Fa in aamanoo bimisli maaa aamantum bihee faqadih tadaw wa in tawallaw fa innamaa hum fee shiqaaq; fasayakfeekahumul laah; wa Huwas Samee`ul Aleem
📖 ترجمہ (اردو ترجمہ)
📖 اردو ترجمہ
تو اگر یہ لوگ بھی اسی طرح ایمان لے آئیں جس طرح تم ایمان لے آئے ہو تو ہدایت یاب ہو جائیں اور اگر منہ پھیر لیں (اور نہ مانیں) تو وہ (تمھارے) مخالف ہیں اور ان کے مقابلے میں تمھیں خدا کافی ہے۔ اور وہ سننے والا (اور) جاننے والا ہے
🌐 Additional reference in فارسی
🌐 فارسی
اگر به آنچه شما ايمان آوردهايد، آنان نيز ايمان بياورند، هدايت يافتهاند. امّا اگر روى برتافتند، پس با تو سرِ خلاف دارند و در برابر آنها خدا تو را كافى است كه او شنوا و داناست.
تو اگر یہ لوگ بھی اسی طرح ایمان لے آئیں جس طرح تم ایمان لے آئے ہو تو ہدایت یاب ہو جائیں اور اگر منہ پھیر لیں (اور نہ مانیں) تو وہ (تمھارے) مخالف ہیں اور ان کے مقابلے میں تمھیں خدا کافی ہے۔ اور وہ سننے والا (اور) جاننے والا ہے
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
بِمِثْلِ مَا آمَنْتُمْ بِهِ: اس سے مراد وہ ایمان ہے جو تمہیں (مسلمانوں کو) دیا گیا، یعنی قرآن اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانا۔
شِقَاقٍ: مخالفت، عداوت اور شدید جھگڑا۔
فَسَيَكْفِيكَهُمُ: اللہ تعالیٰ تمہارے لیے ان کا مقابلہ کرنے اور ان کے شر سے بچانے کے لیے کافی ہو جائے گا۔
تفسیر:
اے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم! آپ اہل کتاب (یہود و نصاریٰ) اور دیگر کافروں کو اسلام کی دعوت دیتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اگر یہ لوگ اسی طرح ایمان لے آئیں جس طرح تم ایمان لائے ہو — یعنی اللہ پر، اس کے فرشتوں پر، اس کی کتابوں پر، اس کے رسولوں پر اور آخرت کے دن پر — اور جو کچھ محمد صلی اللہ علیہ وسلم لے کر آئے ہیں اس کی تصدیق کریں، تو وہ ہدایت پا گئے اور سیدھے راستے پر آ گئے۔ لیکن اگر وہ اس ایمان سے منہ موڑیں اور اعراض کریں، تو پھر وہ صرف مخالفت اور عداوت میں مبتلا ہیں، انہوں نے حق کو چھوڑ کر باطل کو اختیار کیا ہے۔
اے نبی! آپ ان کے رویے سے غمگین نہ ہوں، کیونکہ اللہ تعالیٰ خود آپ کی حفاظت فرمائے گا اور ان کے شر سے آپ کو بچائے گا۔ اللہ نے اپنے نبی کی مدد کا وعدہ کیا ہے، اور یہ وعدہ پورا بھی ہوا — بنو نضیر کو جلاوطن کیا گیا، بنو قریظہ کے ساتھ معاملہ کیا گیا، اور اہل کتاب پر جزیہ مقرر کیا گیا۔ اللہ تعالیٰ سب کچھ سننے والا ہے — وہ ان کے کلمات جانتا ہے جو وہ آپ کے خلاف کہتے ہیں — اور وہ سب کچھ جاننے والا ہے — وہ ان کے دلوں کے راز اور ان کے اعمال سے باخبر ہے۔
دعوتی پہلو:
اس آیت میں مسلمانوں کے لیے بہت بڑی خوشخبری اور اطمینان کا سامان ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو یقین دلاتا ہے کہ حق پر قائم رہنے والوں کی وہ خود مدد کرتا ہے۔ جب آپ ایمان پر ثابت قدم رہیں گے، تو اللہ آپ کے دشمنوں کا مقابلہ خود کرے گا۔ یہ آیت ہمیں سکھاتی ہے کہ ایمان کی راہ پر چلنے والوں کو کبھی تنہا نہیں چھوڑا جاتا۔ اللہ کی مدد کا وعدہ ہر اس شخص کے ساتھ ہے جو سچے دل سے ایمان لاتا ہے اور اس پر قائم رہتا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے ایمان کو مضبوط کریں اور اللہ پر بھروسہ رکھیں، کیونکہ وہی ہمارا حامی و ناصر ہے۔ جو لوگ حق سے منہ موڑتے ہیں وہ دراصل اپنے آپ کو نقصان میں ڈالتے ہیں، کیونکہ اللہ کی طاقت سے کوئی نہیں بچ سکتا۔
اور (یہودی اور عیسائی) کہتے ہیں کہ یہودی یا عیسائی ہو جاؤ تو سیدھے رستے پر لگ جاؤ۔ (اے پیغمبر ان سے) کہہ دو، (نہیں) بلکہ (ہم) دین ابراہیم (اختیار کئے ہوئے ہیں) جو ایک خدا کے ہو رہے تھے اور مشرکوں میں سے نہ تھے
(مسلمانو) کہو کہ ہم خدا پر ایمان لائے اور جو (کتاب) ہم پر اتری، اس پر اور جو (صحیفے) ابراہیم اور اسمٰعیل اور اسحاق اور یعقوب اور ان کی اولاد پر نازل ہوئے ان پر اور جو (کتابیں) موسیٰ اور عیسی کو عطا ہوئیں، ان پر، اور جو اور پیغمبروں کو ان کے پروردگار کی طرف سے ملیں، ان پر (سب پر ایمان لائے) ہم ان پیغمروں میں سے کسی میں کچھ فرق نہیں کرتے اور ہم اسی (خدائے واحد) کے فرمانبردار ہیں
تو اگر یہ لوگ بھی اسی طرح ایمان لے آئیں جس طرح تم ایمان لے آئے ہو تو ہدایت یاب ہو جائیں اور اگر منہ پھیر لیں (اور نہ مانیں) تو وہ (تمھارے) مخالف ہیں اور ان کے مقابلے میں تمھیں خدا کافی ہے۔ اور وہ سننے والا (اور) جاننے والا ہے
(ان سے) کہو، کیا تم خدا کے بارے میں ہم سے جھگڑتے ہو، حالانکہ وہی ہمارا اور تمھارا پروردگار ہے اور ہم کو ہمارے اعمال (کا بدلہ ملے گا) اور تم کو تمھارے اعمال (کا) اور ہم خاص اسی کی عبادت کرنے والے ہیں
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔