لیکن پیغمبر اور جو لوگ ان کے ساتھ ایمان لائے سب اپنے مال اور جان سے لڑے۔ انہیں لوگوں کے لیے بھلائیاں ہیں۔ اور یہی مراد پانے والے ہیں
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
جَاہَدُوا: انہوں نے پوری کوشش اور جدوجہد کی۔
بِأَمْوَالِهِمْ: اپنے مالوں کے ساتھ۔
وَأَنفُسِهِمْ: اور اپنی جانوں کے ساتھ۔
الْخَيْرَاتُ: بھلائیاں، کامیابیاں اور نیکیاں۔
الْمُفْلِحُونَ: کامیاب اور مراد پانے والے۔
تفسیر:
اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ منافقین کے تخلّف کے برعکس رسول اللہ ﷺ اور آپ کے ساتھ ایمان لانے والوں کا ذکر فرما رہے ہیں۔ جب منافقین جہاد سے پیچھے رہ گئے اور بہانے بنائے، تو اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ رسول اور سچے مومن ان کی طرح نہیں تھے، بلکہ انہوں نے اپنے مال اور اپنی جان دونوں کے ساتھ اللہ کی راہ میں جہاد کیا۔ انہوں نے اپنی دولت، اپنا وقت، اپنی محنت اور اپنی جانیں سب کچھ اللہ کی راہ میں قربان کر دیا۔
انہیں مخلص مؤمنوں کے لیے دونوں جہانوں کی بھلائیاں ہیں۔ دنیا میں انہیں فتح، نصرت اور غنیمت نصیب ہوتی ہے، اور آخرت میں جنت اور اللہ کی رضا ان کا مقدر بنتی ہے۔ یہی لوگ حقیقی کامیاب ہیں، جنہوں نے اپنے رب کا قرب حاصل کیا اور ہر خوف اور نقصان سے محفوظ رہے۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں سبق ملتا ہے کہ ایمان کا تقاضا صرف زبانی دعویٰ نہیں، بلکہ عملی قربانی ہے۔ جو لوگ اپنے مال اور جان سے اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں، اللہ انہیں کبھی محروم نہیں رکھتا۔ آج بھی ہم اپنے وقت، اپنے وسائل اور اپنی صلاحیتوں کو دین کی خدمت میں لگا کر اسی کامیابی کے حقدار بن سکتے ہیں۔ یاد رکھیں، جو اللہ کے لیے دیتا ہے، اللہ اسے اس سے بہتر عطا کرتا ہے۔ یہی راستہ فلاح اور سعادت کا راستہ ہے، اور یہی وہ راستہ ہے جو ہمیں دنیا اور آخرت دونوں میں سرخرو کرتا ہے۔
اور جب کوئی سورت نازل ہوتی ہے کہ خدا پر ایمان لاؤ اور اس کے رسول کے ساتھ ہو کر لڑائی کرو تو جو ان میں دولت مند ہیں وہ تم سے اجازت طلب کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہمیں تو رہنے ہی دیجیئے کہ جو لوگ گھروں میں رہیں گے ہم بھی ان کے ساتھ رہیں
اور صحرا نشینوں میں سے بھی کچھ لوگ عذر کرتے ہوئے (تمہارے پاس) آئے کہ ان کو بھی اجازت دی جائے اور جنہوں نے خدا اور اس کے رسول سے جھوٹ بولا وہ (گھر میں) بیٹھ رہے سو جو لوگ ان میں سے کافر ہوئے ہیں ان کو دکھ دینے والا عذاب پہنچے گا
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔