ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- يَتَوَارَىٰ: چھپ جاتا ہے، پوشیدہ ہو جاتا ہے۔
- مِن سُوءِ مَا بُشِّرَ بِهِ: اس بری خبر کی وجہ سے جو اسے دی گئی۔
- عَلَىٰ هُونٍ: ذلت اور رسوائی کے ساتھ۔
- يَدُسُّهُ فِي التُّرَابِ: اسے مٹی میں دفن کر دیتا ہے (زندہ درگور کر دیتا ہے)۔
تفسیر:
اللہ تعالیٰ اس آیت میں جاہلیت کے اس ظالمانہ اور شرمناک رویے کا نقشہ کھینچ رہے ہیں جو عرب کے مشرکین کا تھا۔ جب ان میں سے کسی کو بیٹی کی پیدائش کی خوشخبری دی جاتی تو اس کا چہرہ سیاہ ہو جاتا اور وہ غم و اندوہ میں ڈوب جاتا۔ وہ لوگوں سے چھپتا پھرتا تھا، کیونکہ اسے ڈر ہوتا تھا کہ کہیں لوگ اسے اس "بری خبر" کے ساتھ نہ دیکھ لیں۔ اس کی سمجھ میں نہیں آتا تھا کہ وہ کیا کرے۔ اس کے سامنے دو ہی راستے تھے: یا تو وہ اس بیٹی کو زندہ رکھے لیکن ذلت اور رسوائی کے ساتھ، اور یہ اس کے نزدیک باعثِ عار تھا، یا پھر اسے مٹی میں زندہ دفن کر دے تاکہ اس کی "شرمندگی" چھپ جائے۔
یہ طرزِ فکر کتنا ظالمانہ اور حیوانیت پر مبنی تھا! وہ لوگ اپنے لیے بیٹوں کو پسند کرتے تھے اور بیٹیوں کو باعثِ ذلت سمجھتے تھے، حالانکہ بیٹیاں اللہ کی ایک عظیم نعمت اور رحمت ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے اس فیصلے پر سخت نکیر فرمائی کہ انہوں نے اپنے رب کے لیے وہ چیز تجویز کر دی جو خود اپنے لیے پسند نہیں کرتے تھے۔ یعنی وہ فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں کہتے تھے، حالانکہ خود بیٹیوں سے نفرت کرتے تھے۔ یہ کتنا برا فیصلہ تھا جو انہوں نے کیا!
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں اسلام کی عظمت اور فضیلت کا اندازہ ہوتا ہے کہ اسلام نے عورت کو وہ عزت اور مقام عطا کیا جو دنیا کی کسی اور تہذیب نے نہیں دیا۔ آج بھی بعض معاشروں میں بیٹی کو بوجھ سمجھا جاتا ہے، حالانکہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "جس کی دو بیٹیاں ہوں اور وہ ان کے ساتھ اچھا سلوک کرے تو وہ اس کے لیے جنت میں داخلے کا ذریعہ بنیں گی۔" بیٹیاں رحمت ہیں، عذاب نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن میں فرمایا: "اللہ کی ملکیت ہے آسمانوں اور زمین کی بادشاہی، وہ جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے، جسے چاہتا ہے بیٹیاں دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے بیٹے دیتا ہے۔" (الشوریٰ: 49)۔ لہٰذا ہمیں چاہیے کہ اللہ کی عطا کردہ نعمتوں پر راضی رہیں اور بیٹیوں کی پرورش احسن طریقے سے کریں، کیونکہ انہیں جنت کا ذریعہ بنایا گیا ہے۔ اسلام نے عورت کو وہ مقام دیا جو اسے کسی اور نظام میں نہیں مل سکتا۔ آئیے ہم اس طرزِ فکر سے توبہ کریں اور اللہ کی رحمت کو اپنے اوپر طاری کریں، کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: "اور تمہارا رب جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے اور چن لیتا ہے، ان کے لیے کوئی اختیار نہیں۔" (القصص: 68)۔
📜 آیت 57-61 — نحل
ترجمہ — نحل 59
سورہ نحل آیت 59 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : اور اس خبر بد سے (جو وہ سنتا ہے) لوگوں…سورہ آیت 59/128 — نحل النحل (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: نحل سنیں, نحل ترجمہ, نحل mp3, نحل pdf. آیت 57–61. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








