بقرہ · 33/286
ترجمہ تلفظ — بقرہ
قَالَ يَٰٓـَٔادَمُ أَنۢبِئۡهُم بِأَسۡمَآئِهِمۡۖ فَلَمَّآ أَنۢبَأَهُم بِأَسۡمَآئِهِمۡ قَالَ أَلَمۡ أَقُل لَّكُمۡ إِنِّيٓ أَعۡلَمُ غَيۡبَ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضِ وَأَعۡلَمُ مَا تُبۡدُونَ وَمَا كُنتُمۡ تَكۡتُمُونَ  ۝٣٣
Qaala yaaa Aadamu ambi` hum biasmaaa`ihimfalammaaa amba ahum bi asmaaa`ihim qaala alam aqul lakum inneee a`lamu ghaibas samaawaati wal ardi wa a`lamu maa tubdoona wa maa kuntum taktumoon
📖 اردو ترجمہ
(تب) خدا نے (آدم کو) حکم دیا کہ آدم! تم ان کو ان (چیزوں) کے نام بتاؤ۔ جب انہوں نے ان کو ان کے نام بتائے تو (فرشتوں سے) فرمایا کیوں میں نے تم سے نہیں کہا تھا کہ میں آسمانوں اور زمین کی (سب) پوشیدہ باتیں جاتنا ہوں اور جو تم ظاہر کرتے ہو اور جو پوشیدہ کرتے ہو (سب) مجھ کو معلوم ہے
📜

ترجمہ — Tafsir

معانی الفاظ:

  • أَنبِئْهُم: انہیں خبر دو، بتاؤ۔
  • بِأَسْمَائِهِمْ: ان چیزوں کے ناموں کے ساتھ۔
  • غَيْبَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ: آسمانوں اور زمین کا پوشیدہ علم، جو تم سے چھپا ہوا ہے۔
  • مَا تُبْدُونَ: جو کچھ تم ظاہر کرتے ہو۔
  • مَا كُنتُمْ تَكْتُمُونَ: جو کچھ تم چھپاتے تھے (اپنے دلوں میں رکھتے تھے

تفسیر:

جب اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو آدم علیہ السلام کے علم و فضل سے آگاہ کیا اور انہیں یہ باور کرایا کہ آدم کو اشیاء کے نام سکھائے گئے ہیں، تو اب اس حقیقت کو عملی طور پر ثابت کرنے کے لیے اللہ نے آدم علیہ السلام سے فرمایا: "اے آدم! تم ان فرشتوں کو ان چیزوں کے نام بتاؤ۔" چنانچہ آدم علیہ السلام نے اپنے رب کی تعلیم کے مطابق ہر چیز کا نام بتا دیا، خواہ وہ آسمانوں کی مخلوق ہو یا زمین کی، چھوٹی ہو یا بڑی۔ جب آدم علیہ السلام نے یہ سب کچھ بیان کر دیا، تو اللہ تعالیٰ نے فرشتوں سے فرمایا: "کیا میں نے تم سے نہیں کہا تھا کہ میں آسمانوں اور زمین کے تمام پوشیدہ رازوں کو جانتا ہوں؟ میں وہ سب کچھ جانتا ہوں جو تم ظاہر کرتے ہو اور وہ بھی جانتا ہوں جو تم اپنے دلوں میں چھپاتے ہو۔"

یہاں اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو ان کے اس قول پر متنبہ کیا جو انہوں نے پہلے کہا تھا: "کیا تو زمین میں ایسے لوگوں کو پیدا کرے گا جو فساد کریں گے اور خون بہائیں گے؟" (سورۃ البقرہ: 30)۔ گویا اللہ نے انہیں یاد دلایا کہ تمہارے اس اعتراض میں بھی ایک پوشیدہ پہلو تھا، اور اللہ اسے بھی جانتا تھا۔

دعوتی پہلو:

اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے انسان کی عظمت اور شرافت کو واضح کیا ہے کہ انسان کو علم سکھا کر فرشتوں پر فضیلت دی گئی۔ یہ ہمارے لیے بہت بڑی خوشخبری ہے کہ علم حاصل کرنا انسان کا اعزاز ہے، اور جس نے علم حاصل کیا وہ اللہ کے نزدیک بلند مرتبہ ہوا۔ اسی لیے ہمیں چاہیے کہ ہم علم دین اور علم دنیا دونوں حاصل کریں، کیونکہ علم ہی وہ چیز ہے جو انسان کو اللہ کے قریب کرتا ہے اور اسے دوسری مخلوق سے افضل بناتا ہے۔

اس آیت سے ہمیں یہ بھی سبق ملتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمارے ظاہر اور باطن سب کچھ جانتا ہے، ہمارے دلوں کے راز بھی اس پر روشن ہیں۔ اس لیے ہمیں اپنے دلوں کو پاک رکھنا چاہیے، نیتوں کو درست کرنا چاہیے، اور ہر عمل میں اللہ کی رضا کو پیش نظر رکھنا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں علم نافع عطا فرمائے اور ہمارے دلوں کو اخلاص سے بھر دے۔ آمین۔

🎧 سنیں

📜 آیت 31-35 — بقرہ

31وَعَلَّمَ ءَادَمَ ٱلۡأَسۡمَآءَ كُلَّهَا ثُمَّ عَرَضَهُمۡ عَلَى ٱلۡمَلَٰٓئِكَةِ فَقَالَ أَنۢبِـُٔونِي بِأَسۡمَآءِ هَٰٓؤُلَآءِ إِن كُنتُمۡ صَٰدِقِينَ 
اور اس نے آدم کو سب (چیزوں کے) نام سکھائے پھر ان کو فرشتوں کے سامنے کیا اور فرمایا کہ اگر تم سچے ہو تو مجھے ان کے نام بتاؤ
32قَالُواْ سُبۡحَٰنَكَ لَا عِلۡمَ لَنَآ إِلَّا مَا عَلَّمۡتَنَآۖ إِنَّكَ أَنتَ ٱلۡعَلِيمُ ٱلۡحَكِيمُ 
انہوں نے کہا، تو پاک ہے۔ جتنا علم تو نے ہمیں بخشا ہے، اس کے سوا ہمیں کچھ معلوم نہیں۔ بے شک تو دانا (اور) حکمت والا ہے
33قَالَ يَٰٓـَٔادَمُ أَنۢبِئۡهُم بِأَسۡمَآئِهِمۡۖ فَلَمَّآ أَنۢبَأَهُم بِأَسۡمَآئِهِمۡ قَالَ أَلَمۡ أَقُل لَّكُمۡ إِنِّيٓ أَعۡلَمُ غَيۡبَ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضِ وَأَعۡلَمُ مَا تُبۡدُونَ وَمَا كُنتُمۡ تَكۡتُمُونَ 
(تب) خدا نے (آدم کو) حکم دیا کہ آدم! تم ان کو ان (چیزوں) کے نام بتاؤ۔ جب انہوں نے ان کو ان کے نام بتائے تو (فرشتوں سے) فرمایا کیوں میں نے تم سے نہیں کہا تھا کہ میں آسمانوں اور زمین کی (سب) پوشیدہ باتیں جاتنا ہوں اور جو تم ظاہر کرتے ہو اور جو پوشیدہ کرتے ہو (سب) مجھ کو معلوم ہے
34وَإِذۡ قُلۡنَا لِلۡمَلَٰٓئِكَةِ ٱسۡجُدُواْ لِأٓدَمَ فَسَجَدُوٓاْ إِلَّآ إِبۡلِيسَ أَبَىٰ وَٱسۡتَكۡبَرَ وَكَانَ مِنَ ٱلۡكَٰفِرِينَ 
اور جب ہم نے فرشتوں کو حکم دیا کہ آدم کے آگے سجدہ کرو تو وہ سجدے میں گر پڑے مگر شیطان نے انکار کیا اور غرور میں آکر کافر بن گیا
35وَقُلۡنَا يَٰٓـَٔادَمُ ٱسۡكُنۡ أَنتَ وَزَوۡجُكَ ٱلۡجَنَّةَ وَكُلَا مِنۡهَا رَغَدًا حَيۡثُ شِئۡتُمَا وَلَا تَقۡرَبَا هَٰذِهِ ٱلشَّجَرَةَ فَتَكُونَا مِنَ ٱلظَّٰلِمِينَ 
اور ہم نے کہا کہ اے آدم تم اور تمہاری بیوی بہشت میں رہو اور جہاں سے چاہو بے روک ٹوک کھاؤ (پیو) لیکن اس درخت کے پاس نہ جانا نہیں تو ظالموں میں (داخل) ہو جاؤ گے
بقرہقرآن فہرست
286آیت
مدنیRevelation
33آیت

ترجمہ — بقرہ 33

سورہ آیت 33/286 — بقرہ البقرة (مدنی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: بقرہ سنیں, بقرہ ترجمہ, بقرہ mp3, بقرہ pdf. آیت 31–35. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں