آیت ہمیں یہ بھی سکھاتی ہے کہ جب ہم کسی نیک کام میں لگے ہوں تو ہمیں اپنے رب سے شکایت نہیں کرنی چاہیے، بلکہ اپنی کیفیت بیان کرنی چاہیے اور اس کی رحمت کی امید رکھنی چاہیے۔ حضرت نوح علیہ السلام نے اپنی قوم کی طرف سے آنے والی تکلیفوں کا ذکر نہیں کیا، بلکہ صرف یہ عرض کیا کہ میں نے اپنا کام کیا، اب فیصلہ تیرا ہے۔

پیارے مسلمانو! ہمیں بھی اپنے گھر والوں، اپنے دوستوں، اپنے پڑوسیوں اور اپنی پوری امت کو اللہ کی طرف بلاتے رہنا چاہیے، چاہے لوگ مانیں یا نہ مانیں۔ ہمارا کام صرف پہنچانا ہے، اور اللہ تعالیٰ خود ہدایت دینے والا ہے۔ حضرت نوح علیہ السلام کی دعوت کا انداز ہمارے لیے نمونہ ہے کہ ہم بھی حکمت اور دانائی کے ساتھ، رات اور دن، لوگوں کو نیکی کی طرف بلاتے رہیں۔

🎧 سنیں

📜 آیت 3-7 — نوح

3أَنِ اعْبُدُوا اللَّهَ وَاتَّقُوهُ وَأَطِيعُونِ
کہ خدا کی عبات کرو اور اس سے ڈرو اور میرا کہا مانو
4يَغْفِرْ لَكُم مِّن ذُنُوبِكُمْ وَيُؤَخِّرْكُمْ إِلَىٰ أَجَلٍ مُّسَمًّى ۚ إِنَّ أَجَلَ اللَّهِ إِذَا جَاءَ لَا يُؤَخَّرُ ۖ لَوْ كُنتُمْ تَعْلَمُونَ
وہ تمہارے گناہ بخش دے گا اور (موت کے) وقت مقررہ تک تم کو مہلت عطا کرے گا۔ جب خدا کا مقرر کیا ہوگا وقت آجاتا ہے تو تاخیر نہیں ہوتی۔ کاش تم جانتے ہوتے
5قَالَ رَبِّ إِنِّي دَعَوْتُ قَوْمِي لَيْلًا وَنَهَارًا
جب لوگوں نے نہ مانا تو (نوحؑ نے) خدا سے عرض کی کہ پروردگار میں اپنی قوم کو رات دن بلاتا رہا
6فَلَمْ يَزِدْهُمْ دُعَائِي إِلَّا فِرَارًا
لیکن میرے بلانے سے وہ اور زیادہ گزیر کرتے رہے
7وَإِنِّي كُلَّمَا دَعَوْتُهُمْ لِتَغْفِرَ لَهُمْ جَعَلُوا أَصَابِعَهُمْ فِي آذَانِهِمْ وَاسْتَغْشَوْا ثِيَابَهُمْ وَأَصَرُّوا وَاسْتَكْبَرُوا اسْتِكْبَارًا
جب جب میں نے ان کو بلایا کہ (توبہ کریں اور) تو ان کو معاف فرمائے تو انہوں نے اپنے کانوں میں انگلیاں دے لیں اور کپڑے اوڑھ لئے اور اڑ گئے اور اکڑ بیٹھے
نوحقرآن فہرست
28آیت
مکیRevelation
5آیت

ترجمہ — نوح 5

سورہ نوح آیت 5 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : جب لوگوں نے نہ مانا تو (نوحؑ نے) خدا سے…

سورہ آیت 5/28 — نوح نوح (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: نوح سنیں, نوح ترجمہ, نوح mp3, نوح pdf. آیت 3–7. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں