نحل · 58/128
ترجمہ تلفظ — نحل
وَإِذَا بُشِّرَ أَحَدُهُم بِالْأُنثَىٰ ظَلَّ وَجْهُهُ مُسْوَدًّا وَهُوَ كَظِيمٌ ۝٥٨
Wa izaa bushshira ahaduhum bil unsaa zalla wajhuhoo muswaddanw wa huwa kazeem
📖 اردو ترجمہ
حالانکہ جب ان میں سے کسی کو بیٹی (کے پیدا ہونے) کی خبر ملتی ہے تو اس کا منہ (غم کے سبب) کالا پڑ جاتا ہے اور (اس کے دل کو دیکھو تو) وہ اندوہناک ہوجاتا ہے
📜

ترجمہ — Tafsir

معانی الفاظ:

  • بُشِّرَ: خوشخبری دی گئی
  • الْأُنثَىٰ: لڑکی (بیٹی)
  • ظَلَّ: رہ گیا، ہو گیا
  • مُسْوَدًّا: سیاہ پڑ گیا
  • کَظِیمٌ: غم و غصے سے بھرا ہوا، جسے وہ اپنے اندر دبائے ہوئے ہو

تفسیر:

اس آیتِ کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے جاہلیت کے اس افسوسناک رویے کی تصویر کشی فرمائی ہے جو عرب کے مشرکین میں عام تھا۔ جب ان میں سے کسی کو بیٹی کی پیدائش کی خوشخبری دی جاتی تو اس کا چہرہ سیاہ پڑ جاتا، یعنی اس کے چہرے کا رنگ بدل جاتا، اور وہ شدید غم و اندوہ میں ڈوب جاتا۔ وہ اس خبر کو خوشخبری نہیں بلکہ باعثِ شرمندگی اور مصیبت سمجھتا تھا۔

یہ "کَظِیمٌ" کا لفظ بتاتا ہے کہ وہ غم اور غصے سے بھرا ہوتا تھا، لیکن اسے اپنے اندر دبائے رکھتا تھا، باہر ظاہر نہیں کرتا تھا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ لوگ بیٹیوں کو باعثِ عار سمجھتے تھے، انہیں کمزوری اور ذلت کی علامت خیال کرتے تھے۔ کچھ لوگ تو اس قدر آگے بڑھ جاتے تھے کہ اپنی بیٹیوں کو زندہ دفن کر دیتے تھے، جیسا کہ اگلی آیت میں مذکور ہے۔

یہاں اللہ تعالیٰ اس برے رویے کو بیان فرما کر ان پر الزام لگاتے ہیں کہ یہ لوگ اپنے لیے بیٹے چاہتے ہیں، لیکن اللہ کے لیے بیٹیاں تجویز کرتے ہیں۔ یعنی جو چیز وہ خود پسند نہیں کرتے، وہ اللہ کی طرف منسوب کرتے ہیں۔ یہ ان کی جہالت اور اللہ کے بارے میں ان کے باطل تصورات کی بدترین مثال ہے۔

دعوتی پہلو:

اس آیت سے ہمیں اسلام کی عظیم تعلیمات کا پتہ چلتا ہے۔ اسلام نے لڑکیوں کو عزت و احترام کا مقام عطا کیا، انہیں رحمت اور برکت قرار دیا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "جس کی بیٹی ہو، وہ اسے زندہ دفن نہ کرے، نہ اسے ذلیل کرے، اور نہ اپنے بیٹوں پر اسے ترجیح دے، تو اللہ اسے جنت میں داخل فرمائے گا۔" (ابو داود)

آج بھی معاشرے میں کچھ لوگ بیٹی کی پیدائش پر افسوس کا اظہار کرتے ہیں، لیکن یہ جاہلیت کا رویہ ہے۔ بیٹیاں اللہ کی نعمت ہیں، رحمت کا پیغام ہیں۔ جو والدین بیٹیوں کی پرورش احسن طریقے سے کرتے ہیں، وہ قیامت کے دن ان کے لیے ڈھال بنیں گی۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اس جاہلیت کی سوچ کو ختم کریں اور بیٹیوں کو اللہ کی عظیم نعمت سمجھ کر ان کی قدر کریں، انہیں تعلیم دیں، اور ان کے حقوق ادا کریں۔ یہی اسلام کی تعلیم ہے اور یہی ہمارے نبی کریم ﷺ کا طریقہ ہے۔

🎧 سنیں

📜 آیت 56-60 — نحل

56وَيَجْعَلُونَ لِمَا لَا يَعْلَمُونَ نَصِيبًا مِّمَّا رَزَقْنَاهُمْ ۗ تَاللَّهِ لَتُسْأَلُنَّ عَمَّا كُنتُمْ تَفْتَرُونَ
اور ہمارے دیئے ہوئے مال میں سے ایسی چیزوں کا حصہ مقرر کرتے ہیں جن کو جانتے ہی نہیں۔ (کافرو) خدا کی قسم کہ جو تم افتراء کرتے ہو اس کی تم سے ضرور پرسش ہوگی
57وَيَجْعَلُونَ لِلَّهِ الْبَنَاتِ سُبْحَانَهُ ۙ وَلَهُم مَّا يَشْتَهُونَ
اور یہ لوگ خدا کے لیے تو بیٹیاں تجویز کرتے ہیں۔ (اور) وہ ان سے پاک ہے اور اپنے لیے (بیٹے) جو مرغوب ودلپسند ہیں
58وَإِذَا بُشِّرَ أَحَدُهُم بِالْأُنثَىٰ ظَلَّ وَجْهُهُ مُسْوَدًّا وَهُوَ كَظِيمٌ
حالانکہ جب ان میں سے کسی کو بیٹی (کے پیدا ہونے) کی خبر ملتی ہے تو اس کا منہ (غم کے سبب) کالا پڑ جاتا ہے اور (اس کے دل کو دیکھو تو) وہ اندوہناک ہوجاتا ہے
59يَتَوَارَىٰ مِنَ الْقَوْمِ مِن سُوءِ مَا بُشِّرَ بِهِ ۚ أَيُمْسِكُهُ عَلَىٰ هُونٍ أَمْ يَدُسُّهُ فِي التُّرَابِ ۗ أَلَا سَاءَ مَا يَحْكُمُونَ
اور اس خبر بد سے (جو وہ سنتا ہے) لوگوں سے چھپتا پھرتا ہے (اور سوچتا ہے) کہ آیا ذلت برداشت کرکے لڑکی کو زندہ رہنے دے یا زمین میں گاڑ دے۔ دیکھو یہ جو تجویز کرتے ہیں بہت بری ہے
60لِلَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ بِالْآخِرَةِ مَثَلُ السَّوْءِ ۖ وَلِلَّهِ الْمَثَلُ الْأَعْلَىٰ ۚ وَهُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ
جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے ان ہی کے لیے بری باتیں (شایان) ہیں۔ اور خدا کو صفت اعلیٰ (زیب دیتی ہے) اور وہ غالب حکمت والا ہے
نحلقرآن فہرست
128آیت
مکیRevelation
58آیت

ترجمہ — نحل 58

سورہ نحل آیت 58 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : حالانکہ جب ان میں سے کسی کو بیٹی (کے پیدا…

سورہ آیت 58/128 — نحل النحل (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: نحل سنیں, نحل ترجمہ, نحل mp3, نحل pdf. آیت 56–60. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں