یونس · 83/109
ترجمہ تلفظ — یونس
فَمَا آمَنَ لِمُوسَىٰ إِلَّا ذُرِّيَّةٌ مِّن قَوْمِهِ عَلَىٰ خَوْفٍ مِّن فِرْعَوْنَ وَمَلَئِهِمْ أَن يَفْتِنَهُمْ ۚ وَإِنَّ فِرْعَوْنَ لَعَالٍ فِي الْأَرْضِ وَإِنَّهُ لَمِنَ الْمُسْرِفِينَ ۝٨٣
Famaaa aamana li-Moosaaa illaa zurriyyatum min qawmihee `alaa khawfim min Fir`awna wa mala`ihim ai yaftinahum; wa inna Fir`awna la`aalin fil ardi wa innahoo laminal musrifeen
📖 اردو ترجمہ
تو موسیٰ پر کوئی ایمان نہ لایا۔ مگر اس کی قوم میں سے چند لڑکے (اور وہ بھی) فرعون اور اس کے اہل دربار سے ڈرتے ڈرتے کہ کہیں وہ ان کو آفت میں نہ پھنسا دے۔ اور فرعون ملک میں متکبر ومتغلب اور (کبر وکفر) میں حد سے بڑھا ہوا تھا
📜

ترجمہ — Tafsir

فَمَا آمَنَ لِمُوسَىٰ إِلَّا ذُرِّيَّةٌ مِّن قَوْمِهِ عَلَىٰ خَوْفٍ مِّن فِرْعَوْنَ وَمَلَئِهِمْ أَن يَفْتِنَهُمْ ۚ وَإِنَّ فِرْعَوْنَ لَعَالٍ فِي الْأَرْضِ وَإِنَّهُ لَمِنَ الْمُسْرِفِينَ

معانی الفاظ:

  • ذُرِّيَّةٌ: اولاد، نوجوان، کم عمر افراد۔
  • مَلَئِهِمْ: ان کے سردار اور بڑے لوگ۔
  • يَفْتِنَهُمْ: انہیں عذاب میں مبتلا کرے، آزمائش میں ڈالے۔
  • لَعَالٍ: بڑا سرکش، غالب اور جابر۔
  • الْمُسْرِفِينَ: حد سے تجاوز کرنے والے، ظلم و کفر میں حد سے بڑھنے والے۔

تفسیر:

اس آیت میں اللہ تعالیٰ ہمیں بتاتے ہیں کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے جب فرعون کے سامنے اپنے رب کے واضح معجزات اور دلائل پیش کیے، تو اس کے باوجود فرعون اور اس کی قوم کے بڑے لوگوں نے ایمان لانے سے انکار کر دیا۔ ایمان لانے والے صرف حضرت موسیٰ علیہ السلام کی قوم (بنی اسرائیل) کے کچھ نوجوان اور کم عمر افراد تھے۔ یہ ایمان لانے والے بھی خوف کی حالت میں تھے، کیونکہ فرعون اور اس کے سرداروں کا ڈر تھا کہ وہ انہیں عذاب میں مبتلا کر دیں گے اور انہیں ایمان سے پھیر دیں گے۔

یہ نوجوان اپنے ایمان میں سچے تھے، لیکن وہ اپنے ایمان کا اظہار کھل کر نہیں کر پاتے تھے کیونکہ فرعون کا رعب اور دہشت بہت زیادہ تھی۔ فرعون اپنی زمین میں بہت بڑا جابر اور سرکش تھا، اس نے اپنے آپ کو خدا ہونے کا دعویٰ کر رکھا تھا، اور وہ بنی اسرائیل پر انتہائی ظلم و ستم کرتا تھا۔ وہ حد سے بڑھ چکا تھا، کفر میں بھی اور ظلم و تشدد میں بھی۔

دعوتی پہلو:

اس آیت سے ہمیں بہت سے اسباق ملتے ہیں۔ سب سے پہلا سبق یہ ہے کہ حق پر ایمان لانے کے لیے عمر کی کوئی قید نہیں ہے۔ نوجوان اور کم عمر افراد بھی حق کو پہچان کر اس پر ایمان لا سکتے ہیں، جیسے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی قوم کے نوجوان ایمان لائے۔ دوسرا سبق یہ ہے کہ ایمان کی راہ میں مشکلات اور خوف آتے ہیں، لیکن اللہ پر بھروسہ رکھنے والے کبھی ڈگمگاتے نہیں۔ تیسرا سبق یہ ہے کہ ظالم اور سرکش لوگ دنیا میں کتنا ہی بڑا رتبہ حاصل کر لیں، اللہ انہیں ضرور پکڑتا ہے۔ فرعون جیسا جابر بھی اللہ کے عذاب سے نہ بچ سکا۔

آج بھی جب کوئی شخص حق کو قبول کرتا ہے تو اسے مختلف قسم کے خوف اور مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، لیکن اللہ تعالیٰ اپنے مومن بندوں کی حفاظت کرتا ہے۔ ایمان کی دولت سب سے بڑی نعمت ہے، اور اس پر قائم رہنا ہی کامیابی کی کنجی ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے ایمان کو مضبوط کریں اور اللہ پر مکمل بھروسہ رکھیں، چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں۔

🎧 سنیں

📜 آیت 81-85 — یونس

81فَلَمَّا أَلْقَوْا قَالَ مُوسَىٰ مَا جِئْتُم بِهِ السِّحْرُ ۖ إِنَّ اللَّهَ سَيُبْطِلُهُ ۖ إِنَّ اللَّهَ لَا يُصْلِحُ عَمَلَ الْمُفْسِدِينَ
جب انہوں نے (اپنی رسیوں اور لاٹھیوں کو) ڈالا تو موسیٰ نے کہا کہ جو چیزیں تم (بنا کر) لائے ہو جادو ہے خدا اس کو بھی نیست ونابود کردے گا۔ خدا شریروں کے کام سنوارا نہیں کرتا
82وَيُحِقُّ اللَّهُ الْحَقَّ بِكَلِمَاتِهِ وَلَوْ كَرِهَ الْمُجْرِمُونَ
اور خدا اپنے حکم سے سچ کو سچ ہی کردے گا اگرچہ گنہگار برا ہی مانیں
83فَمَا آمَنَ لِمُوسَىٰ إِلَّا ذُرِّيَّةٌ مِّن قَوْمِهِ عَلَىٰ خَوْفٍ مِّن فِرْعَوْنَ وَمَلَئِهِمْ أَن يَفْتِنَهُمْ ۚ وَإِنَّ فِرْعَوْنَ لَعَالٍ فِي الْأَرْضِ وَإِنَّهُ لَمِنَ الْمُسْرِفِينَ
تو موسیٰ پر کوئی ایمان نہ لایا۔ مگر اس کی قوم میں سے چند لڑکے (اور وہ بھی) فرعون اور اس کے اہل دربار سے ڈرتے ڈرتے کہ کہیں وہ ان کو آفت میں نہ پھنسا دے۔ اور فرعون ملک میں متکبر ومتغلب اور (کبر وکفر) میں حد سے بڑھا ہوا تھا
84وَقَالَ مُوسَىٰ يَا قَوْمِ إِن كُنتُمْ آمَنتُم بِاللَّهِ فَعَلَيْهِ تَوَكَّلُوا إِن كُنتُم مُّسْلِمِينَ
اور موسیٰ نے کہا کہ بھائیو! اگر تم خدا پر ایمان لائے ہو تو اگر (دل سے) فرمانبردار ہو تو اسی پر بھروسہ رکھو
85فَقَالُوا عَلَى اللَّهِ تَوَكَّلْنَا رَبَّنَا لَا تَجْعَلْنَا فِتْنَةً لِّلْقَوْمِ الظَّالِمِينَ
تو وہ بولے کہ ہم خدا ہی پر بھروسہ رکھتے ہیں۔ اے ہمارے پروردگار ہم کو ظالم لوگوں کے ہاتھ سے آزمائش میں نہ ڈال
یونسقرآن فہرست
109آیت
مکیRevelation
83آیت

ترجمہ — یونس 83

سورہ یونس آیت 83 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : تو موسیٰ پر کوئی ایمان نہ لایا۔ مگر اس کی…

سورہ آیت 83/109 — یونس يونس (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: یونس سنیں, یونس ترجمہ, یونس mp3, یونس pdf. آیت 81–85. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں