بقرہ · 278/286
ترجمہ تلفظ — بقرہ
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَذَرُوا مَا بَقِيَ مِنَ الرِّبَا إِن كُنتُم مُّؤْمِنِينَ ۝٢٧٨
Yaaa ayyuhal lazeena aamanut taqul laaha wa zaroo maa baqiya minar ribaaa in kuntum mu`mineen
📖 اردو ترجمہ
مومنو! خدا سے ڈرو اور اگر ایمان رکھتے ہو تو جتنا سود باقی رہ گیا ہے اس کو چھوڑ دو
📜

ترجمہ — Tafsir

معانی الفاظ:

  • اتَّقُوا اللہ: اللہ سے ڈرو، اس کے احکام کی تعمیل کرو اور اس کے منع کردہ کاموں سے بچو۔
  • وَذَرُوا: چھوڑ دو، ترک کر دو۔
  • مَا بَقِيَ مِنَ الرِّبَا: جو سود تمہارے قرض داروں کے ذمے باقی رہ گیا ہے (یعنی سود کا وہ حصہ جو تحریمِ سود سے پہلے جمع ہو چکا تھا، اسے وصول نہ کرو
  • إِن كُنتُم مُّؤْمِنِينَ: اگر تم سچے دل سے ایمان رکھتے ہو۔

تفسیر:

اے ایمان والو! اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور اپنے ایمان کا عملی ثبوت پیش کرو۔ جب سود حرام قرار دے دیا گیا ہے تو اب جو کچھ سود کی مد میں لوگوں کے ذمے باقی رہ گیا ہے، اسے چھوڑ دو اور اس کا مطالبہ نہ کرو۔ تمہارے لیے صرف اپنی اصل رقم (راس المال) واپس لینا جائز ہے۔ یہ حکم اس بات کا تقاضا ہے کہ اگر تم واقعی اللہ اور اس کے رسول پر ایمان رکھتے ہو تو اللہ کے احکام کو بلا چون و چرا قبول کرو، چاہے وہ تمہارے دنیاوی مفاد کے خلاف ہی کیوں نہ ہوں۔

یہ آیت مومن کے دل کو جھنجھوڑتی ہے کہ ایمان صرف زبان کا اقرار نہیں، بلکہ دل کا یقین اور اعمال کی پابندی ہے۔ جو شخص سود کی حرمت پر ایمان رکھتا ہے، اس کے لیے سود کا کوئی بھی معاملہ، خواہ وہ پہلے کا ہو یا بعد کا، ترک کرنا ضروری ہے۔ اللہ تعالیٰ نے سود کو اس لیے حرام کیا کہ معاشرے میں محبت اور ہمدردی قائم رہے، امیر غریب کا استحصال نہ کرے، اور معاشی نظام عدل و انصاف پر چلے۔

دعوتی پہلو:

پیارے بھائیو اور بہنو! یہ آیت ہمیں سکھاتی ہے کہ اللہ کی اطاعت میں کسی بھی قسم کی دنیاوی رغبت یا لالچ حائل نہیں ہونی چاہیے۔ جب اللہ نے کسی چیز کو حرام قرار دے دیا تو اسے ترک کرنا ہی مومن کی شان ہے۔ سود سے توبہ کرنے والوں کے لیے اللہ نے یہ خوشخبری دی ہے کہ وہ اپنی اصل رقم لے سکتے ہیں، ظلم نہ کریں اور ظلم برداشت نہ کریں۔ یہ اسلام کا عادلانہ نظام ہے جو ہر طرف انصاف اور رحمت کا درس دیتا ہے۔ اللہ سے ڈرو، اس کے احکام کو اپنے اوپر مقدم کرو، اور دنیا کی معمولی سی کمائی کو آخرت کی ابدی کامیابی پر ترجیح نہ دو۔ یاد رکھو، اللہ کی برکت حلال روزی میں ہے، حرام مال میں برکت نہیں ہوتی۔ جو شخص سود چھوڑ دے گا، اللہ اسے حلال اور پاکیزہ ذرائع سے بہتر عطا فرمائے گا۔

🎧 سنیں

📜 آیت 276-280 — بقرہ

276يَمْحَقُ اللَّهُ الرِّبَا وَيُرْبِي الصَّدَقَاتِ ۗ وَاللَّهُ لَا يُحِبُّ كُلَّ كَفَّارٍ أَثِيمٍ
خدا سود کو نابود (یعنی بےبرکت) کرتا اور خیرات (کی برکت) کو بڑھاتا ہے اور خدا کسی ناشکرے گنہگار کو دوست نہیں رکھتا
277إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ وَأَقَامُوا الصَّلَاةَ وَآتَوُا الزَّكَاةَ لَهُمْ أَجْرُهُمْ عِندَ رَبِّهِمْ وَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ
جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کرتے اور نماز پڑھتے اور زکوٰة دیتے رہے ان کو ان کے کاموں کا صلہ خدا کے ہاں ملے گا اور (قیامت کے دن) ان کو نہ کچھ خوف ہوا اور نہ وہ غمناک ہوں گے
278يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَذَرُوا مَا بَقِيَ مِنَ الرِّبَا إِن كُنتُم مُّؤْمِنِينَ
مومنو! خدا سے ڈرو اور اگر ایمان رکھتے ہو تو جتنا سود باقی رہ گیا ہے اس کو چھوڑ دو
279فَإِن لَّمْ تَفْعَلُوا فَأْذَنُوا بِحَرْبٍ مِّنَ اللَّهِ وَرَسُولِهِ ۖ وَإِن تُبْتُمْ فَلَكُمْ رُءُوسُ أَمْوَالِكُمْ لَا تَظْلِمُونَ وَلَا تُظْلَمُونَ
اگر ایسا نہ کرو گے تو خبردار ہوجاؤ (کہ تم) خدا اور رسول سے جنگ کرنے کے لئے (تیار ہوتے ہو) اور اگر توبہ کرلو گے (اور سود چھوڑ دو گے) تو تم کو اپنی اصل رقم لینے کا حق ہے جس میں نہ اوروں کا نقصان اور تمہارا نقصان
280وَإِن كَانَ ذُو عُسْرَةٍ فَنَظِرَةٌ إِلَىٰ مَيْسَرَةٍ ۚ وَأَن تَصَدَّقُوا خَيْرٌ لَّكُمْ ۖ إِن كُنتُمْ تَعْلَمُونَ
اور اگر قرض لینے والا تنگ دست ہو تو (اسے) کشائش (کے حاصل ہونے) تک مہلت (دو) اور اگر (زر قرض) بخش ہی دو توتمہارے لئے زیادہ اچھا ہے بشرطیکہ سمجھو
بقرہقرآن فہرست
286آیت
مدنیRevelation
278آیت

ترجمہ — بقرہ 278

سورہ بقرہ آیت 278 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : مومنو! خدا سے ڈرو اور اگر ایمان رکھتے ہو تو…

سورہ آیت 278/286 — بقرہ البقرة (مدنی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: بقرہ سنیں, بقرہ ترجمہ, بقرہ mp3, بقرہ pdf. آیت 276–280. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں