پھر ان میں یہ قدرت نہ رہی کہ اس پر چڑھ سکیں اور نہ یہ طاقت رہی کہ اس میں نقب لگا سکیں
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
اسْطَاعُوا: وہ طاقت نہ رکھ سکے، قادر نہ ہو سکے۔
یَظْهَرُوهُ: اس پر چڑھ سکیں، اوپر سے غالب آ سکیں۔
نَقْبًا: سوراخ، شگاف، کھودنا۔
تفسیر:
اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے ذوالقرنین کے بنائے ہوئے آہنی دیوار کے بارے میں بتایا کہ جب یاجوج اور ماجوج نے اس دیوار تک رسائی حاصل کی اور اسے عبور کرنے کی کوشش کی، تو وہ اس پر قادر نہ ہو سکے۔ نہ وہ اس پر چڑھ سکے، کیونکہ وہ دیوار نہایت بلند، چکنی اور پھسلن والی تھی، اور نہ ہی وہ اس کے نیچے سے نقب لگا سکے، کیونکہ وہ دیوار نہایت مضبوط، موٹی اور سخت تھی۔ اس طرح اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت سے اس دیوار کو ان کے لیے ناقابلِ عبور بنا دیا، تاکہ وہ لوگوں کو نقصان نہ پہنچا سکیں۔
یہ واقعہ ہمیں اللہ کی عظیم قدرت کا احساس دلاتا ہے کہ وہ اپنے بندوں کی حفاظت کے لیے ایسے ذرائع پیدا کرتا ہے جو انسانی طاقت سے بالاتر ہوتے ہیں۔ جب بندہ اللہ پر بھروسہ کرتا ہے اور نیک کام کرتا ہے، تو اللہ اس کی حفاظت کے انتظامات خود فرماتا ہے۔ ذوالقرنین نے جو دیوار بنائی، وہ محض لوہے اور تانبے کا مرکب تھی، لیکن اللہ نے اسے اتنی مضبوطی عطا فرمائی کہ صدیوں تک یاجوج اور ماجوج اسے عبور نہ کر سکے۔
یہ آیت ہمیں یہ بھی سکھاتی ہے کہ اللہ کی حفاظت میں رہنے والے بندے کے لیے کوئی طاقت نقصان نہیں پہنچا سکتی، چاہے وہ کتنی ہی بڑی اور طاقتور کیوں نہ ہو۔ اور جب اللہ کسی چیز کو محفوظ رکھنا چاہتا ہے، تو اسے ہر قسم کے خطرات سے بچا لیتا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے معاملات میں اللہ پر توکل کریں، اپنے کام نیک نیتی سے کریں، اور اللہ سے حفاظت کی دعا مانگتے رہیں، کیونکہ وہی سب سے بہتر محافظ ہے۔
ذوالقرنین نے کہا کہ خرچ کا جو مقدور خدا نے مجھے بخشا ہے وہ بہت اچھا ہے۔ تم مجھے قوت (بازو) سے مدد دو۔ میں تمہارے اور ان کے درمیان ایک مضبوط اوٹ بنا دوں گا
تو تم لوہے کے (بڑے بڑے) تختے لاؤ (چنانچہ کام جاری کردیا گیا) یہاں تک کہ جب اس نے دونوں پہاڑوں کے درمیان (کا حصہ) برابر کر دیا۔ اور کہا کہ (اب اسے) دھونکو۔ یہاں تک کہ جب اس کو (دھونک دھونک) کر آگ کر دیا تو کہا کہ (اب) میرے پاس تانبہ لاؤ اس پر پگھلا کر ڈال دوں
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔