تو جو اُمتیں تم سے پہلے گزر چکی ہیں، ان میں ایسے ہوش مند کیوں نہ ہوئے جو ملک میں خرابی کرنے سے روکتے ہاں (ایسے) تھوڑے سے (تھے) جن کو ہم نے ان میں سے مخلصی بخشی۔ اور جو ظالم تھے وہ ان ہی باتوں کے پیچھے لگے رہے جس میں عیش وآرام تھا اور وہ گناہوں میں ڈوبے ہوئے تھے
🌐 Additional reference in فارسی
🌐 فارسی
چرا در ميان مردمانى كه پيش از شما بودند -جز اندكى كه از آن ميان نجاتشان داديم- خردمندانى نبودند تا مردمان را از فسادكردن در زمين باز دارند؟ ظالمان از پى آسودگى و لذات دنيوى رفتند و گنهكار بودند.
تو جو اُمتیں تم سے پہلے گزر چکی ہیں، ان میں ایسے ہوش مند کیوں نہ ہوئے جو ملک میں خرابی کرنے سے روکتے ہاں (ایسے) تھوڑے سے (تھے) جن کو ہم نے ان میں سے مخلصی بخشی۔ اور جو ظالم تھے وہ ان ہی باتوں کے پیچھے لگے رہے جس میں عیش وآرام تھا اور وہ گناہوں میں ڈوبے ہوئے تھے
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
فَلَوْلَا: کیوں نہ ہوا، ہوتا تو بہتر تھا (توبیخ کے لیے)۔
الْقُرُونِ: پچھلی امتیں اور قومیں۔
أُولُو بَقِیَّةٍ: خیر اور بھلائی والے لوگ، نیک اور صالح افراد۔
یَنْهَوْنَ: منع کرتے، روکتے۔
الْفَسَادِ: خرابی، کفر، گناہ اور ظلم۔
أُتْرِفُوا: عیش و عشرت میں مبتلا ہوئے، نعمتوں میں غرق ہوئے۔
مُجْرِمِین: مجرم، گنہگار، کافر۔
تفسیر:
اللہ تعالیٰ اس آیت میں پچھلی قوموں کے حالات سے عبرت دلاتے ہوئے فرماتے ہیں: کیوں نہ ہوا کہ تم سے پہلے گزری ہوئی قوموں میں سے کچھ نیک اور صالح لوگ باقی رہتے جو لوگوں کو زمین میں فساد پھیلانے سے روکتے؟ یعنی ان قوموں میں ایسے لوگ کیوں نہ پیدا ہوئے جو خیر اور بھلائی کی دعوت دیتے اور برائی اور فساد سے منع کرتے؟ مگر افسوس! ان میں سے بہت کم لوگ تھے جنہوں نے یہ فریضہ انجام دیا۔ یہی وہ مٹھی بھر نیک لوگ تھے جنہیں اللہ نے اپنی رحمت سے بچا لیا جب ظالموں پر عذاب آیا۔
پھر اللہ تعالیٰ ظالموں کا حال بیان کرتے ہیں کہ جن لوگوں نے ظلم کیا، انہوں نے دنیا کی عیش و عشرت اور لذتوں کو اپنا معبود بنا لیا، صرف اسی میں مشغول رہے اور اللہ کی یاد سے غافل ہوگئے۔ وہ اپنے نفس کے پیچھے چل پڑے اور اپنی خواہشات کی پیروی کی، یہی ان کا جرم تھا جو انہیں ہلاکت تک لے گیا۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں بہت بڑا سبق ملتا ہے کہ ہر زمانے میں اللہ کے کچھ نیک بندے ضرور ہوتے ہیں جو امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا فریضہ انجام دیتے ہیں۔ یہ لوگ اپنی قوم کی اصلاح کے لیے کوشش کرتے ہیں، چاہے وہ تعداد میں کم ہی کیوں نہ ہوں۔ ہمیں چاہیے کہ ہم بھی انہی نیک لوگوں میں شامل ہونے کی کوشش کریں، برائی کو روکیں اور بھلائی کی دعوت دیں۔ یاد رکھیں! دنیا کی لذتیں اور عیش و عشرت عارضی ہیں، جو انسان کو اللہ سے دور کر دیتی ہیں اور انجام کار تباہی ہے۔ مومن کی پہچان یہ ہے کہ وہ دنیا کو آخرت پر ترجیح نہ دے، بلکہ اللہ کی رضا کو اپنا مقصد بنائے۔ آئیے ہم اپنی زندگیوں کو دیکھیں کہ کیا ہم ان لوگوں میں سے ہیں جو فساد روکنے والے ہیں یا فساد پھیلانے والوں میں شامل ہیں؟ اللہ ہمیں نیک اور صالح بندوں میں شامل فرمائے۔ آمین۔
اور دن کے دونوں سروں (یعنی صبح اور شام کے اوقات میں) اور رات کی چند (پہلی) ساعات میں نماز پڑھا کرو۔ کچھ شک نہیں کہ نیکیاں گناہوں کو دور کر دیتی ہیں۔ یہ ان کے لیے نصیحت ہے جو نصیحت قبول کرنے والے ہیں
تو جو اُمتیں تم سے پہلے گزر چکی ہیں، ان میں ایسے ہوش مند کیوں نہ ہوئے جو ملک میں خرابی کرنے سے روکتے ہاں (ایسے) تھوڑے سے (تھے) جن کو ہم نے ان میں سے مخلصی بخشی۔ اور جو ظالم تھے وہ ان ہی باتوں کے پیچھے لگے رہے جس میں عیش وآرام تھا اور وہ گناہوں میں ڈوبے ہوئے تھے
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔