بقرہ · 131/286
ترجمہ تلفظ — بقرہ
إِذْ قَالَ لَهُ رَبُّهُ أَسْلِمْ ۖ قَالَ أَسْلَمْتُ لِرَبِّ الْعَالَمِينَ ۝١٣١
Iz qaala lahoo Rabbuhooo aslim qaala aslamtu li Rabbil `aalameen
📖 اردو ترجمہ
جب ان سے ان کے پروردگار نے فرمایا کہ اسلام لے آؤ تو انہوں نے عرض کی کہ میں رب العالمین کے آگے سر اطاعت خم کرتا ہوں
📜

ترجمہ — Tafsir

معانی الفاظ:

  • أَسْلِمْ: اپنے آپ کو اللہ کے حوالے کر، اس کی اطاعت میں سر تسلیم خم کر، اور اپنے دین و عمل کو خالص اللہ کے لیے کر دے۔
  • أَسْلَمْتُ: میں نے اپنے آپ کو اللہ کے حوالے کر دیا، اس کی اطاعت قبول کر لی، اور اپنے معاملات اسی کے سپرد کر دیے۔
  • رَبِّ الْعَالَمِینَ: تمام جہانوں کا پروردگار، جو تمام مخلوقات کا خالق، رازق اور مدبر ہے۔

تفسیر:

یہ آیت کریمہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے اس عظیم مقام و مرتبے کو بیان کرتی ہے جس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے انہیں اپنا خلیل (دوست) بنایا۔ جب ان کے رب نے انہیں حکم دیا: "اسلم" یعنی اپنے آپ کو میرے حوالے کر دو، میری اطاعت میں سر تسلیم خم کر دو، اور اپنے دین کو میرے لیے خالص کر دو، تو انہوں نے نہ صرف یہ کہ فوراً حکم مان لیا، بلکہ بلا کسی تردد اور تاخیر کے پکار اٹھے: "میں نے تمام جہانوں کے رب کے لیے اپنے آپ کو حوالے کر دیا۔"

یہ جواب دراصل ان کے ایمان کی گہرائی، محبت کی شدت، اور اطاعت میں سرعت کا مظہر تھا۔ انہوں نے کہا: "أَسْلَمْتُ" یعنی میں نے اپنے معاملات، اپنی زندگی، اپنی موت، اپنی عبادت، سب کچھ اسی رب کے سپرد کر دیا جو تمام جہانوں کا خالق اور مالک ہے۔ انہوں نے "لِرَبِّ الْعَالَمِینَ" کہہ کر یہ واضح کر دیا کہ ان کا اسلام کسی دنیاوی فائدے یا خوف کی وجہ سے نہیں، بلکہ خالص اللہ کی محبت اور اس کی ربوبیت کے اقرار کی وجہ سے ہے۔

یہاں یہ نکتہ قابل غور ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام پہلے سے مسلمان تھے، لیکن اللہ نے انہیں "اسلم" کہہ کر اس پر استقامت اور ثبات کا حکم دیا۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ اسلام ایک بار قبول کر لینے کا نام نہیں، بلکہ اس پر قائم رہنا اور ہر لمحہ اپنے آپ کو اللہ کے حوالے کیے رکھنا ہے۔

دعوتی پہلو:

اس آیت سے ہمیں بہت بڑا سبق ملتا ہے کہ اللہ کی طرف سے جب کوئی حکم آئے تو اس پر فوراً عمل کرنا چاہیے، بغیر کسی تردد کے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اسی طرح کیا۔ آج ہماری زندگی میں بھی جب اللہ کے احکام آتے ہیں، جیسے نماز، روزہ، زکوة، حج، اور دوسرے شرعی احکام، تو ہمیں بھی فوراً لبیک کہنا چاہیے۔ ہمیں اپنے دلوں کو اللہ کے حوالے کر دینا چاہیے، اپنے معاملات کو اس کے سپرد کر دینا چاہیے، اور ہر حال میں یہ کہنا چاہیے: "میں نے تمام جہانوں کے رب کے لیے اپنے آپ کو حوالے کر دیا۔" یہی وہ راستہ ہے جو ہمیں اللہ کی محبت اور اس کی قربت تک پہنچاتا ہے، اور یہی وہ مقام ہے جو حضرت ابراہیم علیہ السلام کو ملا۔ اللہ ہمیں بھی اس عظیم مقام کی طرف لے جائے۔ آمین۔

🎧 سنیں

📜 آیت 129-133 — بقرہ

129رَبَّنَا وَابْعَثْ فِيهِمْ رَسُولًا مِّنْهُمْ يَتْلُو عَلَيْهِمْ آيَاتِكَ وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ وَيُزَكِّيهِمْ ۚ إِنَّكَ أَنتَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ
اے پروردگار، ان (لوگوں) میں انہیں میں سے ایک پیغمبر مبعوث کیجیو جو ان کو تیری آیتیں پڑھ پڑھ کر سنایا کرے اور کتاب اور دانائی سکھایا کرے اور ان (کے دلوں) کو پاک صاف کیا کرے۔ بےشک تو غالب اور صاحبِ حکمت ہے
130وَمَن يَرْغَبُ عَن مِّلَّةِ إِبْرَاهِيمَ إِلَّا مَن سَفِهَ نَفْسَهُ ۚ وَلَقَدِ اصْطَفَيْنَاهُ فِي الدُّنْيَا ۖ وَإِنَّهُ فِي الْآخِرَةِ لَمِنَ الصَّالِحِينَ
اور ابراہیم کے دین سے کون رو گردانی کر سکتا ہے، بجز اس کے جو نہایت نادان ہو۔ ہم نے ان کو دنیا میں بھی منتخب کیا تھا اور آخرت میں بھی وہ (زمرہٴ) صلحا میں سے ہوں گے
131إِذْ قَالَ لَهُ رَبُّهُ أَسْلِمْ ۖ قَالَ أَسْلَمْتُ لِرَبِّ الْعَالَمِينَ
جب ان سے ان کے پروردگار نے فرمایا کہ اسلام لے آؤ تو انہوں نے عرض کی کہ میں رب العالمین کے آگے سر اطاعت خم کرتا ہوں
132وَوَصَّىٰ بِهَا إِبْرَاهِيمُ بَنِيهِ وَيَعْقُوبُ يَا بَنِيَّ إِنَّ اللَّهَ اصْطَفَىٰ لَكُمُ الدِّينَ فَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنتُم مُّسْلِمُونَ
اور ابرہیم نے اپنے بیٹوں کو اسی بات کی وصیت کی اور یعقوب نے بھی (اپنے فرزندوں سے یہی کہا) کہ بیٹا خدا نے تمہارے لیے یہی دین پسند فرمایا ہے تو مرنا ہے تو مسلمان ہی مرنا
133أَمْ كُنتُمْ شُهَدَاءَ إِذْ حَضَرَ يَعْقُوبَ الْمَوْتُ إِذْ قَالَ لِبَنِيهِ مَا تَعْبُدُونَ مِن بَعْدِي قَالُوا نَعْبُدُ إِلَٰهَكَ وَإِلَٰهَ آبَائِكَ إِبْرَاهِيمَ وَإِسْمَاعِيلَ وَإِسْحَاقَ إِلَٰهًا وَاحِدًا وَنَحْنُ لَهُ مُسْلِمُونَ
بھلا جس وقت یعقوب وفات پانے لگے تو تم اس وقت موجود تھے، جب انہوں نے اپنے بیٹوں سے پوچھا کہ میرے بعد تم کس کی عبادت کرو گے، تو انہوں نے کہا کہ آپ کے معبود اور آپ کے باپ دادا ابراہیم اور اسمٰعیل اور اسحاق کے معبود کی عبادت کریں گے جو معبود یکتا ہے اور ہم اُسی کے حکم بردار ہیں
بقرہقرآن فہرست
286آیت
مدنیRevelation
131آیت

ترجمہ — بقرہ 131

سورہ بقرہ آیت 131 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : جب ان سے ان کے پروردگار نے فرمایا کہ اسلام…

سورہ آیت 131/286 — بقرہ البقرة (مدنی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: بقرہ سنیں, بقرہ ترجمہ, بقرہ mp3, بقرہ pdf. آیت 129–133. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں