Qaaloo yaa Shu`aybu asalaatuka taamuruka an natruka maa ya`budu aabaaa`unaaa aw an naf`ala feee amwaalinaa maa nashaaa`oo innaka la antal haleemur rasheed
📖 ترجمہ (اردو ترجمہ)
📖 اردو ترجمہ
انہوں نے کہا شعیب کیا تمہاری نماز تمہیں یہ سکھاتی ہے کہ جن کو ہمارے باپ دادا پوجتے آئے ہیں ہم ان کو ترک کر دیں یا اپنے مال میں تصرف کرنا چاہیں تو نہ کریں۔ تم تو بڑے نرم دل اور راست باز ہو
🌐 Additional reference in فارسی
🌐 فارسی
گفتند: اى شُعيب، آيا نمازت به تو فرمان مىدهد كه ما آنچه را پدرانمان مىپرستيدند ترك گوييم، يا در اموال خود آنچنان كه خود مىخواهيم تصرف نكنيم؟ به راستى تو مردى بردبار و خردمند هستى.
انہوں نے کہا شعیب کیا تمہاری نماز تمہیں یہ سکھاتی ہے کہ جن کو ہمارے باپ دادا پوجتے آئے ہیں ہم ان کو ترک کر دیں یا اپنے مال میں تصرف کرنا چاہیں تو نہ کریں۔ تم تو بڑے نرم دل اور راست باز ہو
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
أَصَلَاتُكَ: کیا تمہاری نماز (جو تم پابندی سے پڑھتے ہو)۔
تَأْمُرُكَ: تمہیں حکم دیتی ہے۔
نَتْرُكَ: ہم چھوڑ دیں۔
آبَاؤُنَا: ہمارے باپ دادا۔
الْحَلِيمُ الرَّشِيدُ: بردبار اور سمجھدار (یہ انہوں نے طنزاً کہا)۔
تفسیر:
جب حضرت شعیب علیہ السلام نے اپنی قوم کو شرک، ناپ تول میں کمی اور لوگوں کے حقوق مارنے سے منع کیا، تو ان کی قوم نے انتہائی گستاخی اور استہزاء کے انداز میں جواب دیا۔ انہوں نے کہا: "اے شعیب! کیا تمہاری نماز، جسے تم بہت اہمیت دیتے ہو اور جس پر تم خوب مداومت رکھتے ہو، تمہیں یہ حکم دیتی ہے کہ ہم ان معبودوں کو چھوڑ دیں جنہیں ہمارے باپ دادا پوجتے آئے ہیں؟ اور یہ بھی کہ ہم اپنے مالوں میں جو چاہیں تصرف نہ کریں؟"
ان کا کہنا تھا کہ تمہاری نماز نے تمہیں ایسی باتیں سکھا دی ہیں جو ہمارے آباء و اجداد کے طریقے کے خلاف ہیں۔ پھر انہوں نے طنزاً کہا: "تم تو بڑے بردبار اور سمجھدار آدمی ہو!" یعنی ان کا مقصد یہ تھا کہ تم تو پہلے عقل مند اور سمجھدار تھے، لیکن اب تمہاری نماز نے تمہیں ایسی باتیں سکھا دی ہیں جو بالکل بے وقوفی ہیں۔ یہ ان کی طرف سے حضرت شعیب علیہ السلام کا مذاق اڑانا تھا، حالانکہ حقیقت میں وہ خود ہی جاہل اور گمراہ تھے۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ حق بات کہنے والے کو ہمیشہ مخالفین کے طعن و تشنیع کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ حضرت شعیب علیہ السلام نے صبر و استقامت کے ساتھ اپنی قوم کو سمجھایا، اور ہمیں بھی اپنے ایمان اور عبادات پر ثابت قدم رہنا چاہیے، چاہے لوگ ہمارا مذاق اڑائیں یا ہمیں بے وقوف کہیں۔ نماز وہ عظیم عبادت ہے جو انسان کو برائیوں سے روکتی ہے اور اسے راہ راست پر چلاتی ہے۔ ہمیں چاہیے کہ نماز کو حقیقی معنوں میں اپنے لیے باعثِ اصلاح بنائیں، تاکہ ہم بھی ان لوگوں میں شامل ہوں جو اللہ کے حکموں پر چلتے ہیں اور اپنے نبیوں کی تعلیمات پر عمل کرتے ہیں۔ یاد رکھیں، حق پر استقامت ہی کامیابی کی کنجی ہے، اور اللہ اپنے صابر بندوں کے ساتھ ہوتا ہے۔
انہوں نے کہا شعیب کیا تمہاری نماز تمہیں یہ سکھاتی ہے کہ جن کو ہمارے باپ دادا پوجتے آئے ہیں ہم ان کو ترک کر دیں یا اپنے مال میں تصرف کرنا چاہیں تو نہ کریں۔ تم تو بڑے نرم دل اور راست باز ہو
انہوں نے کہا کہ اے قوم! دیکھو تو اگر میں اپنے پروردگار کی طرف سے دلیل روشن پر ہوں اور اس نے اپنے ہاں سے مجھے نیک روزی دی ہو (تو کیا میں ان کے خلاف کروں گا؟) اور میں نہیں چاہتا کہ جس امر سے میں تمہیں منع کروں خود اس کو کرنے لگوں۔ میں تو جہاں تک مجھ سے ہوسکے (تمہارے معاملات کی) اصلاح چاہتا ہوں اور (اس بارے میں) مجھے توفیق کا ملنا خدا ہی (کے فضل) سے ہے۔ میں اسی پر بھروسہ رکھتا ہوں اور اس کی طرف رجوع کرتا ہوں
اور اے قوم! میری مخالفت تم سے کوئی ایسا کام نہ کرادے کہ جیسی مصیبت نوح کی قوم یا ہود کی قوم یا صالح کی قوم پر واقع ہوئی تھی ویسی ہی مصیبت تم پر واقع ہو۔ اور لوط کی قوم (کا زمانہ تو) تم سے کچھ دور نہیں
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔