نوح نے کہا کہ اس کو خدا ہی چاہے گا تو نازل کرے گا۔ اور تم (اُس کو کسی طرح) ہرا نہیں سکتے
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
بِمُعْجِزِينَ: یعنی اللہ کو عاجز کرنے والے، اس کی گرفت سے بھاگ نکلنے والے، یا اس کے عذاب سے بچ نہ سکنے والے۔
تفسیر:
حضرت نوح علیہ السلام نے اپنی قوم کے اس مطالبے کے جواب میں، جب وہ عذاب کو جلدی لانے کا تقاضا کر رہے تھے، فرمایا: "یہ عذاب میرے اختیار میں نہیں ہے کہ میں اسے جب چاہوں تمہارے پاس لا دوں۔ یہ تو صرف اللہ کا کام ہے، وہی جب چاہے گا تمہیں عذاب میں مبتلا کرے گا، چاہے وہ جلد ہو یا دیر میں۔ اور تم یہ نہ سمجھو کہ تم اللہ کے عذاب سے بچ سکو گے یا اسے عاجز کر دو گے۔ اگر اللہ نے تمہیں عذاب دینے کا ارادہ کر لیا تو کوئی طاقت تمہیں اس سے نہیں بچا سکتی، نہ تمہاری قوت، نہ تمہارے بت، نہ تمہاری سازشیں۔ اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے اور اس کے قبضے سے کوئی چیز باہر نہیں۔"
یہاں حضرت نوح علیہ السلام کا یہ جواب دراصل ان کی قوم کو سمجھانے کا ایک حکیمانہ انداز تھا کہ وہ عذاب کو مذاق نہ سمجھیں، بلکہ یہ حقیقت ہے جو اللہ کے حکم سے آئے گی، اور جب آئے گی تو کوئی اسے ٹال نہیں سکے گا۔ اس میں انہیں ڈرایا جا رہا ہے کہ وہ اپنی سرکشی اور استہزاء سے باز آئیں، کیونکہ اللہ کی گرفت بہت سخت ہے۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ اللہ کی قدرت و حکمت پر مکمل یقین رکھنا چاہیے۔ جو شخص اللہ پر بھروسہ کرتا ہے، وہ کبھی مایوس نہیں ہوتا، اور جو اللہ کے عذاب سے ڈرتا ہے، وہ گناہوں سے بچتا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اللہ کی رحمت کے ساتھ ساتھ اس کے عذاب سے بھی ڈریں، کیونکہ یہی ڈر انسان کو نیکی کی راہ پر گامزن رکھتا ہے۔ اور یاد رکھیں، اللہ کی گرفت سے بچنا کسی کے بس میں نہیں، لیکن اس کی رحمت کے دروازے ہر وقت کھلے ہیں — توبہ کریں، اس کی طرف لوٹ آئیں، وہ بخشنے والا مہربان ہے۔
میں نہ تم سے یہ کہتا ہوں کہ میرے پاس خدا کے خزانے ہیں اور نہ یہ کہ میں غیب جانتا ہوں اور نہ یہ کہتا ہوں کہ میں فرشتہ ہوں اور نہ ان لوگوں کی نسبت جن کو تم حقارت کی نظر سے دیکھتے ہو یہ کہتا ہوں کہ خدا ان کو بھلائی (یعنی اعمال کی جزائے نیک) نہیں دے گا جو ان کے دلوں میں ہے اسے خدا خوب جانتا ہے۔ اگر میں ایسا کہوں تو بےانصافوں میں ہوں
اور اگر میں یہ چاہوں کہ تمہاری خیرخواہی کروں اور خدا یہ چاہے وہ تمہیں گمراہ کرے تو میری خیرخواہی تم کو کچھ فائدہ نہیں دے سکتی۔ وہی تمہارا پروردگار ہے اور تمہیں اس کی طرف لوٹ کر جانا ہے
کیا یہ کہتے ہیں کہ اس (پیغمبر) نے یہ قرآن اپنے دل سے بنا لیا ہے۔ کہہ دو کہ اگر میں نے دل سے بنالیا ہے تو میرے گناہ کا وبال مجھ پر اور جو گناہ تم کرتے ہو اس سے میں بری الذمہ ہوں
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔