Wa masalul lazeena kafaroo kamasalil lazee yan`iqu bimaa laa yasma`u illaa du`aaa`anw wa nidaaa`aa; summum bukmun `umyun fahum laa ya`qiloon
📖 ترجمہ (اردو ترجمہ)
📖 اردو ترجمہ
جو لوگ کافر ہیں ان کی مثال اس شخص کی سی ہے جو کسی ایسی چیز کو آواز دے جو پکار اور آواز کے سوا کچھ سن نہ سکے۔ (یہ) بہرے ہیں گونگے ہیں اندھے ہیں کہ (کچھ) سمجھ ہی نہیں سکتے
🌐 Additional reference in فارسی
🌐 فارسی
مَثَل كافران، مثَل حيوانى است كه كسى در گوش او آواز كند، و او جز بانگى و آوازى نشنود. اينان كرانند، لالانند، كورانند و هيچ درنمى يابند.
جو لوگ کافر ہیں ان کی مثال اس شخص کی سی ہے جو کسی ایسی چیز کو آواز دے جو پکار اور آواز کے سوا کچھ سن نہ سکے۔ (یہ) بہرے ہیں گونگے ہیں اندھے ہیں کہ (کچھ) سمجھ ہی نہیں سکتے
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
يَنْعِقُ: چرواہے کا جانوروں کو آواز دینا، انہیں بلانا یا ڈانٹنا۔
دُعَاءً وَنِدَاءً: صرف پکار اور آواز کی آواز، بغیر کسی مفہوم کے۔
صُمٌّ: بہرے، جو حق کی آواز سن کر بھی اسے قبول نہ کریں۔
بُكْمٌ: گونگے، جو حق بات نہ کہہ سکیں۔
عُمْيٌ: اندھے، جو حق کے دلائل نہ دیکھ سکیں۔
تفسیر:
یہ آیت ان لوگوں کی مثال بیان کرتی ہے جنہوں نے کفر اختیار کیا اور اپنے آباء و اجداد کی تقلید میں اندھی پیروی کی۔ ان کی حالت اس چرواہے جیسی ہے جو جانوروں کو پکارتا ہے، لیکن وہ جانور صرف آواز سنتے ہیں، اس کا مطلب نہیں سمجھتے۔ اسی طرح کافر لوگ نبی کریم ﷺ کی دعوت اور وعظ سنتے ہیں، لیکن ان کے دل اسے قبول نہیں کرتے، کیونکہ وہ حق سے اندھے، بہرے اور گونگے بن گئے ہیں۔ وہ عقل سے کام نہیں لیتے، ورنہ وہ سمجھ لیتے کہ یہ دعوت حق ہے۔ یہ مثال ان لوگوں کے لیے ہے جو اپنی عقل کو استعمال نہیں کرتے اور اپنے بزرگوں کی کورانہ تقلید پر جمے رہتے ہیں، حالانکہ ان کے پاس غور و فکر کا موقع ہے۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں سبق ملتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو عقل دی ہے تاکہ وہ حق و باطل میں تمیز کرے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم قرآن و سنت کی دعوت پر غور کریں اور اپنی عقل کو استعمال کریں، نہ کہ اندھی تقلید کریں۔ جو لوگ حق سن کر بھی اسے قبول نہیں کرتے، وہ جانوروں کی مانند ہیں، بلکہ ان سے بھی بدتر ہیں، کیونکہ جانور تو سمجھ نہیں سکتے، لیکن انسان کے پاس سمجھنے کی صلاحیت ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں توفیق دے کہ ہم اپنی عقل کو صحیح راستے پر استعمال کریں اور حق کو قبول کریں۔ آمین۔
اور جب ان لوگوں سے کہا جاتا ہے کہ جو (کتاب) خدا نے نازل فرمائی ہے اس کی پیروی کرو تو کہتے ہیں (نہیں) بلکہ ہم تو اسی چیز کی پیروی کریں گے جس پر ہم نے اپنے باپ دادا کو پایا۔ بھلا اگرچہ ان کے باپ دادا نہ کچھ سمجھتے ہوں اورنہ سیدھے رستے پر ہوں (تب بھی وہ انہیں کی تقلید کئے جائیں گے)
جو لوگ کافر ہیں ان کی مثال اس شخص کی سی ہے جو کسی ایسی چیز کو آواز دے جو پکار اور آواز کے سوا کچھ سن نہ سکے۔ (یہ) بہرے ہیں گونگے ہیں اندھے ہیں کہ (کچھ) سمجھ ہی نہیں سکتے
اس نے تم پر مرا ہوا جانور اور لہو اور سور کا گوشت اور جس چیز پر خدا کے سوا کسی اور کا نام پکارا جائے حرام کردیا ہے ہاں جو ناچار ہوجائے (بشرطیکہ) خدا کی نافرمانی نہ کرے اور حد (ضرورت) سے باہر نہ نکل جائے اس پر کچھ گناہ نہیں۔ بےشک خدا بخشنے والا (اور) رحم کرنے والا ہے
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔