Qoolooo aamannaa billaahi wa maaa unzila ilainaa wa maaa unzila ilaaa Ibraaheema wa Ismaa`eela wa Ishaaqa wa Ya`qooba wal Asbaati wa maaootiya Moosa wa `Eesaa wa maaa ootiyan Nabiyyoona mir Rabbihim laa nufaariq baina ahadim minhum wa nahnu lahoo muslimoon
📖 ترجمہ (اردو ترجمہ)
📖 اردو ترجمہ
(مسلمانو) کہو کہ ہم خدا پر ایمان لائے اور جو (کتاب) ہم پر اتری، اس پر اور جو (صحیفے) ابراہیم اور اسمٰعیل اور اسحاق اور یعقوب اور ان کی اولاد پر نازل ہوئے ان پر اور جو (کتابیں) موسیٰ اور عیسی کو عطا ہوئیں، ان پر، اور جو اور پیغمبروں کو ان کے پروردگار کی طرف سے ملیں، ان پر (سب پر ایمان لائے) ہم ان پیغمروں میں سے کسی میں کچھ فرق نہیں کرتے اور ہم اسی (خدائے واحد) کے فرمانبردار ہیں
🌐 Additional reference in فارسی
🌐 فارسی
بگوييد: ما به خدا و آياتى كه بر ما نازل شده و نيز آنچه بر ابراهيم و اسماعيل و اسحاق و يعقوب و سبطها نازل آمده و نيز آنچه به موسى و عيسى فرستاده شده و آنچه بر پيامبران ديگر از جانب پروردگارشان آمده است، ايمان آوردهايم. ميان هيچ يك از پيامبران فرقى نمىنهيم و همه در برابر خدا تسليم هستيم.
(مسلمانو) کہو کہ ہم خدا پر ایمان لائے اور جو (کتاب) ہم پر اتری، اس پر اور جو (صحیفے) ابراہیم اور اسمٰعیل اور اسحاق اور یعقوب اور ان کی اولاد پر نازل ہوئے ان پر اور جو (کتابیں) موسیٰ اور عیسی کو عطا ہوئیں، ان پر، اور جو اور پیغمبروں کو ان کے پروردگار کی طرف سے ملیں، ان پر (سب پر ایمان لائے) ہم ان پیغمروں میں سے کسی میں کچھ فرق نہیں کرتے اور ہم اسی (خدائے واحد) کے فرمانبردار ہیں
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
الْأَسْبَاطِ: حضرت یعقوب علیہ السلام کی اولاد میں سے بارہ قبیلوں کے انبیاء، جنہیں "اسباط" کہا جاتا ہے۔
لَا نُفَرِّقُ بَيْنَ أَحَدٍ مِّنْهُمْ: ہم ان میں سے کسی ایک پر ایمان لانے اور کسی کو چھوڑنے میں فرق نہیں کرتے۔
مُسْلِمُونَ: ہم اللہ کے فرمانبردار اور اس کے حضور سر تسلیم خم کرنے والے ہیں۔
تفسیر:
اے ایمان والو! تم اہل کتاب (یہود و نصاریٰ) سے کہو: ہم اللہ پر ایمان لائے، اور اس قرآن پر جو ہماری طرف نازل کیا گیا، اور ان صحیفوں پر جو حضرت ابراہیم علیہ السلام کو دیے گئے، اور حضرت اسماعیل، حضرت اسحاق، حضرت یعقوب اور ان کی اولاد میں سے جو انبیاء گزرے ہیں، ان سب پر ایمان لائے۔ ہم اس تورات پر بھی ایمان رکھتے ہیں جو موسیٰ علیہ السلام کو دی گئی، اور اس انجیل پر بھی جو عیسیٰ علیہ السلام کو عطا ہوئی، اور ہر اس کتاب اور وحی پر ایمان لاتے ہیں جو اللہ نے اپنے تمام نبیوں کو عطا فرمائی۔ ہم انبیاء میں سے کسی ایک کے درمیان فرق نہیں کرتے کہ کسی کو مان لیں اور کسی کا انکار کر دیں، بلکہ ہم سب پر یکساں ایمان رکھتے ہیں، اور ہم اللہ کے حضور مکمل طور پر سر تسلیم خم کرنے والے ہیں۔
یہ آیت مسلمانوں کو سکھاتی ہے کہ ایمان کا تقاضا یہ ہے کہ تمام انبیاء اور آسمانی کتب پر بلا کسی تفریق کے ایمان لایا جائے۔ یہود و نصاریٰ نے اپنے نبیوں میں سے بعض کو مانا اور بعض کا انکار کیا، لیکن اسلام کا راستہ یہ ہے کہ ہر نبی کو اس کے مرتبے پر تسلیم کیا جائے۔ یہی وہ جامع اور مکمل ایمان ہے جو اللہ کو پسند ہے، اور یہی وہ راستہ ہے جو انسان کو کامیابی اور نجات تک پہنچاتا ہے۔
دعوتی پہلو:
اس آیت میں مسلمانوں کے لیے ایک خوبصورت سبق ہے کہ ہم اپنے ایمان کو مکمل کریں اور تمام انبیاء کی تعظیم کریں، کیونکہ یہی وہ چیز ہے جو ہمیں اہل کتاب سے ممتاز کرتی ہے۔ ہم ایک ایسی امت ہیں جو تمام انبیاء کو ایک سلسلے کی کڑیاں سمجھتی ہے، اور یہی ہماری عظمت ہے۔ آئیے ہم اس تعلیم پر عمل کریں اور اپنے دلوں کو تمام انبیاء کی محبت سے بھر دیں، کیونکہ یہی ایمان کی مکمل صورت ہے جو اللہ کے ہاں مقبول ہے۔
اور (یہودی اور عیسائی) کہتے ہیں کہ یہودی یا عیسائی ہو جاؤ تو سیدھے رستے پر لگ جاؤ۔ (اے پیغمبر ان سے) کہہ دو، (نہیں) بلکہ (ہم) دین ابراہیم (اختیار کئے ہوئے ہیں) جو ایک خدا کے ہو رہے تھے اور مشرکوں میں سے نہ تھے
(مسلمانو) کہو کہ ہم خدا پر ایمان لائے اور جو (کتاب) ہم پر اتری، اس پر اور جو (صحیفے) ابراہیم اور اسمٰعیل اور اسحاق اور یعقوب اور ان کی اولاد پر نازل ہوئے ان پر اور جو (کتابیں) موسیٰ اور عیسی کو عطا ہوئیں، ان پر، اور جو اور پیغمبروں کو ان کے پروردگار کی طرف سے ملیں، ان پر (سب پر ایمان لائے) ہم ان پیغمروں میں سے کسی میں کچھ فرق نہیں کرتے اور ہم اسی (خدائے واحد) کے فرمانبردار ہیں
تو اگر یہ لوگ بھی اسی طرح ایمان لے آئیں جس طرح تم ایمان لے آئے ہو تو ہدایت یاب ہو جائیں اور اگر منہ پھیر لیں (اور نہ مانیں) تو وہ (تمھارے) مخالف ہیں اور ان کے مقابلے میں تمھیں خدا کافی ہے۔ اور وہ سننے والا (اور) جاننے والا ہے
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔