وہ تو تم کو برائی اور بےحیائی ہی کے کام کرنے کو کہتا ہے اور یہ بھی کہ خدا کی نسبت ایسی باتیں کہو جن کا تمہیں (کچھ بھی) علم نہیں
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
السُّوء: گناہ، برائی، وہ کام جس کا انجام برا ہو۔
الْفَحْشَاءِ: انتہائی قبیح اور بڑا گناہ، بے حیائی اور بدکاری۔
أَن تَقُولُوا عَلَى اللَّهِ مَا لَا تَعْلَمُونَ: اللہ کے بارے میں بغیر علم کے جھوٹی باتیں کہنا، یعنی اللہ پر افتراء باندھنا۔
تفسیر:
اس آیتِ کریمہ میں اللہ تعالیٰ ہمیں شیطان کے حقیقی چہرے سے آگاہ فرما رہے ہیں تاکہ ہم اس کے دھوکے سے بچ سکیں۔ شیطان کا کام صرف یہ نہیں کہ وہ چھوٹے گناہوں کی ترغیب دے، بلکہ وہ تمہیں ہر اس کام کا حکم دیتا ہے جو تمہارے لیے نقصان دہ ہو، خواہ وہ دنیا میں ہو یا آخرت میں۔ وہ تمہیں برائی یعنی ہر اس گناہ کی طرف لے جاتا ہے جو تمہیں رنج و اندوہ میں مبتلا کرے، اور بے حیائی یعنی انتہائی قبیح اور شرمناک کاموں کی طرف، جیسے زنا، چوری، جھوٹ، غیبت اور ظلم۔
لیکن شیطان کا سب سے بڑا ہتھیار اور خطرناک ترین دھوکہ یہ ہے کہ وہ تمہیں اللہ کے بارے میں بغیر علم کے باتیں کہنے پر اکساتا ہے۔ یعنی لوگ اپنی طرف سے حلال کو حرام اور حرام کو حلال قرار دیتے ہیں، اللہ پر جھوٹے احکام چسپاں کرتے ہیں، اور اپنی من گھڑت روایات کو دین کا حصہ بنا دیتے ہیں۔ یہی وہ راستہ ہے جس سے پہلے امتیں گمراہ ہوئیں اور آج بھی بہت سے لوگ اسی دھوکے میں مبتلا ہیں۔
دعوتی پہلو:
پیارے بھائیو اور بہنو! اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں ہمیں شیطان کے عزائم سے آگاہ کیا ہے تاکہ ہم اس کے فریب سے محفوظ رہیں۔ یاد رکھیں، شیطان کبھی سیدھا راستہ نہیں دکھاتا، وہ ہمیشہ گھمبیر راستوں سے حملہ کرتا ہے۔ اس لیے ہمیں چاہیے کہ ہر معاملے میں قرآن و سنت کو معیار بنائیں، اپنے علم کی بنیاد پر دین میں نئی باتیں ایجاد نہ کریں، اور جو بات بھی اللہ سے منسوب کریں اس کا ثبوت کتاب و سنت سے پیش کریں۔ اگر ہم نے اپنے دین کو قرآن و سنت پر قائم رکھا تو شیطان ہمیں کبھی گمراہ نہیں کر سکتا، کیونکہ اللہ نے فرمایا: "بے شک جو لوگ کہتے ہیں ہمارا رب اللہ ہے، پھر اس پر ثابت قدم رہتے ہیں، ان پر فرشتے نازل ہوتے ہیں" (سورۃ فصلت: 30)۔ اللہ ہمیں شیطان کے شر سے محفوظ رکھے اور سیدھے راستے پر چلنے کی توفیق دے۔ آمین۔
(یہ حال دیکھ کر) پیروی کرنے والے (حسرت سے) کہیں گے کہ اے کاش ہمیں پھر دنیا میں جانا نصیب ہو تاکہ جس طرح یہ ہم سے بیزار ہو رہے ہیں اسی طرح ہم بھی ان سے بیزار ہوں۔ اسی طرح خدا ان کے اعمال انہیں حسرت بنا کر دکھائے گااور وہ دوزخ سے نکل نہیں سکیں گے
اور جب ان لوگوں سے کہا جاتا ہے کہ جو (کتاب) خدا نے نازل فرمائی ہے اس کی پیروی کرو تو کہتے ہیں (نہیں) بلکہ ہم تو اسی چیز کی پیروی کریں گے جس پر ہم نے اپنے باپ دادا کو پایا۔ بھلا اگرچہ ان کے باپ دادا نہ کچھ سمجھتے ہوں اورنہ سیدھے رستے پر ہوں (تب بھی وہ انہیں کی تقلید کئے جائیں گے)
جو لوگ کافر ہیں ان کی مثال اس شخص کی سی ہے جو کسی ایسی چیز کو آواز دے جو پکار اور آواز کے سوا کچھ سن نہ سکے۔ (یہ) بہرے ہیں گونگے ہیں اندھے ہیں کہ (کچھ) سمجھ ہی نہیں سکتے
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔