Wa lammaa dakhaloo min haisu amarahum aboohum maa kaana yughnee `anhum minal laahi min shai`in illaa haajatan fee nafsi Ya`qooba qadaahaa; wa innahoo lazoo `ilmil limaa `allamnaahu wa laakinna aksaran naasi laa ya`lamoon
📖 ترجمہ (اردو ترجمہ)
📖 اردو ترجمہ
اور جب وہ ان ان مقامات سے داخل ہوئے جہاں جہاں سے (داخل ہونے کے لیے) باپ نے ان سے کہا تھا تو وہ تدبیر خدا کے حکم کو ذرا بھی نہیں ٹال سکتی تھی ہاں وہ یعقوب کے دل کی خواہش تھی جو انہوں نے پوری کی تھی۔ اور بےشک وہ صاحبِ علم تھے کیونکہ ہم نے ان کو علم سکھایا تھا لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے
🌐 Additional reference in فارسی
🌐 فارسی
چون از جايى كه پدر فرمان داده بود داخل شدند، اين كار در برابر اراده خدا سودشان نبخشيد. تنها نيازى در ضمير يعقوب بود كه آن را آشكار ساخت، زيرا او را علمى بود كه خود به او آموخته بوديم ولى بيشتر مردم نمىدانند.
یُغْنِی: کسی چیز کو دفع کرنا، فائدہ دینا، کام آنا۔
حَاجَةً: ضرورت، خواہش، اندیشہ۔
قَضَاھَا: اسے پورا کیا، اسے انجام دیا۔
لَذُو عِلْمٍ: علم والا، جاننے والا۔
تفسیر:
جب یعقوب علیہ السلام کے بیٹے اپنے بھائی بنیامین کو ساتھ لے کر مصر روانہ ہوئے تو انہوں نے اپنے والد کے حکم کے مطابق شہر کے مختلف دروازوں سے داخل ہوئے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ دروازوں کے متفرق ہونے سے اللہ کی تقدیر اور اس کے فیصلے کو ٹالنا ممکن نہ تھا۔ یہ تدبیر اللہ کے قضاء وقدر کے سامنے کچھ بھی نہیں تھی، نہ وہ اس سے بچا سکتی تھی اور نہ کوئی فائدہ پہنچا سکتی تھی۔
البتہ یہ حکم دراصل یعقوب علیہ السلام کے دل میں ایک شفقت اور محبت کا تقاضا تھا جو انہوں نے اپنے بیٹوں کے لیے رکھا تھا۔ وہ ڈرتے تھے کہ کہیں سب ایک ساتھ ایک دروازے سے داخل ہوں تو لوگوں کی نظرِ بد لگ جائے یا کوئی اور خطرہ پیش آئے۔ چنانچہ انہوں نے اس تدبیر سے اپنے بیٹوں کے لیے اپنی محبت اور خیرخواہی کا اظہار کیا، حالانکہ وہ خوب جانتے تھے کہ اللہ کے فیصلے کے آگے کوئی تدبیر کارگر نہیں ہوتی۔
یعقوب علیہ السلام اللہ کے خاص بندوں میں سے تھے، انہیں اللہ نے علمِ دین اور حقیقتِ اشیاء کی سمجھ عطا فرمائی تھی۔ وہ جانتے تھے کہ تقدیرِ الٰہی کے سامنے تمام اسباب بے بس ہیں، لیکن پھر بھی ظاہری اسباب اختیار کرنا شریعت کی تعلیم ہے اور اللہ نے انہیں یہی سکھایا تھا۔ مگر اکثر لوگ اس حقیقت سے ناواقف ہیں کہ تقدیر اور تدبیر دونوں اللہ کے حکم کے تابع ہیں، اور وہ یہ نہیں جانتے کہ یعقوب علیہ السلام کو اللہ کی طرف سے جو علم ملا تھا وہ کس قدر بلند اور عمیق تھا۔
دعوتی پہلو:
اس آیت میں ہمارے لیے بہت بڑا سبق ہے کہ ہم اپنے معاملات میں ظاہری اسباب اختیار کریں، لیکن دل سے یہ یقین رکھیں کہ اصل فیصلہ کرنے والا صرف اللہ ہے۔ یعقوب علیہ السلام نے اپنے بیٹوں کو متفرق دروازوں سے داخل ہونے کا حکم دیا، مگر وہ جانتے تھے کہ اللہ کی تقدیر کے آگے کوئی چیز حائل نہیں ہو سکتی۔ یہی توکل اور تدبیر کا حسین امتزاج ہے جو ہر مسلمان کو اپنانا چاہیے۔ نیز یہ کہ والدین کی شفقت اور اولاد کے لیے ان کی فکر ایک عظیم نعمت ہے، اور اولاد کو چاہیے کہ والدین کے مشوروں کو سمجھ کر ان پر عمل کرے، کیونکہ ان کے دل میں اولاد کی بھلائی کے سوا کچھ نہیں ہوتا۔ اللہ ہمیں اپنے نبیوں کی سیرت پر چلنے کی توفیق دے۔ آمین۔
اور جب وہ ان ان مقامات سے داخل ہوئے جہاں جہاں سے (داخل ہونے کے لیے) باپ نے ان سے کہا تھا تو وہ تدبیر خدا کے حکم کو ذرا بھی نہیں ٹال سکتی تھی ہاں وہ یعقوب کے دل کی خواہش تھی جو انہوں نے پوری کی تھی۔ اور بےشک وہ صاحبِ علم تھے کیونکہ ہم نے ان کو علم سکھایا تھا لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے
(یعقوب نے) کہا جب تک تم خدا کا عہد نہ دو کہ اس کو میرے پاس (صحیح سالم) لے آؤ گے میں اسے ہرگز تمہارے ساتھ نہیں بھیجنے کا۔ مگر یہ کہ تم گھیر لیے جاؤ (یعنی بےبس ہوجاؤ تو مجبوری ہے) جب انہوں نے ان سے عہد کرلیا تو (یعقوب نے) کہا کہ جو قول وقرار ہم کر رہے ہیں اس کا خدا ضامن ہے
اور ہدایت کی کہ بیٹا ایک ہی دروازے سے داخل نہ ہونا بلکہ جدا جدا دروازوں سے داخل ہونا۔ اور میں خدا کی تقدیر کو تم سے نہیں روک سکتا۔ بےشک حکم اسی کا ہے میں اسی پر بھروسہ رکھتا ہوں۔ اور اہلِ توکل کو اسی پر بھروسہ رکھنا چاہیئے
اور جب وہ ان ان مقامات سے داخل ہوئے جہاں جہاں سے (داخل ہونے کے لیے) باپ نے ان سے کہا تھا تو وہ تدبیر خدا کے حکم کو ذرا بھی نہیں ٹال سکتی تھی ہاں وہ یعقوب کے دل کی خواہش تھی جو انہوں نے پوری کی تھی۔ اور بےشک وہ صاحبِ علم تھے کیونکہ ہم نے ان کو علم سکھایا تھا لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے
اور جب وہ لوگ یوسف کے پاس پہنچے تو یوسف نے اپنے حقیقی بھائی کو اپنے پاس جگہ دی اور کہا کہ میں تمہارا بھائی ہوں تو جو سلوک یہ (ہمارے ساتھ) کرتے رہے ہیں اس پر افسوس نہ کرنا
جب ان کا اسباب تیار کر دیا تو اپنے بھائی کے شلیتے میں گلاس رکھ دیا اور پھر (جب وہ آبادی سے باہر نکل گئے تو) ایک پکارنے والے نے آواز دی کہ قافلے والو تم تو چور ہو
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔