اور جو لوگ کافر ہیں (وہ بھی) ایک دوسرے کے رفیق ہیں۔ تو (مومنو) اگر تم یہ (کام) نہ کرو گے تو ملک میں فتنہ برپا ہو جائے گا اور بڑا فساد مچے گا
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
أَوْلِيَاءُ: مددگار، حمایتی، دوست اور ناصر۔
فِتْنَةٌ: آزمائش، گمراہی، اور ایمان سے پھر جانے کا سبب۔
فَسَادٌ كَبِيرٌ: بہت بڑا نقصان اور تباہی۔
تفسیر:
اس آیتِ کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے اہلِ ایمان کو واضح حکم دیا ہے کہ کافر لوگ آپس میں ایک دوسرے کے مددگار اور حمایتی ہیں۔ ان کا آپس کا تعلق، ان کی ہمدردی اور نصرت سب کفر اور باطل پر مبنی ہے۔ وہ ایک دوسرے کی اعانت کرتے ہیں، ایک دوسرے کی حفاظت کرتے ہیں، اور اپنے باطل مقاصد کے لیے متحد رہتے ہیں۔
لہٰذا اے مسلمانو! تمہارا فرض ہے کہ تم آپس میں بھائی چارے اور محبت کو مضبوط کرو، ایک دوسرے کی مدد کرو، اور کافروں سے کبھی دوستی اور محبت نہ رکھو۔ اگر تم نے ایسا نہ کیا، یعنی اپنے ایمانی بھائیوں کی مدد نہ کی اور کافروں سے محبت اور دوستی رکھی، تو زمین میں بڑی فتنہ انگیزی پھیل جائے گی۔ کفر کی قوت بڑھ جائے گی، اسلام کمزور ہو جائے گا، اور لوگ اللہ کے راستے سے بھٹک جائیں گے۔ یہ ایک بہت بڑا فساد ہو گا جو پوری انسانیت کے لیے تباہی کا سبب بنے گا۔
اس آیت سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ مسلمانوں کی طاقت اور عزت ان کے آپس کے اتحاد اور بھائی چارے میں ہے۔ جب تک مسلمان آپس میں متحد رہیں گے اور ایک دوسرے کی مدد کریں گے، کوئی طاقت انہیں شکست نہیں دے سکتی۔ لیکن اگر وہ آپس میں لڑیں گے اور کافروں سے دوستی کریں گے تو وہ کمزور ہو جائیں گے اور زمین پر فتنہ اور فساد پھیل جائے گا۔
اللہ تعالیٰ ہمیں توفیق دے کہ ہم اپنے ایمانی بھائیوں سے محبت کریں، ان کی مدد کریں، اور کافروں سے کبھی دوستی نہ کریں۔ آمین۔
جو لوگ ایمان لائے اور وطن سے ہجرت کر گئے اور خدا کی راہ میں اپنے مال اور جان سے لڑے وہ اور جنہوں نے (ہجرت کرنے والوں کو) جگہ دی اور ان کی مدد کی وہ آپس میں ایک دوسرے کے رفیق ہیں۔ اور جو لوگ ایمان تو لے آئے لیکن ہجرت نہیں کی تو جب تک وہ ہجرت نہ کریں تم کو ان کی رفاقت سے کچھ سروکار نہیں۔ اور اگر وہ تم سے دین (کے معاملات) میں مدد طلب کریں تو تم کو مدد کرنی لازم ہوگی۔ مگر ان لوگوں کے مقابلے میں کہ تم میں اور ان میں (صلح کا) عہد ہو (مدد نہیں کرنی چاہیئے) اور خدا تمہارے سب کاموں کو دیکھ رہا ہے
اور جو لوگ ایمان لائے اور وطن سے ہجرت کر گئے اور خدا کی راہ میں لڑائیاں کرتے رہے اور جنہوں نے (ہجرت کرنے والوں کو) جگہ دی اور ان کی مدد کی۔ یہی لوگ سچے مسلمان ہیں۔ ان کے لیے (خدا کے ہاں) بخشش اور عزت کی روزی ہے
اور جو لوگ بعد میں ایمان لائے اور وطن سے ہجرت کرگئے اور تمہارے ساتھ ہو کر جہاد کرتے رہے وہ بھی تم ہی میں سے ہیں۔ اور رشتہ دار خدا کے حکم کی رو سے ایک دوسرے کے زیادہ حقدار ہیں۔ کچھ شک نہیں کہ خدا ہر چیز سے واقف ہے
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔