یوسف · 51/111
ترجمہ تلفظ — یوسف
قَالَ مَا خَطْبُكُنَّ إِذْ رَاوَدتُّنَّ يُوسُفَ عَن نَّفْسِهِ ۚ قُلْنَ حَاشَ لِلَّهِ مَا عَلِمْنَا عَلَيْهِ مِن سُوءٍ ۚ قَالَتِ امْرَأَتُ الْعَزِيزِ الْآنَ حَصْحَصَ الْحَقُّ أَنَا رَاوَدتُّهُ عَن نَّفْسِهِ وَإِنَّهُ لَمِنَ الصَّادِقِينَ ۝٥١
Qaala maa khatbukunna iz raawattunna Yoosufa `annafsih; qulna haasha lillaahi maa `alimnaa `alaihi min sooo`; qaalatim ra atul `Azeezil `aana hashasal haqq, ana raawat tuhoo `an nafsihee wa innahoo laminas saadiqeen
📖 اردو ترجمہ
بادشاہ نے عورتوں سے پوچھا کہ بھلا اس وقت کیا ہوا تھا جب تم نے یوسف کو اپنی طرف مائل کرنا چاہا۔ سب بول اٹھیں کہ حاش َللهِ ہم نے اس میں کوئی برائی معلوم نہیں کی۔ عزیز کی عورت نے کہا اب سچی بات تو ظاہر ہو ہی گئی ہے۔ (اصل یہ ہے کہ) میں نے اس کو اپنی طرف مائل کرنا چاہا تھا اور بےشک وہ سچا ہے

🎧 سنیں
📜

ترجمہ — Tafsir

معانی الفاظ:

  • خَطْبُکُنَّ: تمہارا معاملہ، تمہاری حالت
  • رَاوَدْتُنَّ: تم نے پورا زور لگایا، تم نے ورغلایا
  • حَاشَ لِلَّهِ: اللہ کی پناہ، اللہ اس سے پاک ہے
  • حَصْحَصَ: ظاہر ہو گیا، واضح ہو گیا، حقیقت کھل کر سامنے آ گئی

تفسیر:

جب بادشاہ نے یوسف علیہ السلام کی برات کا معاملہ سنا اور حقیقت جاننا چاہی، تو اس نے ان خواتین کو بلوایا جنہوں نے دعوتِ ولیمہ کے موقع پر اپنے ہاتھ کاٹ لیے تھے۔ بادشاہ نے ان سے پوچھا: "تمہارا کیا معاملہ تھا؟ تم نے یوسف کو اس کی ذات سے مائل کرنے کی کوشش کی تھی؟ کیا تم نے اس میں کوئی برائی یا خامی دیکھی تھی؟"

اس پر ان خواتین نے یک زبان ہو کر کہا: "حاش للہ!" یعنی اللہ کی پناہ! ہم اسے ہر عیب سے پاک سمجھتی ہیں۔ ہم نے اس پر کوئی برائی نہیں دیکھی، نہ کوئی بُرا کام، نہ کوئی خیانت، نہ کوئی بدکاری۔ وہ تو پاکیزہ اور معصوم ہے۔

یہ سن کر عزیزِ مصر کی بیوی (زلیخا) پر حق واضح ہو گیا اور اس نے خود اعتراف کر لیا۔ اس نے کہا: "اب حق ظاہر ہو گیا!" یعنی اب سچ کھل کر سامنے آ گیا، پردہ اٹھ گیا۔ "میں نے ہی یوسف کو اس کی ذات سے مائل کرنے کی کوشش کی تھی" — میں نے اسے بہکانے اور ورغلانے کی کوشش کی، لیکن وہ صاف انکار کر گیا۔ "اور وہ یقیناً سچوں میں سے ہے" — وہ ہر بات میں سچا ہے، اس نے جو کہا تھا کہ میں نے اسے بہکانے کی کوشش کی، وہ بالکل درست تھا۔

دعوتی پہلو:

یہ واقعہ ہمیں سکھاتا ہے کہ سچ کبھی چھپتا نہیں، چاہے کتنی ہی دیر کیوں نہ لگ جائے۔ اللہ تعالیٰ اپنے نیک بندوں کی حفاظت کرتا ہے اور ان کی پاکیزگی کو آخر کار ظاہر کرتا ہے۔ یوسف علیہ السلام نے صبر کیا، اللہ سے مدد مانگی، اور اللہ نے انہیں عزت دی۔ آج بھی جو شخص اللہ کی خاطر گناہوں سے بچتا ہے، اللہ اسے دنیا اور آخرت میں عزت دیتا ہے۔ یہ واقعہ ہمیں بتاتا ہے کہ پاکدامنی اور پرہیزگاری کا انجام کبھی برا نہیں ہوتا، چاہے ابتدا میں مشکلات ہی کیوں نہ ہوں۔ اللہ اپنے بندے کی مدد کرتا ہے اور اس کی سچائی کو منوا دیتا ہے۔

یہ بھی سبق ہے کہ جب انسان اپنی غلطی کا اعتراف کر لیتا ہے، تو اللہ اسے معاف کر دیتا ہے اور اسے عزت دیتا ہے۔ زلیخا نے اپنے جرم کا اعتراف کیا، اور اللہ نے اسے توبہ کی توفیق دی۔ ہمیں بھی چاہیے کہ اپنی غلطیوں کو چھپانے کے بجائے سچ بول کر اللہ سے معافی مانگیں، کیونکہ اللہ توبہ کرنے والوں سے محبت کرتا ہے۔



📜 آیت 49-53 — یوسف

49ثُمَّ يَأْتِي مِن بَعْدِ ذَٰلِكَ عَامٌ فِيهِ يُغَاثُ النَّاسُ وَفِيهِ يَعْصِرُونَ
پھر اس کے بعد ایک سال آئے گا کہ خوب مینہ برسے گا اور لوگ اس میں رس نچوڑیں گے
50وَقَالَ الْمَلِكُ ائْتُونِي بِهِ ۖ فَلَمَّا جَاءَهُ الرَّسُولُ قَالَ ارْجِعْ إِلَىٰ رَبِّكَ فَاسْأَلْهُ مَا بَالُ النِّسْوَةِ اللَّاتِي قَطَّعْنَ أَيْدِيَهُنَّ ۚ إِنَّ رَبِّي بِكَيْدِهِنَّ عَلِيمٌ
(یہ تعبیر سن کر) بادشاہ نے حکم دیا کہ یوسف کو میرے پاس لے آؤ۔ جب قاصد ان کے پاس گیا تو انہوں نے کہا کہ اپنے آقا کے پاس واپس جاؤ اور ان سے پوچھو کہ ان عورتوں کا کیا حال ہے جنہوں نے اپنے ہاتھ کاٹ لیے تھے۔ بےشک میرا پروردگار ان کے مکروں سے خوب واقف ہے
51قَالَ مَا خَطْبُكُنَّ إِذْ رَاوَدتُّنَّ يُوسُفَ عَن نَّفْسِهِ ۚ قُلْنَ حَاشَ لِلَّهِ مَا عَلِمْنَا عَلَيْهِ مِن سُوءٍ ۚ قَالَتِ امْرَأَتُ الْعَزِيزِ الْآنَ حَصْحَصَ الْحَقُّ أَنَا رَاوَدتُّهُ عَن نَّفْسِهِ وَإِنَّهُ لَمِنَ الصَّادِقِينَ
بادشاہ نے عورتوں سے پوچھا کہ بھلا اس وقت کیا ہوا تھا جب تم نے یوسف کو اپنی طرف مائل کرنا چاہا۔ سب بول اٹھیں کہ حاش َللهِ ہم نے اس میں کوئی برائی معلوم نہیں کی۔ عزیز کی عورت نے کہا اب سچی بات تو ظاہر ہو ہی گئی ہے۔ (اصل یہ ہے کہ) میں نے اس کو اپنی طرف مائل کرنا چاہا تھا اور بےشک وہ سچا ہے
52ذَٰلِكَ لِيَعْلَمَ أَنِّي لَمْ أَخُنْهُ بِالْغَيْبِ وَأَنَّ اللَّهَ لَا يَهْدِي كَيْدَ الْخَائِنِينَ
(یوسف نے کہا کہ میں نے) یہ بات اس لیے (پوچھی ہے) کہ عزیز کو یقین ہوجائے کہ میں نے اس کی پیٹھ پیچھے اس کی (امانت میں خیانت نہیں کی) اور خدا خیانت کرنے والوں کے مکروں کو روبراہ نہیں کرتا
53۞ وَمَا أُبَرِّئُ نَفْسِي ۚ إِنَّ النَّفْسَ لَأَمَّارَةٌ بِالسُّوءِ إِلَّا مَا رَحِمَ رَبِّي ۚ إِنَّ رَبِّي غَفُورٌ رَّحِيمٌ
اور میں اپنے تئیں پاک صاف نہیں کہتا کیونکہ نفس امارہ (انسان کو) برائی سکھاتا رہتا ہے۔ مگر یہ کہ میرا پروردگار رحم کرے گا۔ بےشک میرا پروردگار بخشنے والا مہربان ہے
یوسفقرآن فہرست
111آیت
مکیRevelation
51آیت

ترجمہ — یوسف 51

سورہ یوسف آیت 51 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : بادشاہ نے عورتوں سے پوچھا کہ بھلا اس وقت کیا…

سورہ آیت 51/111 — یوسف يوسف (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: یوسف سنیں, یوسف ترجمہ, یوسف mp3, یوسف pdf. آیت 49–53. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں