یوسف · 50/111
ترجمہ تلفظ — یوسف
وَقَالَ الْمَلِكُ ائْتُونِي بِهِ ۖ فَلَمَّا جَاءَهُ الرَّسُولُ قَالَ ارْجِعْ إِلَىٰ رَبِّكَ فَاسْأَلْهُ مَا بَالُ النِّسْوَةِ اللَّاتِي قَطَّعْنَ أَيْدِيَهُنَّ ۚ إِنَّ رَبِّي بِكَيْدِهِنَّ عَلِيمٌ ۝٥٠
Wa qaalal maliku`toonee bihee falammaa jaaa`ahur rasoolu qaalar-ji ilaa rabbika fas`alhu maa baalun niswatil laatee qatta`na aydiyahunn; inna Rabbee bikaidihinna `Aleem
📖 اردو ترجمہ
(یہ تعبیر سن کر) بادشاہ نے حکم دیا کہ یوسف کو میرے پاس لے آؤ۔ جب قاصد ان کے پاس گیا تو انہوں نے کہا کہ اپنے آقا کے پاس واپس جاؤ اور ان سے پوچھو کہ ان عورتوں کا کیا حال ہے جنہوں نے اپنے ہاتھ کاٹ لیے تھے۔ بےشک میرا پروردگار ان کے مکروں سے خوب واقف ہے
📜

ترجمہ — Tafsir

معانی الفاظ:

  • ائْتُونِي بِهِ: اسے میرے پاس لے کر آؤ۔
  • مَا بَالُ: کیا معاملہ ہے، کیا حال ہے۔
  • قَطَّعْنَ أَيْدِيَهُنَّ: جنہوں نے اپنے ہاتھ کاٹ لیے تھے۔
  • بِكَيْدِهِنَّ: ان کے مکر و فریب سے۔

تفسیر:

جب بادشاہ نے یوسف علیہ السلام کی تعبیرِ خواب سنی اور ساقی نے اسے یوسف علیہ السلام کا پیغام پہنچایا تو بادشاہ کو یقین ہو گیا کہ یہ شخص واقعی علم رکھتا ہے۔ چنانچہ اس نے اپنے معاونین سے کہا: "اس شخص کو میرے پاس لے کر آؤ۔" جب بادشاہ کا قاصد یوسف علیہ السلام کے پاس پہنچا اور انہیں بادشاہ کے پاس چلنے کی دعوت دی تو یوسف علیہ السلام نے فوراً جانے کی بجائے قاصد سے کہا: "اپنے آقا (بادشاہ) کے پاس واپس جاؤ اور اس سے پوچھو کہ ان عورتوں کا کیا معاملہ ہے جنہوں نے اپنے ہاتھ کاٹ لیے تھے؟" یوسف علیہ السلام نے یہ اس لیے کہا تاکہ ان کی براءت اور پاکدامنی پہلے ثابت ہو جائے، اور لوگوں کے سامنے ان کا دامنِ عصمت صاف ظاہر ہو جائے۔ انہوں نے عزیزِ مصر کی بیوی کا نام لے کر ذکر نہیں کیا، بلکہ صرف ان عورتوں کا ذکر کیا جنہوں نے اپنے ہاتھ کاٹے تھے، تاکہ اس خاتون کی عزت و آبرو مجروح نہ ہو اور ادب کا تقاضا پورا ہو۔ آخر میں یوسف علیہ السلام نے فرمایا: "بے شک میرا رب ان عورتوں کے مکر و فریب سے خوب واقف ہے، اس پر کوئی چیز پوشیدہ نہیں۔"

یہ واقعہ ہمیں سکھاتا ہے کہ مومن کو چاہیے کہ وہ اپنی براءت اور پاکدامنی کے لیے کوشش کرے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ دوسروں کی عزت کا بھی خیال رکھے۔ یوسف علیہ السلام نے صبر و تقویٰ کا مظاہرہ کیا اور جب موقع ملا تو اپنی بے گناہی ثابت کرنے میں کوئی تاخیر نہ کی۔ یہ بھی سبق ہے کہ حق بات کہنے میں ہچکچاہٹ نہیں کرنی چاہیے، لیکن انداز نہایت مہذب اور شائستہ ہونا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ اپنے مخلص بندوں کی مدد کرتا ہے اور ان کے دشمنوں کے مکر کو ناکام بنا دیتا ہے، جیسا کہ یوسف علیہ السلام کے ساتھ ہوا۔

🎧 سنیں

📜 آیت 48-52 — یوسف

48ثُمَّ يَأْتِي مِن بَعْدِ ذَٰلِكَ سَبْعٌ شِدَادٌ يَأْكُلْنَ مَا قَدَّمْتُمْ لَهُنَّ إِلَّا قَلِيلًا مِّمَّا تُحْصِنُونَ
پھر اس کے بعد (خشک سالی کے) سات سخت (سال) آئیں گے کہ جو (غلّہ) تم نے جمع کر رکھا ہوگا وہ اس سب کو کھا جائیں گے۔ صرف وہی تھوڑا سا رہ جائے گا جو تم احتیاط سے رکھ چھوڑو گے
49ثُمَّ يَأْتِي مِن بَعْدِ ذَٰلِكَ عَامٌ فِيهِ يُغَاثُ النَّاسُ وَفِيهِ يَعْصِرُونَ
پھر اس کے بعد ایک سال آئے گا کہ خوب مینہ برسے گا اور لوگ اس میں رس نچوڑیں گے
50وَقَالَ الْمَلِكُ ائْتُونِي بِهِ ۖ فَلَمَّا جَاءَهُ الرَّسُولُ قَالَ ارْجِعْ إِلَىٰ رَبِّكَ فَاسْأَلْهُ مَا بَالُ النِّسْوَةِ اللَّاتِي قَطَّعْنَ أَيْدِيَهُنَّ ۚ إِنَّ رَبِّي بِكَيْدِهِنَّ عَلِيمٌ
(یہ تعبیر سن کر) بادشاہ نے حکم دیا کہ یوسف کو میرے پاس لے آؤ۔ جب قاصد ان کے پاس گیا تو انہوں نے کہا کہ اپنے آقا کے پاس واپس جاؤ اور ان سے پوچھو کہ ان عورتوں کا کیا حال ہے جنہوں نے اپنے ہاتھ کاٹ لیے تھے۔ بےشک میرا پروردگار ان کے مکروں سے خوب واقف ہے
51قَالَ مَا خَطْبُكُنَّ إِذْ رَاوَدتُّنَّ يُوسُفَ عَن نَّفْسِهِ ۚ قُلْنَ حَاشَ لِلَّهِ مَا عَلِمْنَا عَلَيْهِ مِن سُوءٍ ۚ قَالَتِ امْرَأَتُ الْعَزِيزِ الْآنَ حَصْحَصَ الْحَقُّ أَنَا رَاوَدتُّهُ عَن نَّفْسِهِ وَإِنَّهُ لَمِنَ الصَّادِقِينَ
بادشاہ نے عورتوں سے پوچھا کہ بھلا اس وقت کیا ہوا تھا جب تم نے یوسف کو اپنی طرف مائل کرنا چاہا۔ سب بول اٹھیں کہ حاش َللهِ ہم نے اس میں کوئی برائی معلوم نہیں کی۔ عزیز کی عورت نے کہا اب سچی بات تو ظاہر ہو ہی گئی ہے۔ (اصل یہ ہے کہ) میں نے اس کو اپنی طرف مائل کرنا چاہا تھا اور بےشک وہ سچا ہے
52ذَٰلِكَ لِيَعْلَمَ أَنِّي لَمْ أَخُنْهُ بِالْغَيْبِ وَأَنَّ اللَّهَ لَا يَهْدِي كَيْدَ الْخَائِنِينَ
(یوسف نے کہا کہ میں نے) یہ بات اس لیے (پوچھی ہے) کہ عزیز کو یقین ہوجائے کہ میں نے اس کی پیٹھ پیچھے اس کی (امانت میں خیانت نہیں کی) اور خدا خیانت کرنے والوں کے مکروں کو روبراہ نہیں کرتا
یوسفقرآن فہرست
111آیت
مکیRevelation
50آیت

ترجمہ — یوسف 50

سورہ یوسف آیت 50 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : (یہ تعبیر سن کر) بادشاہ نے حکم دیا کہ یوسف…

سورہ آیت 50/111 — یوسف يوسف (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: یوسف سنیں, یوسف ترجمہ, یوسف mp3, یوسف pdf. آیت 48–52. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں