ابّا مجھے ڈر لگتا ہے کہ آپ کو خدا کا عذاب آپکڑے تو آپ شیطان کے ساتھی ہوجائیں
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
یَمَسَّکَ: تجھے چھو لے، پہنچ جائے
عَذَابٌ: سزا، عذاب
وَلِیًّا: دوست، ساتھی، قرین
تفسیر:
اے میرے والد محترم! میں ڈرتا ہوں کہ کہیں آپ پر رحمٰن کا عذاب نازل نہ ہو جائے۔ یہ خوف اس لیے ہے کہ اگر آپ کفر اور شرک کی حالت میں دنیا سے گئے، تو اللہ تعالیٰ کا عذاب آپ کو اپنی لپیٹ میں لے لے گا۔ اور پھر آپ شیطان کے دوست اور اس کے ساتھی بن جائیں گے، جہنم میں اس کے ساتھ رہیں گے۔
یہ وہ محبت بھرا انداز ہے جو حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے باپ آزر کو سمجھانے کے لیے اختیار کیا۔ وہ اپنے باپ کی ہدایت کے لیے انتہائی نرمی اور شفقت کا اظہار کر رہے ہیں، اور انہیں آخرت کے عذاب سے ڈرا رہے ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ ان کے والد اس عذاب سے بچ جائیں اور شیطان کے ساتھی بننے سے محفوظ رہیں۔
اس آیت سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ ہمیں اپنے والدین اور بزرگوں کو حق کی دعوت انتہائی محبت اور نرمی سے دینی چاہیے، اور ان کی فکر کرنی چاہیے کہ وہ اللہ کے عذاب سے بچ جائیں۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کا یہ انداز ہمارے لیے بہترین نمونہ ہے کہ ہم اپنے گھر والوں کو جہنم کے عذاب سے ڈرائیں اور انہیں جنت کی راہ دکھائیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے والدین کے ساتھ حسن سلوک اور ان کی ہدایت کے لیے کوشش کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔