ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- فِرَارًا: بھاگنا، الٹ جانا، حق سے منہ موڑ لینا۔
تفسیر آیت:
حضرت نوح علیہ السلام نے اپنے رب کے حضور اپنی قوم کی حالتِ زار بیان کرتے ہوئے عرض کیا: "اے میرے رب! میں نے اپنی قوم کو رات اور دن دونوں اوقات میں تیری طرف بلایا، تیرے ایمان اور تیری اطاعت کی دعوت دی، لیکن میری دعوت کا نتیجہ یہ نکلا کہ وہ حق سے اور زیادہ بھاگنے لگے، ایمان سے اور زیادہ دور ہوتے گئے، اور میری ہر پکار نے ان کے نفور اور انکار میں اضافہ کیا۔"
یہ ایک نہایت افسوسناک منظر ہے کہ نبیِ رحمت اپنی قوم کی ہدایت کے لیے شب و روز کوشاں ہے، لیکن قوم ہٹ دھرمی اور ضد پر اڑی ہوئی ہے۔ جب بھی انہیں سچائی کی طرف بلایا جاتا ہے، وہ اس سے بھاگنے کے لیے راستے تلاش کرتی ہے۔ دعوتِ حق ان کے دلوں کو نرم کرنے کے بجائے ان کی گردنیں مزید اکڑا دیتی ہے۔
اس آیت میں ہمارے لیے ایک عظیم سبق ہے کہ دعوتِ حق کا مقصد صرف اللہ کا حکم پہنچا دینا ہے، نتیجہ اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرح ہمیں بھی دعوت دیتے رہنا چاہیے، چاہے لوگ قبول کریں یا انکار۔ ساتھ ہی یہ بھی یاد رکھیں کہ ہدایت صرف اللہ کے ہاتھ میں ہے، اور جو شخص حق سے بھاگتا ہے، وہ دراصل اپنے نقصان کا سامان کرتا ہے۔
اس آیت سے ہمیں یہ بھی سبق ملتا ہے کہ اگر ہماری دعوت کا اثر نہ ہو رہا ہو تو مایوس نہ ہوں، بلکہ حضرت نوح علیہ السلام کی طرح صبر اور استقامت کے ساتھ دعوت جاری رکھیں، کیونکہ اللہ تعالیٰ اپنے مخلص بندوں کی دعاؤں کو کبھی رائیگاں نہیں کرتا۔ اور جب انسان اپنے رب کے حضور اپنا حال بیان کرتا ہے تو اللہ اس کی پکار سنتا ہے اور اسے تسلی دیتا ہے۔
📜 آیت 4-8 — نوح
ترجمہ — نوح 6
سورہ نوح آیت 6 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : لیکن میرے بلانے سے وہ اور زیادہ گزیر کرتے رہےسورہ آیت 6/28 — نوح نوح (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: نوح سنیں, نوح ترجمہ, نوح mp3, نوح pdf. آیت 4–8. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








