(یہ تعبیر سن کر) بادشاہ نے حکم دیا کہ یوسف کو میرے پاس لے آؤ۔ جب قاصد ان کے پاس گیا تو انہوں نے کہا کہ اپنے آقا کے پاس واپس جاؤ اور ان سے پوچھو کہ ان عورتوں کا کیا حال ہے جنہوں نے اپنے ہاتھ کاٹ لیے تھے۔ بےشک میرا پروردگار ان کے مکروں سے خوب واقف ہے
🌐 Additional reference in فارسی
🌐 فارسی
پادشاه گفت: نزد منش بياوريد. چون فرستاده نزد او آمد، يوسف گفت: نزد مولايت بازگرد و بپرس حكايت آن زنان كه دستهاى خود را بريدند چه بود؟ كه پروردگار من به مكرشان آگاه است.
(یہ تعبیر سن کر) بادشاہ نے حکم دیا کہ یوسف کو میرے پاس لے آؤ۔ جب قاصد ان کے پاس گیا تو انہوں نے کہا کہ اپنے آقا کے پاس واپس جاؤ اور ان سے پوچھو کہ ان عورتوں کا کیا حال ہے جنہوں نے اپنے ہاتھ کاٹ لیے تھے۔ بےشک میرا پروردگار ان کے مکروں سے خوب واقف ہے
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
ائْتُونِي بِهِ: اسے میرے پاس لے کر آؤ۔
مَا بَالُ: کیا معاملہ ہے، کیا حال ہے۔
قَطَّعْنَ أَيْدِيَهُنَّ: جنہوں نے اپنے ہاتھ کاٹ لیے تھے۔
بِكَيْدِهِنَّ: ان کے مکر و فریب سے۔
تفسیر:
جب بادشاہ نے یوسف علیہ السلام کی تعبیرِ خواب سنی اور ساقی نے اسے یوسف علیہ السلام کا پیغام پہنچایا تو بادشاہ کو یقین ہو گیا کہ یہ شخص واقعی علم رکھتا ہے۔ چنانچہ اس نے اپنے معاونین سے کہا: "اس شخص کو میرے پاس لے کر آؤ۔" جب بادشاہ کا قاصد یوسف علیہ السلام کے پاس پہنچا اور انہیں بادشاہ کے پاس چلنے کی دعوت دی تو یوسف علیہ السلام نے فوراً جانے کی بجائے قاصد سے کہا: "اپنے آقا (بادشاہ) کے پاس واپس جاؤ اور اس سے پوچھو کہ ان عورتوں کا کیا معاملہ ہے جنہوں نے اپنے ہاتھ کاٹ لیے تھے؟" یوسف علیہ السلام نے یہ اس لیے کہا تاکہ ان کی براءت اور پاکدامنی پہلے ثابت ہو جائے، اور لوگوں کے سامنے ان کا دامنِ عصمت صاف ظاہر ہو جائے۔ انہوں نے عزیزِ مصر کی بیوی کا نام لے کر ذکر نہیں کیا، بلکہ صرف ان عورتوں کا ذکر کیا جنہوں نے اپنے ہاتھ کاٹے تھے، تاکہ اس خاتون کی عزت و آبرو مجروح نہ ہو اور ادب کا تقاضا پورا ہو۔ آخر میں یوسف علیہ السلام نے فرمایا: "بے شک میرا رب ان عورتوں کے مکر و فریب سے خوب واقف ہے، اس پر کوئی چیز پوشیدہ نہیں۔"
یہ واقعہ ہمیں سکھاتا ہے کہ مومن کو چاہیے کہ وہ اپنی براءت اور پاکدامنی کے لیے کوشش کرے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ دوسروں کی عزت کا بھی خیال رکھے۔ یوسف علیہ السلام نے صبر و تقویٰ کا مظاہرہ کیا اور جب موقع ملا تو اپنی بے گناہی ثابت کرنے میں کوئی تاخیر نہ کی۔ یہ بھی سبق ہے کہ حق بات کہنے میں ہچکچاہٹ نہیں کرنی چاہیے، لیکن انداز نہایت مہذب اور شائستہ ہونا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ اپنے مخلص بندوں کی مدد کرتا ہے اور ان کے دشمنوں کے مکر کو ناکام بنا دیتا ہے، جیسا کہ یوسف علیہ السلام کے ساتھ ہوا۔
پھر اس کے بعد (خشک سالی کے) سات سخت (سال) آئیں گے کہ جو (غلّہ) تم نے جمع کر رکھا ہوگا وہ اس سب کو کھا جائیں گے۔ صرف وہی تھوڑا سا رہ جائے گا جو تم احتیاط سے رکھ چھوڑو گے
(یہ تعبیر سن کر) بادشاہ نے حکم دیا کہ یوسف کو میرے پاس لے آؤ۔ جب قاصد ان کے پاس گیا تو انہوں نے کہا کہ اپنے آقا کے پاس واپس جاؤ اور ان سے پوچھو کہ ان عورتوں کا کیا حال ہے جنہوں نے اپنے ہاتھ کاٹ لیے تھے۔ بےشک میرا پروردگار ان کے مکروں سے خوب واقف ہے
بادشاہ نے عورتوں سے پوچھا کہ بھلا اس وقت کیا ہوا تھا جب تم نے یوسف کو اپنی طرف مائل کرنا چاہا۔ سب بول اٹھیں کہ حاش َللهِ ہم نے اس میں کوئی برائی معلوم نہیں کی۔ عزیز کی عورت نے کہا اب سچی بات تو ظاہر ہو ہی گئی ہے۔ (اصل یہ ہے کہ) میں نے اس کو اپنی طرف مائل کرنا چاہا تھا اور بےشک وہ سچا ہے
(یوسف نے کہا کہ میں نے) یہ بات اس لیے (پوچھی ہے) کہ عزیز کو یقین ہوجائے کہ میں نے اس کی پیٹھ پیچھے اس کی (امانت میں خیانت نہیں کی) اور خدا خیانت کرنے والوں کے مکروں کو روبراہ نہیں کرتا
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔