اور انہوں نے (بڑی بڑی) تدبیریں کیں اور ان کی (سب) تدبیریں خدا کے ہاں (لکھی ہوئی) ہیں گو وہ تدبیریں ایسی (غضب کی) تھیں کہ ان سے پہاڑ بھی ٹل جائیں
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
مکر: خفیہ تدبیر، چال، فریب۔
لیزول منہ الجبال: کہ اس سے پہاڑ ہٹ جائیں۔
تفسیر:
اللہ تعالیٰ اس آیت میں کفارِ مکہ اور پچھلی قوموں کے حالات بیان فرما رہے ہیں جنہوں نے اپنے انبیاء کے خلاف خفیہ سازشیں کیں اور انہیں قتل کرنے یا ان کی دعوت کو ناکام بنانے کے لیے طرح طرح کے حربے استعمال کیے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ انہوں نے اپنے مکر و فریب کا بھرپور استعمال کیا، لیکن ان کا یہ سارا مکر اللہ کے علم میں ہے، اس کی گرفت سے کوئی چیز باہر نہیں۔ ان کی سازشیں اللہ کے ہاں محفوظ ہیں اور وہ انہیں اس کا پورا بدلہ دے گا۔
پھر اللہ تعالیٰ ان کے مکر کی حقیقت بیان کرتا ہے کہ ان کا مکر اتنا کمزور اور بے اثر تھا کہ وہ پہاڑوں کو بھی نہیں ہلا سکتا تھا، تو وہ اللہ کے دین اور اس کے رسول کی دعوت کو کیسے نقصان پہنچا سکتا تھا؟ یہاں پہاڑوں سے مراد اللہ کے دین کے مضبوط ستون اور شریعت کے اصول ہیں جو کسی بھی مکر و فریب سے متزلزل نہیں ہو سکتے۔ کفار کی تمام کوششیں ناکام ہوئیں اور اللہ نے اپنے دین کو غالب کیا، جیسا کہ ہم آج دیکھ رہے ہیں کہ اسلام دنیا بھر میں پھیلا ہوا ہے اور کفار کی سازشیں ہمیشہ ناکام ہوتی رہیں۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں بہت بڑا سبق ملتا ہے کہ اللہ پر بھروسہ رکھیں اور اس کے دین کی حمایت پر یقین رکھیں۔ دشمن چاہے جتنی بھی سازشیں کرے، اللہ کا دین غالب رہنے والا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے ایمان کو مضبوط کریں اور اللہ کے دین کی خدمت میں لگے رہیں، کیونکہ اللہ اپنے دین کی حفاظت خود کرتا ہے۔ جیسے پہاڑ اپنی جگہ سے نہیں ہلتے، ویسے ہی اللہ کا دین کبھی شکست نہیں کھا سکتا۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنی زندگیوں میں اللہ کے احکامات پر عمل کریں اور اس کے دین کی سربلندی کے لیے جدوجہد کریں، کیونکہ یہی کامیابی کا راستہ ہے۔
اور لوگوں کو اس دن سے آگاہ کردو جب ان پر عذاب آجائے گا تب ظالم لوگ کہیں گے کہ اے ہمارے پروردگار ہمیں تھوڑی سی مدت مہلت عطا کر۔ تاکہ تیری دعوت (توحید) قبول کریں اور (تیرے) پیغمبروں کے پیچھے چلیں (تو جواب ملے گا) کیا تم پہلے قسمیں نہیں کھایا کرتے تھے کہ تم کو (اس حال سے جس میں تم ہو) زوال (اور قیامت کو حساب اعمال) نہیں ہوگا
اور جو لوگ اپنے آپ پر ظلم کرتے تھے تم ان کے مکانوں میں رہتے تھے اور تم پر ظاہر ہوچکا تھا کہ ہم نے ان لوگوں کے ساتھ کس طرح (کا معاملہ) کیا تھا اور تمہارے (سمجھانے) کے لیے مثالیں بیان کر دی تھیں
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔