یونس · 82/109
ترجمہ تلفظ — یونس
وَيُحِقُّ اللَّهُ الْحَقَّ بِكَلِمَاتِهِ وَلَوْ كَرِهَ الْمُجْرِمُونَ ۝٨٢
Wa yuhiqqul laahul haqqa bi Kalimaatihee wa law karihal mujrimoon
📖 اردو ترجمہ
اور خدا اپنے حکم سے سچ کو سچ ہی کردے گا اگرچہ گنہگار برا ہی مانیں
📜

ترجمہ — Tafsir

معانی الفاظ:

  • یُحِقُّ: ثابت کرنا، قائم کرنا، غالب و برتر کرنا۔
  • بِکَلِمَاتِهِ: اپنے قضائے قَدَری (حکمِ تکوینی) اور اپنے کلامِ شرعی (احکام و دلائل) کے ذریعے۔
  • الْمُجْرِمُونَ: وہ لوگ جو قصور وار ہوں، گنہگار، خاص طور پر فرعون اور اس کی قوم کے سردار۔

تفسیر:

اس آیتِ کریمہ میں اللہ تعالیٰ اپنے نبی حضرت موسیٰ علیہ السلام کو اور ان کے ذریعے تمام اہلِ ایمان کو ایک عظیم بشارت دے رہے ہیں۔ جب فرعون اور اس کے درباریوں نے اپنے جادو کے ذریعے حق کو مٹانے اور باطل کو فروغ دینے کی بھرپور کوشش کی، تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ تم جتنا بھی چاہو باطل کو سہارا دو، لیکن اللہ کا قانون یہ ہے کہ وہ حق کو ہمیشہ ثابت، قائم اور غالب کرتا ہے۔

اللہ تعالیٰ اپنے "کلمات" کے ذریعے حق کو ثابت کرتا ہے۔ ان کلمات سے دو طرح کی چیزیں مراد ہیں: ایک تو اللہ کے قضائے قَدَری یعنی اس کا تکوینی حکم، جو کائنات میں نافذ ہوتا ہے اور کوئی اسے روک نہیں سکتا۔ دوسرے اللہ کے شرعی کلمات یعنی اس کی وحی، جو دلائل اور براہین سے بھرپور ہے۔ جب اللہ کا قضائے قدری اور اس کی وحی دونوں مل جائیں تو پھر حق کو کوئی شکست نہیں دے سکتا۔

یہاں اللہ تعالیٰ نے یہ بھی فرمایا کہ یہ اتمامِ حق "ولو کَرِهَ الْمُجْرِمُونَ" یعنی اس کے باوجود کہ مجرم لوگ اسے ناپسند کریں۔ فرعون اور اس کی قوم کے یہ مجرم لوگ حق کو ناپسند کرتے تھے، لیکن اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام کے معجزے کو ایسا ظاہر کیا کہ جادوگر خود سجدے میں گر گئے اور انہوں نے حق کو پہچان لیا۔ یہ اللہ کی سنت ہے کہ وہ اپنے دین کو تمام ادیان پر غالب کرتا ہے، چاہے مشرکین اور مجرموں کو یہ کتنا ہی ناگوار کیوں نہ ہو۔

دعوتی پہلو:

اس آیت سے ہمیں بہت بڑا سبق ملتا ہے کہ حق کو کبھی نہیں ڈرنا چاہیے، چاہے مخالفین کتنے ہی طاقتور اور سازشیں کتنے ہی گہرے کیوں نہ ہوں۔ باطل چاہے کتنا ہی پھیل جائے، وہ عارضی ہے، لیکن حق اللہ کے ساتھ ہے، اس لیے وہ ہمیشہ رہنے والا ہے۔ ایک مومن کو چاہیے کہ وہ حق پر قائم رہے، صبر کرے، اور یقین رکھے کہ اللہ کی مدد ضرور آئے گی۔ جس طرح فرعون کے جادوگر ایک لمحے میں حق کو پہچان کر سجدے میں گر گئے، اسی طرح آج بھی جب دل صاف ہوں اور حق پیش کیا جائے تو لوگ اسے قبول کر لیتے ہیں۔ ہمیں اپنے اعمال اور اخلاق سے ایسا ماحول بنانا چاہیے کہ لوگ اسلام کی خوبصورتی کو دیکھ کر متاثر ہوں، کیونکہ اللہ کا وعدہ ہے کہ وہ حق کو باطل پر غالب کرے گا، چاہے مجرموں کو یہ کتنا ہی ناپسند ہو۔

🎧 سنیں

📜 آیت 80-84 — یونس

80فَلَمَّا جَاءَ السَّحَرَةُ قَالَ لَهُم مُّوسَىٰ أَلْقُوا مَا أَنتُم مُّلْقُونَ
جب جادوگر آئے تو موسیٰ نے ان سے کہا تم کو جو ڈالنا ہے ڈالو
81فَلَمَّا أَلْقَوْا قَالَ مُوسَىٰ مَا جِئْتُم بِهِ السِّحْرُ ۖ إِنَّ اللَّهَ سَيُبْطِلُهُ ۖ إِنَّ اللَّهَ لَا يُصْلِحُ عَمَلَ الْمُفْسِدِينَ
جب انہوں نے (اپنی رسیوں اور لاٹھیوں کو) ڈالا تو موسیٰ نے کہا کہ جو چیزیں تم (بنا کر) لائے ہو جادو ہے خدا اس کو بھی نیست ونابود کردے گا۔ خدا شریروں کے کام سنوارا نہیں کرتا
82وَيُحِقُّ اللَّهُ الْحَقَّ بِكَلِمَاتِهِ وَلَوْ كَرِهَ الْمُجْرِمُونَ
اور خدا اپنے حکم سے سچ کو سچ ہی کردے گا اگرچہ گنہگار برا ہی مانیں
83فَمَا آمَنَ لِمُوسَىٰ إِلَّا ذُرِّيَّةٌ مِّن قَوْمِهِ عَلَىٰ خَوْفٍ مِّن فِرْعَوْنَ وَمَلَئِهِمْ أَن يَفْتِنَهُمْ ۚ وَإِنَّ فِرْعَوْنَ لَعَالٍ فِي الْأَرْضِ وَإِنَّهُ لَمِنَ الْمُسْرِفِينَ
تو موسیٰ پر کوئی ایمان نہ لایا۔ مگر اس کی قوم میں سے چند لڑکے (اور وہ بھی) فرعون اور اس کے اہل دربار سے ڈرتے ڈرتے کہ کہیں وہ ان کو آفت میں نہ پھنسا دے۔ اور فرعون ملک میں متکبر ومتغلب اور (کبر وکفر) میں حد سے بڑھا ہوا تھا
84وَقَالَ مُوسَىٰ يَا قَوْمِ إِن كُنتُمْ آمَنتُم بِاللَّهِ فَعَلَيْهِ تَوَكَّلُوا إِن كُنتُم مُّسْلِمِينَ
اور موسیٰ نے کہا کہ بھائیو! اگر تم خدا پر ایمان لائے ہو تو اگر (دل سے) فرمانبردار ہو تو اسی پر بھروسہ رکھو
یونسقرآن فہرست
109آیت
مکیRevelation
82آیت

ترجمہ — یونس 82

سورہ یونس آیت 82 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : اور خدا اپنے حکم سے سچ کو سچ ہی کردے…

سورہ آیت 82/109 — یونس يونس (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: یونس سنیں, یونس ترجمہ, یونس mp3, یونس pdf. آیت 80–84. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں