ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- ثُمَّ: پھر، اس کے بعد۔
- أَتْبَعَ: پیچھے لگا، راستہ اختیار کیا۔
- سَبَبًا: ذریعہ، راستہ، وسیلہ۔
تفسیر:
اس آیتِ کریمہ میں اللہ تعالیٰ ہمیں ذوالقرنین کے سفرِ دوم کی خبر دے رہے ہیں۔ جب ذوالقرنین نے مغرب کی طرف اپنا پہلا عظیم سفر مکمل کیا اور وہاں کے حالات کے مطابق عدل و انصاف کا نظام قائم کیا، تو وہ وہاں سے لوٹے اور پھر مشرق کی طرف روانہ ہوئے۔ یعنی انہوں نے ایک نیا راستہ اختیار کیا، ایک نئی منزل کی طرف قدم بڑھایا۔
یہاں "سبب" سے مراد وہ ذرائع اور وسائل ہیں جو اللہ تعالیٰ نے انہیں عطا فرمائے تھے — علم، طاقت، حکمت، اور زمین کے اسباب۔ ذوالقرنین نے ان نعمتوں کو اللہ کی راہ میں استعمال کیا، نہ کہ اپنی خواہشات کی تکمیل کے لیے۔ وہ ہر بار نئے حالات کا سامنا کرنے کے لیے تیار رہتے تھے، اور جہاں بھی جاتے، اللہ کے دین کی سربلندی اور مخلوق کی بھلائی کا اہتمام کرتے۔
اس آیت سے ہمیں بہت بڑا سبق ملتا ہے کہ انسان کو اپنی زندگی میں جمود اور ایک ہی جگہ رکنے کے بجائے نئے اسباب اور ذرائع تلاش کرتے رہنا چاہیے۔ جو شخص اللہ پر بھروسہ کرتے ہوئے اپنے مقاصد کے حصول کے لیے جدوجہد کرتا ہے، اللہ اسے راستے دکھاتا ہے اور اس کے لیے زمین کے اسباب مسخر کر دیتا ہے۔ ذوالقرنین کی یہ عظمت محض طاقت سے نہیں تھی، بلکہ ان کی اللہ پرستی، عدل پسندی، اور ہر حال میں حق پر قائم رہنے کی وجہ سے تھی۔
آئیے ہم بھی اپنی زندگیوں میں اسوۂ ذوالقرنین کو اپنائیں — ہر قدم پر اللہ کی رضا کو پیشِ نظر رکھیں، نئے علم اور نئے وسائل حاصل کریں، اور اپنی قوت کو اللہ کی مخلوق کی خدمت اور حق کی اشاعت کے لیے استعمال کریں۔ یاد رکھیں، جو شخص اللہ کے لیے کام کرتا ہے، اللہ اسے کبھی تنہا نہیں چھوڑتا، بلکہ اس کے راستے آسان کرتا جاتا ہے۔
📜 آیت 87-91 — کہف
ترجمہ — کہف 89
سورہ کہف آیت 89 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : پھر اس نے ایک اور سامان (سفر کا) کیاسورہ آیت 89/110 — کہف الكهف (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: کہف سنیں, کہف ترجمہ, کہف mp3, کہف pdf. آیت 87–91. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








