Fail lam taf`aloo faazanoo biharbim minal laahi wa Rasoolihee wa in tubtum falakum ru`oosu amwaalikum laa tazlimoona wa laa tuzlamoon
📖 ترجمہ (اردو ترجمہ)
📖 اردو ترجمہ
اگر ایسا نہ کرو گے تو خبردار ہوجاؤ (کہ تم) خدا اور رسول سے جنگ کرنے کے لئے (تیار ہوتے ہو) اور اگر توبہ کرلو گے (اور سود چھوڑ دو گے) تو تم کو اپنی اصل رقم لینے کا حق ہے جس میں نہ اوروں کا نقصان اور تمہارا نقصان
🌐 Additional reference in فارسی
🌐 فارسی
و هرگاه چنين نكنيد، پس جنگ با خدا و رسول او را اعلام كنيد. و اگر توبه كنيد، اصل سرمايه از آن شماست. در اين حال نه ستم كردهايد و نه تن به ستم دادهايد.
اگر ایسا نہ کرو گے تو خبردار ہوجاؤ (کہ تم) خدا اور رسول سے جنگ کرنے کے لئے (تیار ہوتے ہو) اور اگر توبہ کرلو گے (اور سود چھوڑ دو گے) تو تم کو اپنی اصل رقم لینے کا حق ہے جس میں نہ اوروں کا نقصان اور تمہارا نقصان
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
فَأْذَنُوا: علم و یقین کرو، یا سن لو۔
بِحَرْبٍ مِّنَ اللہِ وَرَسُوْلِہٖ: اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے جنگ (یعنی اعلانِ جنگ)۔
رُؤُوْسُ أَمْوَالِکُمْ: تمہارے اصل سرمایے (جو تم نے قرض دیا تھا)۔
لَا تَظْلِمُوْنَ: تم کسی پر ظلم نہ کرو (یعنی اصل سے زیادہ نہ لو)۔
وَلَا تُظْلَمُوْنَ: اور تم پر بھی ظلم نہ کیا جائے (یعنی تمہارا اصل سرمایہ کم نہ کیا جائے)۔
تفسیر:
اے ایمان والو! اگر تم نے اللہ اور اس کے رسول کے حکم کے مطابق سود چھوڑنے سے انکار کیا اور اپنی ضد پر اڑے رہے، تو پھر اس کا نتیجہ یہ ہے کہ تم اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے اعلانِ جنگ کے لیے تیار ہو جاؤ۔ یہ کوئی معمولی بات نہیں، بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ تم نے اللہ تعالیٰ سے مقابلہ کرنے کی جسارت کی، جو کہ انتہائی خطرناک اور تباہ کن انجام کا باعث ہے۔ اللہ اور اس کے رسول کی جنگ کا مطلب ہے کہ دنیا میں ذلت و رسوائی اور آخرت میں عذابِ الیم۔
لیکن اگر تم سود چھوڑ کر توبہ کر لو، اور اپنے قرض داروں سے صرف اپنا اصل سرمایہ لینے پر راضی ہو جاؤ، تو یہ تمہارے لیے بہتر ہے۔ تمہارا حق صرف اتنا ہے جتنا تم نے قرض دیا تھا، نہ اس سے زیادہ لے کر کسی پر ظلم کرو، اور نہ ہی تمہارے ساتھ ظلم کیا جائے کہ تمہارا اصل سرمایہ کم کر دیا جائے۔ یہ ایک منصفانہ اور عادلانہ اصول ہے جو اللہ نے مقرر کیا ہے۔
دعوتی پہلو:
اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے سود کی مذمت میں انتہائی سخت وعید سنائی ہے، تاکہ مسلمان اس حرام کام سے بچیں اور اپنے معاملات کو اللہ کے حکم کے مطابق چلائیں۔ سود معاشرے میں ظلم، نفرت اور استحصال کو جنم دیتا ہے، جبکہ اللہ نے حلال تجارت اور قرضِ حسنہ کو برکت والا بنایا ہے۔ اگر آپ نے کبھی سود کا معاملہ کیا ہے تو آج ہی توبہ کریں، اللہ توبہ کرنے والوں کو بہت پسند کرتا ہے اور ان کے گناہ معاف کر دیتا ہے۔ یاد رکھیں، اللہ کی رحمت اس کے عذاب سے کہیں زیادہ وسیع ہے، لیکن اس کا حکم ماننا ہی کامیابی کا راستہ ہے۔ اپنے معاملات کو صاف اور حلال رکھیں، کیونکہ حلال روزی میں برکت ہوتی ہے اور حرام روزی برکت کو ختم کر دیتی ہے۔
جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کرتے اور نماز پڑھتے اور زکوٰة دیتے رہے ان کو ان کے کاموں کا صلہ خدا کے ہاں ملے گا اور (قیامت کے دن) ان کو نہ کچھ خوف ہوا اور نہ وہ غمناک ہوں گے
اگر ایسا نہ کرو گے تو خبردار ہوجاؤ (کہ تم) خدا اور رسول سے جنگ کرنے کے لئے (تیار ہوتے ہو) اور اگر توبہ کرلو گے (اور سود چھوڑ دو گے) تو تم کو اپنی اصل رقم لینے کا حق ہے جس میں نہ اوروں کا نقصان اور تمہارا نقصان
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔