اور ہم نے ان سے پہلے بہت سی اُمتیں ہلاک کردیں۔ وہ لوگ (ان سے) ٹھاٹھ اور نمود میں کہیں اچھے تھے
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
اَثاثًا: مال، لباس، اور گھر کا سامان۔
رِئْیًا: صورت، شکل و شبہت، اور ظاہری حسن و جمال۔
تفسیر:
اس آیت میں اللہ تعالیٰ ان کافروں کو جواب دے رہے ہیں جو اپنے مال و دولت، ظاہری شان و شوکت، اور دنیوی سازوسامان پر نازاں و فرحاں تھے اور اپنے آپ کو بہتر سمجھتے تھے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ اے پیغمبر! ان سے پہلے ہم نے کتنی ہی قوموں کو ہلاک کیا جو مال و دولت، لباس اور ظاہری حسن و جمال میں ان سے کہیں بڑھ کر تھیں۔ ان کے پاس شاندار مکانات، قیمتی لباس، اور خوبصورت صورتیں تھیں، لیکن جب وہ ہمارے احکام سے سرتابی کرتے رہے اور اپنے کفر و غرور پر اڑے رہے، تو ہماری گرفت نے انہیں نیست و نابود کر دیا۔
یہ آیت ہمیں ایک بہت بڑا سبق دیتی ہے کہ دنیا کی ظاہری رونق اور مادی ترقی کبھی بھی اللہ کے عذاب سے نہیں بچا سکتی۔ جو لوگ صرف مال و دولت اور ظاہری حسن پر فخر کرتے ہیں، وہ حقیقت میں اندھے ہیں، کیونکہ یہ سب کچھ عارضی ہے اور ایک دن ختم ہو جانے والا ہے۔ اللہ کی نظر میں اصل عزت تقویٰ اور ایمان کی ہے، نہ کہ دنیوی سازوسامان کی۔
پیارے بھائیو اور بہنو! ہمیں چاہیے کہ ہم اپنی زندگیوں میں اس حقیقت کو ہمیشہ یاد رکھیں کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں جو کچھ دیا ہے، وہ ایک آزمائش ہے، نہ کہ فخر کا ذریعہ۔ ہم جتنا بھی مال و دولت جمع کر لیں، جتنا بھی خوبصورت لباس پہن لیں، لیکن اگر ہمارے دل میں اللہ کا خوف اور اس کے رسول ﷺ کی محبت نہیں، تو یہ سب کچھ ہمارے لیے وبال بن سکتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں دنیا کی چمک دمک سے بے نیاز ہو کر اپنی رضا کی طرف مائل ہونے کی توفیق عطا فرمائیں۔ آمین۔
کہہ دو کہ جو شخص گمراہی میں پڑا ہوا ہے خدا اس کو آہستہ آہستہ مہلت دیئے جاتا ہے۔ یہاں تک کہ جب اس چیز کو دیکھ لیں گے جس کا ان سے وعدہ کیا جاتا ہے خواہ عذاب اور خواہ قیامت۔ تو (اس وقت) جان لیں گے کہ مکان کس کا برا ہے اور لشکر کس کا کمزور ہے
اور جو لوگ ہدایت یاب ہیں خدا ان کو زیادہ ہدایت دیتا ہے۔ اور نیکیاں جو باقی رہنے والی ہیں وہ تمہارے پروردگار کے صلے کے لحاظ سے خوب اور انجام کے اعتبار سے بہتر ہیں
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔