ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- أَلْفَيْنَا: ہم نے پایا، ہم نے دیکھا۔
- آبَاءَنَا: ہمارے باپ دادا، ہمارے بزرگ۔
- لَا يَعْقِلُونَ شَيْئًا: کچھ بھی سمجھتے نہیں، کوئی عقل و شعور نہیں رکھتے۔
- وَلَا يَهْتَدُونَ: اور نہ ہی وہ ہدایت پاتے ہیں، راہ راست نہیں پاتے۔
تفسیر:
جب اہل ایمان کی طرف سے ان لوگوں کو نصیحت کی جاتی ہے جو گمراہی میں مبتلا ہیں کہ اللہ کی نازل کردہ ہدایت کی پیروی کرو، تو وہ ضد اور ہٹ دھرمی سے کہتے ہیں کہ ہم تو اسی راستے پر چلیں گے جس پر ہم نے اپنے باپ دادا کو پایا ہے۔ یعنی وہ اللہ کے حکم کو ٹھکرا کر اپنے آباء و اجداد کی تقلید کو ہی سب کچھ سمجھتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ اس پر ان کی گرفت کرتے ہوئے فرماتا ہے: کیا وہ اپنے باپ دادا کی پیروی کریں گے چاہے وہ باپ دادا کچھ بھی نہ سمجھتے ہوں، نہ انہیں دین کی سمجھ ہو اور نہ ہی وہ حق کی راہ پانے کی صلاحیت رکھتے ہوں؟ کیا اندھے کی اندھی تقلید عقل و دانش کا تقاضا ہے؟
یہ آیت ان لوگوں کے لیے ایک بڑی نصیحت ہے جو بغیر سوچے سمجھے اپنے بزرگوں کی تقلید کو ہی دین سمجھ لیتے ہیں۔ اسلام ہمیں سکھاتا ہے کہ ہمیں اپنے بزرگوں کا احترام ضرور کرنا چاہیے، لیکن حق اور سچائی کو ہمیشہ مقدم رکھنا چاہیے۔ اگر ہمارے بزرگ کسی غلط راستے پر ہیں تو ہمیں حق کی پیروی کرنی چاہیے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں عقل دی ہے تاکہ ہم سوچیں اور سمجھیں، اور قرآن کو اتارا ہے تاکہ ہم اس پر عمل کریں۔
یاد رکھیں! کامیابی اسی میں ہے کہ ہم اللہ کے حکم کو اپنے اوپر مقدم کریں، چاہے ہمارے معاشرے یا خاندان کے لوگ کچھ بھی کہیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں توفیق دے کہ ہم حق کو پہچانیں اور اس پر ثابت قدم رہیں۔ آمین۔
📜 آیت 168-172 — بقرہ
ترجمہ — بقرہ 170
سورہ آیت 170/286 — بقرہ البقرة (مدنی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: بقرہ سنیں, بقرہ ترجمہ, بقرہ mp3, بقرہ pdf. آیت 168–172. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








