يُغَاثُ: بارش دی جاتی ہے، غیث سے ماخوذ ہے جس کا مطلب بارش اور رحمت ہے۔
يَعْصِرُونَ: نچوڑتے ہیں، یعنی انگور، زیتون، گنا وغیرہ سے رس نکالتے ہیں۔
تفسیر:
اس آیت میں حضرت یوسف علیہ السلام نے بادشاہ کے خواب کی تعبیر کا سلسلہ مکمل کرتے ہوئے فرمایا کہ سات سال کی قحط سالی کے بعد ایک ایسا سال آئے گا جس میں لوگوں پر بارشوں کی رحمت نازل ہوگی، زمین اپنی برکتیں اگلے گی، کھیتیاں لہلہائیں گیں اور لوگ اپنی محنتوں کا پھل حاصل کریں گے۔ اس سال میں لوگ انگور، زیتون اور گنے وغیرہ نچوڑیں گے، یعنی رزق اور خوشحالی کی کثرت ہوگی۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے آزمائش کے بعد عطا کردہ آسانی اور رحمت کا اعلان ہے۔
دعوتی پہلو:
یہ آیت ہمیں سکھاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت مایوسی کے بعد آتی ہے۔ جس طرح قحط کے بعد خوشحالی آئی، اسی طرح ہر مشکل کے بعد آسانی ہے۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: "بیشک مشکل کے ساتھ آسانی ہے" (الشرح: 6)۔ مومن کو کبھی اللہ کی رحمت سے مایوس نہیں ہونا چاہیے، چاہے حالات کتنے ہی سخت ہوں۔ یہ بھی سبق ہے کہ صبر اور ایمان کے ساتھ اللہ پر بھروسہ رکھنے والوں کا انجام ہمیشہ بہتر ہوتا ہے۔ حضرت یوسف علیہ السلام کی یہ پیشین گوئی ان کے علم نبوت اور اللہ کے فضل کا ثبوت ہے، اور ہمیں یہ باور کراتی ہے کہ اللہ اپنے نیک بندوں کو بصیرت عطا فرماتا ہے۔ آئیے ہم بھی اپنی زندگیوں میں اللہ کی رحمت کے منتظر رہیں اور اس کے فضل سے کبھی مایوس نہ ہوں، کیونکہ وہی ہے جو تنگی کے بعد کشادگی عطا فرماتا ہے۔
پھر اس کے بعد (خشک سالی کے) سات سخت (سال) آئیں گے کہ جو (غلّہ) تم نے جمع کر رکھا ہوگا وہ اس سب کو کھا جائیں گے۔ صرف وہی تھوڑا سا رہ جائے گا جو تم احتیاط سے رکھ چھوڑو گے
(یہ تعبیر سن کر) بادشاہ نے حکم دیا کہ یوسف کو میرے پاس لے آؤ۔ جب قاصد ان کے پاس گیا تو انہوں نے کہا کہ اپنے آقا کے پاس واپس جاؤ اور ان سے پوچھو کہ ان عورتوں کا کیا حال ہے جنہوں نے اپنے ہاتھ کاٹ لیے تھے۔ بےشک میرا پروردگار ان کے مکروں سے خوب واقف ہے
بادشاہ نے عورتوں سے پوچھا کہ بھلا اس وقت کیا ہوا تھا جب تم نے یوسف کو اپنی طرف مائل کرنا چاہا۔ سب بول اٹھیں کہ حاش َللهِ ہم نے اس میں کوئی برائی معلوم نہیں کی۔ عزیز کی عورت نے کہا اب سچی بات تو ظاہر ہو ہی گئی ہے۔ (اصل یہ ہے کہ) میں نے اس کو اپنی طرف مائل کرنا چاہا تھا اور بےشک وہ سچا ہے
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔