تو تم لوہے کے (بڑے بڑے) تختے لاؤ (چنانچہ کام جاری کردیا گیا) یہاں تک کہ جب اس نے دونوں پہاڑوں کے درمیان (کا حصہ) برابر کر دیا۔ اور کہا کہ (اب اسے) دھونکو۔ یہاں تک کہ جب اس کو (دھونک دھونک) کر آگ کر دیا تو کہا کہ (اب) میرے پاس تانبہ لاؤ اس پر پگھلا کر ڈال دوں
🌐 Additional reference in فارسی
🌐 فارسی
براى من تكههاى آهن بياوريد. چون ميان آن دو كوه انباشته شد، گفت: بدميد. تا آن آهن را بگداخت. و گفت: مس گداخته بياوريد تا بر آن ريزم.
تو تم لوہے کے (بڑے بڑے) تختے لاؤ (چنانچہ کام جاری کردیا گیا) یہاں تک کہ جب اس نے دونوں پہاڑوں کے درمیان (کا حصہ) برابر کر دیا۔ اور کہا کہ (اب اسے) دھونکو۔ یہاں تک کہ جب اس کو (دھونک دھونک) کر آگ کر دیا تو کہا کہ (اب) میرے پاس تانبہ لاؤ اس پر پگھلا کر ڈال دوں
📜
ترجمہ — Tafsir
آیت نمبر 96 کے الفاظ کے معانی:
زُبَرَ الْحَدِيدِ: لوہے کے بڑے بڑے ٹکڑے یا تختے۔
الصَّدَفَيْنِ: دو پہاڑوں کے درمیانی کنارے یا دونوں اطراف۔
انفُخُوا: آگ کو پھونکو (تاکہ آگ بھڑک اٹھے)۔
قِطْرًا: پگھلا ہوا تانبا (نحاس)۔
تفسیر آیت:
حضرت ذوالقرنین علیہ السلام نے لوگوں سے کہا: "میرے پاس لوہے کے بڑے بڑے ٹکڑے لے آؤ۔" چنانچہ وہ لوہے کے تختے لائے اور انہیں دونوں پہاڑوں کے درمیان رکھ کر ایک مضبوط دیوار کی بنیاد رکھی۔ جب انہوں نے لوہے کے ان ٹکڑوں کو دونوں پہاڑوں کی چوٹیوں تک پہنچا دیا اور وہ دونوں اطراف کے برابر ہو گئے، تو انہوں نے مزدوروں سے کہا: "آگ کو پھونکو۔" چنانچہ انہوں نے آگ کو خوب بھڑکایا، یہاں تک کہ لوہے کے یہ ٹکڑے آگ کی مانند سرخ ہو گئے اور پوری طرح گرم ہو گئے۔ پھر انہوں نے کہا: "میرے پاس پگھلا ہوا تانبا لاؤ تاکہ میں اسے اس لوہے پر انڈیل دوں۔" چنانچہ تانبے کو پگھلا کر اس دیوار پر انڈیلا گیا، جس سے لوہے کے ٹکڑے آپس میں اس طرح جڑ گئے کہ ایک مضبوط اور ناقابلِ تسخیر دیوار بن گئی۔
دعوتی پہلو:
یہ آیت ہمیں سکھاتی ہے کہ جب انسان اپنی صلاحیتوں اور وسائل کو اللہ کی راہ میں استعمال کرتا ہے، تو اللہ تعالیٰ اسے ایسی توفیق دیتا ہے جو عام انسانی وسائل سے باہر ہوتی ہے۔ حضرت ذوالقرنین نے اپنی طاقت اور حکمت سے نہ صرف ایک عظیم دیوار تعمیر کی بلکہ اس طرح لوگوں کو ظالم قوم کے شر سے محفوظ رکھا۔ یہ ہمارے لیے سبق ہے کہ ہمیں اپنی قوتوں کو اللہ کی مخلوق کی بھلائی کے لیے استعمال کرنا چاہیے، نہ کہ ظلم اور فساد کے لیے۔ نیز یہ آیت اس بات کی بھی دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے نیک بندوں کو ایسے ذرائع فراہم کرتا ہے جو دنیا کے لیے باعثِ رحمت بنتے ہیں۔ آئیے ہم بھی اپنے علم، مال اور طاقت کو اللہ کی رضا اور لوگوں کی خدمت میں لگائیں، تاکہ ہم بھی اس عظیم بندے کی پیروی کر سکیں۔
ان لوگوں نے کہا ذوالقرنین! یاجوج اور ماجوج زمین میں فساد کرتے رہتے ہیں بھلا ہم آپ کے لئے خرچ (کا انتظام) کردیں کہ آپ ہمارے اور ان کے درمیان ایک دیوار کھینچ دیں
ذوالقرنین نے کہا کہ خرچ کا جو مقدور خدا نے مجھے بخشا ہے وہ بہت اچھا ہے۔ تم مجھے قوت (بازو) سے مدد دو۔ میں تمہارے اور ان کے درمیان ایک مضبوط اوٹ بنا دوں گا
تو تم لوہے کے (بڑے بڑے) تختے لاؤ (چنانچہ کام جاری کردیا گیا) یہاں تک کہ جب اس نے دونوں پہاڑوں کے درمیان (کا حصہ) برابر کر دیا۔ اور کہا کہ (اب اسے) دھونکو۔ یہاں تک کہ جب اس کو (دھونک دھونک) کر آگ کر دیا تو کہا کہ (اب) میرے پاس تانبہ لاؤ اس پر پگھلا کر ڈال دوں
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔