مریم · 46/98
ترجمہ تلفظ — مریم
قَالَ أَرَاغِبٌ أَنتَ عَنْ آلِهَتِي يَا إِبْرَاهِيمُ ۖ لَئِن لَّمْ تَنتَهِ لَأَرْجُمَنَّكَ ۖ وَاهْجُرْنِي مَلِيًّا ۝٤٦
Qaala araaghibun anta `an aalihatee yaaa Ibraaheemu la `il lam tantahi la arjumannaka wahjumee maliyyaa
📖 اردو ترجمہ
اس نے کہا ابراہیم کیا تو میرے معبودوں سے برگشتہ ہے؟ اگر تو باز نہ آئے گا تو میں تجھے سنگسار کردوں گا اور تو ہمیشہ کے لئے مجھ سے دور ہوجا
📜

ترجمہ — Tafsir

معانی الفاظ:

  • أَرَاغِبٌ أَنتَ عَنْ آلِهَتِي: کیا تم میرے معبودوں سے منہ موڑ رہے ہو؟ یعنی کیا تم ان کی عبادت سے بیزار ہو گئے ہو؟
  • لَئِن لَّمْ تَنتَهِ: اگر تم باز نہ آئے (ان کی برائی کرنے سے)
  • لَأَرْجُمَنَّكَ: میں تمہیں پتھروں سے ماروں گا (یعنی سنگسار کر دوں گا)
  • وَاهْجُرْنِي مَلِيًّا: اور مجھے چھوڑ دو، یعنی مجھ سے دور رہو اور لمبے عرصے تک مجھ سے ملاقات نہ کرو۔

تفسیر:

یہ آیت ہمیں حضرت ابراہیم علیہ السلام اور ان کے والد آزر کے درمیان ہونے والے اس تاریخی مکالمے کا منظر دکھاتی ہے، جب ابراہیم علیہ السلام نے اپنے والد کو شرک اور بت پرستی سے باز رہنے کی نصیحت کی تھی۔ آزر نے اپنے بیٹے کی اس نصیحت کو برداشت نہ کیا اور غصے میں آکر کہا: "اے ابراہیم! کیا تم میرے معبودوں سے منہ موڑ رہے ہو؟ کیا تمہیں ان کی عبادت پسند نہیں؟" یہ سوال دراصل طنز اور ملامت کے انداز میں تھا، کیونکہ آزر اپنے آباء و اجداد کے دین پر سختی سے جما ہوا تھا۔

پھر اس نے دھمکی دی: "اگر تم نے اپنے اس رویے سے باز نہ آئے اور میرے معبودوں کی برائی کرتے رہے تو میں تمہیں پتھروں سے مار ڈالوں گا۔" یہ ایک سخت دھمکی تھی، جو ظاہر کرتی ہے کہ آزر اپنے بیٹے کی دعوتِ توحید کو کس قدر خطرناک سمجھتا تھا۔ آخر میں اس نے کہا: "اور مجھ سے دور رہو، لمبے عرصے تک مجھ سے ملاقات نہ کرو۔" یعنی وہ اپنے بیٹے سے قطع تعلق کا اعلان کر رہا تھا۔

یہ واقعہ ہمیں سکھاتا ہے کہ حق کا راستہ اختیار کرنے پر انسان کو اپنے قریب ترین لوگوں کی مخالفت اور دشمنی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، لیکن حق پر قائم رہنا ہی مومن کا اصل فریضہ ہے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے والد کی اس سخت دھمکی کے باوجود نرمی اور حکمت سے جواب دیا، جیسا کہ آگے کی آیات میں آتا ہے۔ یہ ہمارے لیے بھی درس ہے کہ دعوتِ حق کے راستے میں آنے والی رکاوٹوں اور مخالفتوں سے گھبرانا نہیں چاہیے، بلکہ صبر اور حکمت سے اپنا کام جاری رکھنا چاہیے۔

یہ آیت اس بات کی بھی عکاسی کرتی ہے کہ ایمان لانے والے کو اپنے خاندان اور برادری کی مخالفت کا سامنا کرنا پڑتا ہے، لیکن اللہ تعالیٰ اپنے نیک بندوں کی مدد کرتا ہے اور انہیں کبھی تنہا نہیں چھوڑتا۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کا یہ واقعہ ہمارے لیے مشعلِ راہ ہے کہ ہم بھی اپنے گھر والوں اور رشتہ داروں کو حق کی طرف بلائیں، چاہے ان کی طرف سے کتنی ہی مخالفت کیوں نہ ہو، کیونکہ آخر کار حق ہی غالب آتا ہے۔

🎧 سنیں

📜 آیت 44-48 — مریم

44يَا أَبَتِ لَا تَعْبُدِ الشَّيْطَانَ ۖ إِنَّ الشَّيْطَانَ كَانَ لِلرَّحْمَٰنِ عَصِيًّا
ابّا شیطان کی پرستش نہ کیجیئے۔ بےشک شیطان خدا کا نافرمان ہے
45يَا أَبَتِ إِنِّي أَخَافُ أَن يَمَسَّكَ عَذَابٌ مِّنَ الرَّحْمَٰنِ فَتَكُونَ لِلشَّيْطَانِ وَلِيًّا
ابّا مجھے ڈر لگتا ہے کہ آپ کو خدا کا عذاب آپکڑے تو آپ شیطان کے ساتھی ہوجائیں
46قَالَ أَرَاغِبٌ أَنتَ عَنْ آلِهَتِي يَا إِبْرَاهِيمُ ۖ لَئِن لَّمْ تَنتَهِ لَأَرْجُمَنَّكَ ۖ وَاهْجُرْنِي مَلِيًّا
اس نے کہا ابراہیم کیا تو میرے معبودوں سے برگشتہ ہے؟ اگر تو باز نہ آئے گا تو میں تجھے سنگسار کردوں گا اور تو ہمیشہ کے لئے مجھ سے دور ہوجا
47قَالَ سَلَامٌ عَلَيْكَ ۖ سَأَسْتَغْفِرُ لَكَ رَبِّي ۖ إِنَّهُ كَانَ بِي حَفِيًّا
ابراہیم نے سلام علیک کہا (اور کہا کہ) میں آپ کے لئے اپنے پروردگار سے بخشش مانگوں گا۔ بےشک وہ مجھ پر نہایت مہربان ہے
48وَأَعْتَزِلُكُمْ وَمَا تَدْعُونَ مِن دُونِ اللَّهِ وَأَدْعُو رَبِّي عَسَىٰ أَلَّا أَكُونَ بِدُعَاءِ رَبِّي شَقِيًّا
اور میں آپ لوگوں سے اور جن کو آپ خدا کے سوا پکارا کرتے ہیں ان سے کنارہ کرتا ہوں اور اپنے پروردگار ہی کو پکاروں گا۔ امید ہے کہ میں اپنے پروردگار کو پکار کر محروم نہیں رہوں گا
مریمقرآن فہرست
98آیت
مکیRevelation
46آیت

ترجمہ — مریم 46

سورہ مریم آیت 46 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : اس نے کہا ابراہیم کیا تو میرے معبودوں سے برگشتہ…

سورہ آیت 46/98 — مریم مريم (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: مریم سنیں, مریم ترجمہ, مریم mp3, مریم pdf. آیت 44–48. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں