ترجمہ — Tafsir
اے میری قوم! تم اپنی جگہ پر اپنے طور پر عمل کرتے رہو، میں بھی اپنے طور پر عمل کرتا رہوں گا۔ عنقریب تمہیں معلوم ہو جائے گا کہ کس پر ایسا عذاب آتا ہے جو اسے رسوا کر دے گا، اور کون جھوٹا ہے۔ تم انتظار کرو، میں بھی تمہارے ساتھ انتظار کرنے والوں میں سے ہوں۔
معانی الفاظ:
- مکانتکم: تمہاری جگہ، تمہاری حالت، تمہاری طاقت اور طریقہ
- یخزیہ: اسے رسوا کرے، ذلیل کرے
- ارتقبوا: انتظار کرو، راہ دیکھو
- رقیب: نگرانی کرنے والا، انتظار کرنے والا
تفسیر:
حضرت شعیب علیہ السلام نے اپنی قوم کو بارہا سمجھایا، نصیحت کی، اور توحید کی دعوت دی، لیکن ان کی قوم نے سرکشی اور ضد پر اڑی رہی۔ جب تمام دلائل اور نصیحتیں بے اثر ہو گئیں، تو نبی کریم نے انہیں ایک آخری چیلنج دیا۔ یہ الفاظ دراصل ایک مؤمن کی پختہ یقین اور اعتماد کا اظہار ہیں۔
شعیب علیہ السلام فرماتے ہیں: "اے میری قوم! تم اپنی جگہ پر، اپنے طریقے پر، اپنی طاقت کے مطابق جو کچھ کر سکتے ہو کر لو، میں بھی اپنے راستے پر، اپنے رب کی دی ہوئی طاقت سے عمل کرتا رہوں گا۔" یہ کوئی دھمکی نہیں بلکہ حق و باطل کے درمیان فیصلے کا اعلان ہے۔ وہ فرماتے ہیں کہ عنقریب تمہیں خود معلوم ہو جائے گا کہ کس پر رسوا کرنے والا عذاب آتا ہے اور کون جھوٹا ہے۔ کیا میں جھوٹا ہوں جو تمہیں توحید کی دعوت دے رہا ہوں، یا تم جھوٹے ہو جو حق کا انکار کر رہے ہو؟ یہ فیصلہ اللہ کرے گا۔
پھر فرماتے ہیں: "تم انتظار کرو، میں بھی تمہارے ساتھ انتظار کرتا ہوں۔" یہ ایک پرامید مؤمن کا انداز ہے جو اللہ کے وعدے پر مکمل یقین رکھتا ہے۔ وہ جانتا ہے کہ اللہ کا عذاب ضرور آئے گا، لیکن وہ خود صبر اور انتظار میں ہے۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں کئی اہم سبق ملتے ہیں:
- حق پر ثابت قدمی: نبی اپنی قوم کے مقابلے میں اکیلا تھا، لیکن حق پر ہونے کی وجہ سے وہ پوری قوم کے مقابلے میں ڈٹا ہوا تھا۔ ہمیں بھی چاہیے کہ حق پر ثابت قدم رہیں، چاہے اکثریت ہمارے خلاف ہی کیوں نہ ہو۔
- اعتماد باللہ: جب انسان کو یقین ہو کہ وہ اللہ کے راستے پر ہے، تو اسے کسی کا خوف نہیں ہوتا۔ وہ اپنے رب پر بھروسہ رکھتا ہے اور فیصلہ اللہ پر چھوڑ دیتا ہے۔
- صبر اور انتظار: نیکی کا راستہ بعض اوقات طویل ہوتا ہے، لیکن انجام نیک ہی ہوتا ہے۔ ہمیں صبر کرنا چاہیے اور اللہ کے فیصلے کا انتظار کرنا چاہیے۔
- حق و باطل کا فیصلہ: یہ دنیا امتحان کی جگہ ہے، اصل فیصلہ اللہ کے ہاں ہوگا۔ ہمیں اپنے اعمال پر نظر رکھنی چاہیے اور یاد رکھنا چاہیے کہ ہر عمل کا حساب ہونا ہے۔
یہ آیت ہمیں سکھاتی ہے کہ حق کے داعی کو کبھی مایوس نہیں ہونا چاہیے، چاہے مخالفین کتنے ہی طاقتور کیوں نہ ہوں۔ اللہ کا دین ہمیشہ غالب رہتا ہے، اور باطل کا انجام ذلت اور رسوائی ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے ایمان پر مضبوطی سے قائم رہیں اور اللہ کے وعدوں پر یقین رکھیں۔
📜 آیت 91-95 — ہود
ترجمہ — ہود 93
سورہ ہود آیت 93 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : اور برادران ملت! تم اپنی جگہ کام کیے جاؤ میں…سورہ آیت 93/123 — ہود هود (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: ہود سنیں, ہود ترجمہ, ہود mp3, ہود pdf. آیت 91–95. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








